Uncategorized

میراث کی تقسیم سے پہلے کی زکوۃ

سوال ہمارے پاس وراثت کا ایک پلاٹ 2001 ء سے موجود تھا جس کو ہم نے 2013 ء میں بیچ کر رقم وارثوں میں تقسیم کر دی۔ پلاٹ کی اس قدر دیر سے فروخت کی وجہ کچھ خاندانی مسائل اور اس درمیان پلاٹ کی مناسب قیمت نہ ملنا تھا۔ بہر حال! اس کا سودا دسمبر 2013 ء میں ہوا اور خریدار نے کچھ رقم بطور ایڈوانس ادا کی جب کہ باقی رقم مارچ 2014 ء میں ادا کرنے کو کہا اور یہ طے پایا کہ بقیہ رقم کی ادائیگی پر پلاٹ خریدار کے نام پر ٹرانسفر کر دیا جائے گا اور اگر کسی وجہ سے خریدار بقایا رقم کا انتظام نہ کر سکا تو اس کی ایڈوانس دی گئی رقم اس کو واپس کر دی جائے گی۔

بیچ میں کچھ حالات ایسے ہوئے کہ خریدار نے ہم کو مطلع کیا کہ مارچ 2014 ء تک وہ ہم کو مکمل رقم کی ادائیگی نہیں کر سکے گا کیونکہ اپنے تمام ذرائع کے ذریعے وہ پلاٹ کی بقایا رقم جتنا انتظام نہیں کر پا رہا، لہذا یا تو اس کو کچھ مہلت اور دی جائے یا اس کی ایڈوانس رقم واپس کر دی جائے۔ جواب میں ہم نے خریدار کو کہا کہ آپ مزید کچھ رقم کا بندوبست کