ہمارا وعدہ

ہمارا وعدہ

فتویٰ اور مفتی کی ضرورت

فتویٰ اور مفتی کی ضرورت

فتویٰ کا دائرہ کار

فتویٰ کا دائرہ کار

ہمارا مقصد

ہمارا مقصد

فتوی کیا ہے

فتوی کیا ہے

دارالافتاء جامعۃ الرشید

دارالافتاء جامعۃ الرشید

تعارف

المفتی آن لائن ملک کے معروف دینی و تعلیمی ادارہ جامعۃ الرشید کے شعبہ دارالافتاء کی نمائندہ ویب سائٹ ہے۔ دارالافتاء کہنے کو تو جامعۃ الرشید کا ایک ذیلی شعبہ ہے، لیکن درحقیقت یہ شعبہ جامعہ کی اساس ہے، اس لیے کہ جامعۃ الرشیددرحقیقت "دارالافتاء والارشاد”  ہی سے پھوٹا ہوا ایک چشمہ ہے

دارالافتاء والا رشاد ناظم آباد کے بانی حضرت فقیہ العصر مفتی اعظم مفتی رشید احمد صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ نے اپنے شیخ حضرت اقدس مولانا شاہ عبدالغنی پھولپوری رحمہ اللہ تعالیٰ کی خواہش پر رمضان 1383ھ بمطابق جنوری 1964ء میں حضرت پھولپوری رحمہ اللہ تعالیٰ کی خانقاہ میں ایک ایسا کام شروع کیا جو اس وقت باقاعدہ نظم کے ساتھ نہیں ہوتا تھا۔ پہلے یہ ہوتا تھا کہ فارغ التحصیل علماء میں سے باذوق اور ذی استعداد حضرات اپنے اپنے اداروںمیں بڑے مفتی صاحبان کے ساتھ کام کرتے اور رفتہ رفتہ فتویٰ نویسی سیکھتے تھے، لیکن باقاعدہ طور پر تمرین افتاء کا بحیثیت ایک مستقل ادارہ کوئی انتظام نہیں ہوتا تھا۔ حضرت والا رحمہ اللہ تعالیٰ نے محض تو کلاً علی اللہ فارغ التحصیل علماء کے لیے باقاعدہ تمرین افتاء اور تزکیہ واصلاح کے مستقل شعبے کی بنیاد ڈالی اور اسی مناسبت سے اس ادارے کا نام” دارالافتاء والارشاد“ رکھا،جس نے علماء، طلبہ اور عوام میں علمی رسوخ اور تصلب فی الدین کے حوالے سے اونچا مقام پایا اور پھرجب دارالافتاء والارشاد کے کام میں وسعت پیدا ہوئی تو جامعۃ الرشید کا قیام عمل میں آیا۔ جامعۃ الرشید کے اسی پس منظر کی روشنی میں جامعہ میں تخصص فی الفقہ والافتاء کا خصوصی اہتمام ہوتا ہے۔

فقیہ العصر حضرت مفتی رشید احمد لدھیانوی رحمہ اللہ تعالیٰ کی شخصیت علمی حلقوں میں محتاج تعارف نہیں، عوام میں بھی ایک بہت بڑا طبقہ حضرت مفتی صاحب سے واقف ہے۔ حضرت مفتی رشید احمد لدھیانوی رحمہ اللہ اس دور کے نابغہ علماء کی فہرست میں بہت اونچا مقام رکھتے تھے، ان کی خداداد صلاحیتیں بے مثال تھیں، انہیں اپنے دور کے مایۂ ناز اساتذہ اور مرجع خاص و عام مشائخ سے استفادہ کا موقع ملا تھا، آپ کے علمی رسوخ اور استعداد کی نظیر آپ کے معاصرین میں نہیں ملتی، تقویٰ، تصلب اور علوم دین کی ترویج میں غیر معمولی اور غیر روایتی خدمات کی بدولت علمی حلقوں میں آپ کا نام بطورِ ایک مجدد معروف ہے۔
حضرت مفتی رشید احمد لدھیانوی رحمہ اللہ تعالیٰ کو اللہ تعالیٰ نے اصلاحِ باطن اور تزکیہ نفس کی عظیم نعمت سے نوازا تھا، حضرت کے ہاں علمی و تحقیقی کاموں کے ساتھ ساتھ اپنے متعلقین کی باطنی اور روحانی تربیت کا بھی غیر معمولی اہتمام تھا۔
دینی علوم میں مہارت اور گہری استعداد تو مسلم تھی ہی، دنیوی علوم، فلکیات، تخریج اوقات اور حساب وریاضی میں بھی حضرت، ماہرین کی فہرست میں سب سے اونچے مقام پر فائز تھے۔

حضرت والا رحمہ اللہ تعالیٰ کے آباوؑاجداد کا تعلق لدھیانہ (مشرقی پنجاب، بھارت) سے ہے، آپ کے والد ماجد مولانا محمد سلیم صاحب حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ کے مریدان خاص میں سے تھے، لدھیانہ سے فیصل آباد، پھر ملتان آئے، یہیں حضرت والا کی ولادت بروزِ منگل 4صفر 1341ھ بمطابق 26 ستمبر 1922ء کو ہوئی۔ آپ نے ابتدائی تعلیم گھوٹہ شریف ملتان اور جہانگیرآباد ضلع فیصل آباد میں حاصل کی، بعد میں آپ کے والد بسلسلۂ  زمینداری ضلع خیر پور سندھ آئے، حضرت نے علومِ عربیہ سندھ کی مختلف درس گاہوں میں حاصل کیے، اس دور میں سندھ میں علوم و فنون کے مایۂ ناز اساتذہ پڑھاتے تھے۔

شوال 1359ھ بمطابق نومبر 1940ء میں آپ معقولات کی مشہور درسگاہ انّھی (ضلع گجرات پنجاب) تشریف لے گئے جہاں حضرت مولانا ولی اللہ صاحب رحمہ اللہ فنون کی اونچی کتابیں پڑھاتے تھے۔ اس ایک سال میں آپ نے جتنی کتابیں پڑھیں انہیں آج کل کا طالب علم کم از کم تین سال میں پورا کرسکے گا۔ اس سال مندرجہ ذیل کتب پڑھیں:
ملاجلال مع حاشیہ میر زاہد، رسالہ قطبیہ مع حاشیہ میر زاہد و غلام یحییٰ، قاضی مبارک، حمداللہ، شرح مواقف مع حاشیہ میر زاہد، شرح عقائد عضدی، شرح اشارات، صدرا، شمس بازغہ، الدوحۃالمیادۃ، تصریح، شرح چغمینی، بست باب، السبع الشداد، ربع مجیّب، ربع مقنطر، اکرثاؤذوسیوس، اکرمناظر، کرہ متحرکہ، توضیح تلویح،مسلم الثبوت، ان کے علاوہ مشکوٰۃ، بیضاوی ہدایہ آخرین، السبع المعلقات اور مقامات کا طلبہ کے ساتھ تکرار کیا۔

1360ھ بمطابق 1942ء میں دارالعلوم دیوبند میں دوره حدیث کے لیے داخل ہوئے، آپ نے دارالعلوم دیوبند میں حضرت مولانا حسین احمد مدنی، مولانا اعزاز علی، مفتی محمد شفیع دیوبندی، مولانا ادریس کاندھلوی، مولانا محمد ابراہیم بلیاوی رحمہم اللہ تعالیٰ اور دوسرے مشاہیر سے دورۂ حدیث کی کتابیں پڑھیں۔

حضرت رحمہ اللہ شیخ الاسلام حضرت مدنی رحمہ اللہ سے بیعت ہوئے، ان کے انتقال کے بعد حضرت مفتی محمد حسن امرتسری سے بیعت ہوئے، آخر میں حضرت پھولپوری رحمہ اللہ سے بیعت ہوئے۔

حضرت والا کی تدریس کا سلسلہ 1362ھ بمطابق 1943ء میں مدینۃ العلوم بھینڈ و ضلع حیدرآباد سندھ سے شروع ہوا۔ بحیثیت مدرس درجات علیا آپ کا تقرر ہوا۔ 1364ھ بمطابق 1945ء میں آپ کو صدر مدرس بنادیا گیا اور اسی سال سے بخاری شریف اور دیگر کتب حدیث کی تدریس بھی شروع کی۔

1370ھ بمطابق 1950ء میں حضرت والا بحیثیت شیخ الحدیث وصدر مفتی جامعہ دارلہدیٰ ٹھیڑھی (ضلع خیر پور، سندھ) تشریف لے گئے، صحیح بخاری و دیگر علوم و فنون کے تقریباً آٹھ اسباق پڑھانے کا معمول تھا، اس کے ساتھ ساتھ دارالافتاء کی مکمل ذمہ داریاں بھی سنبھالتے تھے۔

شوال 1376ھ بمطابق 1957ء میں حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ کی فرمائش پر آپ بحیثیت شیخ الحدیث دارالعلوم کراچی تشریف لائے اور شعبان1383ھ بمطابق جنوری 1964ء تک دارالعلوم میں رہے۔
1364ھ سے 1383ھ بمطابق 1945ء سے 1964ء تک ہر سال آپ نے صحیح بخاری پڑھائی۔ شروع میں دارالعلوم کی نظامت تعلیم کی ذمہ داری بھی آپ کے سپرد ہوئی، مگر کچھ عرصہ بعد آپ نے اسے علمی خدمات میں مخل سمجھ کرترک کردیا۔

ویسے تو 1362 ھ 1943ء سے ہی حضرت والا کا تعلق فتاویٰ نویسی سے رہا لیکن 1366ھ 1947ء سے دارالافتاء کی مکمل ذمہ داریاں حضرت والا کے سپرد ہوئیں، 1370ھ 1951ء تک حضرت کے ہاتھ سے جو فتاوی صادر ہوئے ان کے جمع و ضبط کا کوئی انتظام نہ ہوسکا، سوائے چند گنتی کے فتاوی کے جن کی نقل محفوظ رکھی گئی، اس قلیل مدت میں آپ کی شان تحقیق اور تعمقِ نظر کو اس قدر شہرت حاصل ہوگئی کہ بیرون مُلک کے علماء بھی مشکل مسائل میں آپ کی طرف رجوع کرنے لگے، آپ ہر قسم کے فتاوی کے لئے مرجع خاص و عوام بن گئے، علماء کے ہاں پیچیدہ مسائل، فیصلے کے لئے حضرت کے پاس آنے لگے۔
اس کے بعد دارالعلوم کراچی میں اگرچہ دارالافتاء کی مستقل ذمہ داری آپ پر نہ تھی، تاہم زیادہ اہم اور پیچیدہ مسائل کی تحریر آپ ہی کے سپرد کی جاتی تھی۔

حضرت مفتی رشید احمد لدھیانوی رحمہ اللہ تعالیٰ نے جو ادارہ قائم کیا اس میں دو الگ نوعیتوں کے کام ہوتے تھے، یعنی افتاء و ارشاد، ان دونوں کاموں میں حضرت کا مزاج مختلف تھا، فقہ و فتویٰ اور مسائل شرع کی تحقیق کے میدان میں حضرت کا مزاج گہری تحقیق، پختہ استدلال اور تعمق کے ساتھ ساتھ بے جا پیچیدگیوں اور باریکیوں سے اجتناب کا تھا، حضرت اس بات کی کوشش فرماتے تھے کہ مسئلہ کی تہ تک پہنچیں اور واقعات کا صحیح تجزیہ کر کے ان پر احکام منطبق کریں، لیکن اس عمل میں وہ راستہ اختیار کرنے سے پرہیز کیا جائے جس سے لوگوں کے لیے حرج یا تنگی پیدا ہو جو شریعت کا مقصود نہیں، مسائل و معاملات میں آسان قول اختیار کرنے کی کئی مثالیں احسن الفتاویٰ میں موجود ہیں۔ جہاں حضرت نے فقہ حنفی میں مشہور قول کے ساتھ ساتھ دوسرا قول بھی ذکر کر دیا ہے۔ حضرت نے کئی جگہ لکھا ہے کہ اس بارے میں دونوں اقوال موجود ہیں، ایک قول احتیاط پر مبنی ہے، دوسرے میں سہولت زیادہ ہے۔ مثلاً قربانی کی نیت سے جانور خریدنے کے بارے میں مشہور قول یہ ہے کہ خریدنے سے فقیر پر اس کی قربانی لازم ہوجاتی ہے، نیز اس کا بدلنا جائز نہیں، جبکہ دوسرا قول یہ ہے کہ بدلنا بھی جائز ہے اور خریدنے سے قربانی لازم بھی نہیں ہوتی۔ اسی طرح کئی مرتبہ قسم کھانے پر متعدد کفارے لازم ہوں گے یا صرف ایک؟ اس میں بھی دونوں قول ذکر کیے ہیں۔
پھلوں کی خرید و فروخت میں ابتلاء عام اور حرج کے دفعیہ کے لیے حضرت نے مروّجہ بیوع کی کسی نہ کسی تاویل سے گنجائش دینے کی اَز حد کوشش فرمائی ہے۔
یہ وہ معاملات ہیں جہاں سہولت دینے سے کسی حکم شرعی کا مقصد فوت نہیں ہوتا اور آسان قول لینے سے کسی ناجائز بات کا خدشہ پیدا نہیں ہوتا، البتہ اگر کہیں کسی معاملے میں چھوٹ دینے سے گناہ کا راستہ کھل جانے کا خطرہ ہو تو وہاں آپ کے ہاں سد الذریعہ کے اُصول کی بناء پر قولِ احوط ہی کو لیا جاتا ہے۔ وہاں نرمی چونکہ مضر ہے، اس لیے ایسے مواقع پر آپ رخصت کے قائل نہیں تھے اور یہی فقہاء کے مسلمہ اُصولوں کا تقاضا بھی ہے۔
منکرات (ناجائز اُمور) کے خطرناک پھیلائو کے پیش نظر حضرت کے بعض بیانات اور اسی نوعیت کے فتاویٰ میں قدرے سختی معلوم ہوتی ہے، اس کی بنیاد یہی ہے کہ جہاں کسی ناجائز اور حرام کا ارتکاب ہو رہا ہو یا کوئی عمل کسی حرام کام کا ذریعہ بن سکتا ہو تو وہاں معمول سے ہٹ کر جواب دیا جاتا ہے اور یہ انداز موقع کا تقاضا ہوتا ہے، قرآن پاک اور احادیث رسول ﷺ میں مختلف مواقع میں مختلف اسلوب بیان اختیار کیا گیا ہے۔ حضرت کے علمی افادات کا مطالعہ کرنے والوں کے سامنے حضرت کے مزاج کا تنوع اور اس کا یہ پس منظر رہنا چاہیے۔

حضرت مفتی رشید احمد لدھیانوی رحمہ اللہ تعالیٰ کی ہمہ جہت شخصیت میں علوم شریعت کے اندر تعمق و کمال کا پہلو ایک نمایاں پہلو ہے، ان کی علمی زندگی میں جہاں اعلیٰ پیمانے کی تدریس کا زمانہ ہے، وہیں بحث و تحقیق اور علمی تدقیق و نکتہ رسی بھی پورے آب و تاب کے ساتھ موجود ہے، علمی زندگی میں دین کی تشریح و توضیح پر مشتمل علم، فقہ سے زیادہ تعلق رہا، آپ کی علمی اور تحقیقی صلاحیتوں کا ایک مظہر آپ کے لکھے ہوئے یا آپ کی نگرانی میں لکھے گئے فتاویٰ کا مجموعہ 146146احسن الفتاویٰ145145 ہے۔ جس کی مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ شاید کسی دینی ادارے کا دارالمطالعہ اس سے خالی نہ ہوگا، اکابر علماء بھی اس سے استفادہ بلکہ استناد کرتے ہیں۔

null
ہمارا مقصد
ALMUFTI ONLINE کا مقصد محض اللہ کی رضا کی خاطر، قرآن و سنت کی روشنی میں زندگی کے تمام شعبوں سے متعلق شرعی رہنمائی کو جدید مواصلاتی ذرائع سے آپ کی خدمت میں پیش کرنا ہے۔

ہمارا وعدہ

ہماری انتہائی کوشش ہوگی کہ ہماری فراہم کردہ شرعی رہنمائی مستند، قابل عمل اورہر قسم کے تعصبات سے ماورا ہو۔ اس لیے Almuftionline شرعی رہنمائی میں قرآن و سنت ، اجماع امت اور قیاس صحیح کےاصول اور سلف صالحین کی تشریحات کا پابند ہے۔ جامعۃ الرشید سے وابستہ محققین شرعی دلائل کے ساتھ ساتھ معاشرے کے عرف، مزاج و نفسیات اور عوامی رجحانات کو بھی ملحوظ رکھ کر معاملات میں حرج کی صورتوں میں حتی الامکان سہولت اور قابل عمل متبادل پیش کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔ Almuftionline اس بات کا بخوبی ادراک رکھتا ہے کہ اس وقت پورے عالم اسلام کے لیے سب سے اہم ضرورت اتحاد اور اخوت ہی کی ہے۔ چنانچہ Almuftionlineکا عزم ہے کہ اس فورم پر ایسے تمام مسائل اور بحثوں سے شعوری طور پر گریز کیا جائے گا جوبلا ضرورت امت میں تشویش یا انتشار کا باعث ہو سکتی ہیں۔

فتوی کیا ہے

فتویٰ ،شرعی رہنمائی حاصل کرنے والےکسی فرد کوشریعت (اللہ اور اس کے رسول ﷺ ) کا حکم بتانے کا نام ہے ، اس طرح کی شرعی رہنمائی فراہم کرنے والے کو عرف عا م میں مفتی کے نام سے جانا جاتاہے ، مفتی کسی بھی پیش آمدہ صورت حال سے متعلق اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی ترجمانی میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا منشاء بیان کرنے کی کوشش کرتاہے ، لہٰذا اس نیابت اور ترجمانی کی عظمت کی بناء پر مفتی پربہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

فتویٰ اور مفتی کی ضرورت

شرعی احکام میں رہنمائی کے لیے کسی ماہر مفتی کا فتویٰ ضروری ہے، کیوں کہ شریعت اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ اور پیغمبرِ اسلام ﷺ کے بیان کردہ نظامِ ہدایت کا نام ہے۔اللہ کا یہ نظام قرآن پاک کی صورت میں ایک متن کی حیثیت سے مسلمانوں کے پاس محفوظ ہے۔اس متن کے اصول وضوابط اور عملی طریقہ کار کی وضاحت حدیثِ رسول اللہ ﷺ میں موجود ہے،تاہم زندگی کے مختلف حوادث وواقعات اور مسائل و جزئیات پر اس متن کو اور اس کے اصول کو منطبق کرنے کا کام علماء کا ہے۔اور اس میں بھی خصوصی طور پر یہ کام مفتی کا ہےکہ وہ پیش آمد ہ واقعہ پر شریعت کے حکم کو کیسے منطبق کرے۔اسی طرح جس طرح ایک ملک کا آئین ہوتا ہے،وہ ایک طے شدہ ،لفظ بلفظ محفوظ متن ہوتا ہے مگر اس کی تشریح اور واقعات (Events) پر اس کی تطبیق قانونی ماہرین کا کام ہے،جب تک قانونی ماہرین تشریح نہ کریں اس وقت تک کسی ملک کے آئین پر درست طور پر عمل کرنا آسان نہیں ہوتا، اگرچہ آئین میں کوئی سقم نہیں ہوتا،مگر اس کے استعمال میں غلطی کا امکان رہتا ہےاور اس غلطی سے ماہرین اور اس کام کے محققین ہی بچ سکتے ہیں،ہر خاص وعام کو قانون کی تشریح کی اجازت نہیں ہوتی۔ فتویٰ کا کام یہ کام عام تعلیم یافتہ فرد یا وہ عالم جو فقہ وفتوی سے اختصاصی تعلق نہیں رکھتا،وہ بھی نہیں کر سکتا، اگر کرے گا تو اس کے فیصلوں میں غلطی کا امکان زیادہ ہوگا۔اس لیے نظامِ شریعت میں فتویٰ اور مفتی کی ایک بنیادی اہمیت ہے۔

فتویٰ کا دائرہ کار

فتویٰ انسانی زندگی کے کسی ایک پہلو کے ساتھ خاص نہیں ہوتا ، بلکہ انسان کی زندگی کے ہر مرحلےسے ایک نگران اورمصلح کا تعلق رکھتاہے ، انسان کے عقائد و نظریات ، اس کی ذاتی زندگی کے نجی پہلو ، اس کی خاندانی زندگی کے مختلف مراحل ، اس کی معاشی و معاشرتی زندگی کے مختلف مظاہر و مسائل ، اس کی زندگی کے قانونی پہلو، یا اس کی اخلاقی قدریں، حتیٰ کہ ملک چلانے کے اصول اور بین الاقوامی تعلقات کے نشیب وفراز، صلح اور جنگ سے متعلق ہدایات بھی فتویٰ کے حدود سے باہر نہیں۔ اسلامی تاریخ کے تناظر میں ان سب میدانوں میں فتویٰ کا قوی عمل دخل رہاہے اور مستقبل میں بھی ایک معتدل نظامِ حیات اور انسانیت کی پر امن اور مبنی بر انصاف بقاء کے لیے شریعت کی رہنمائی کا یہ سلسلہ ضروری ہے۔

دارالافتاء جامعۃ الرشی

دارالافتاء جامعۃالرشید حضرت مفتی رشید احمد لدھیانوی رحمہ اللہ کے علمی ورثہ کا امین ہے، جامعۃالرشید کے قیام سے لیکر اب تک ڈیڑھ لاکھ سے زائد مسائل کا جواب دارالافتاء سے جاری ہوچکا ہے، دارالافتاء میں آٹھ مفتیانِ کرام فتاویٰ کی تصحیح کا کام کرتے ہیں جبکہ تیس مفتیانِ کرام تحقیق اور تحریر فتاویٰ سے وابستہ ہیں، یہ تعداد ان شرکاء کے علاوہ ہے جو تخصصات کے طالب علم کی حیثیت سے فتاویٰ تحریر کرتے ہیں، جن کی تعداد سالانہ اوسطاً بیس ہوتی ہے۔ دارالافتاء جامعۃالرشید کی طرف سے مختلف اوقات میں مسائل پر عمومی بحث و تحقیق کے لیے مجالس بھی منعقد کی جاتی ہیں، جن میں وہ مسائل زیر غور آتے ہیں جن کا تعلق بڑے پیمانے پر ہونے والے معاملات کے ساتھ ہوتا ہے، جہاں کبھی کوئی حرج کی صورت ہوتی ہے یا مسئلہ میں اختلاف کی وجہ سے دیگر اداروں کے مفتیانِ کرام کے ساتھ باہمی گفت و شنید کی ضرورت پڑتی ہے، ایسی مجالس میں ملک بھر سے علماء کو مدعو کیا جاتا ہے، کراچی کی سطح پر بھی مقامی اداروں کے مفتیانِ کرام کو دعوت دی جاتی ہے۔ ”دارالافتاء “جامعۃ الرشید کےشعبوں میں سے ایک اہم شعبہ ہے جو لوگوں کو ایمانیات،عبادات،معاشرت،خانگی وکاروباری معاملات اور اخلاقیات سے متعلق شرعی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اب دارالافتاءجامعۃ الرشید جدید مواصلاتی ذرائع کی سہولت کے ساتھ آن لائن بیس پر عمومی فتاویٰ، مالیاتی اُمور سے متعلق شرعی رہنمائی کی خدمات کا آغاز کررہا ہے، جس سے مقررہ اوقات میں زندگی کے تمام شعبوں سے متعلق استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ خدمات ویب سائٹ، کال سینٹر، ای میل وغیرہ کے ذریعے حاصل کی جاسکتی ہیں۔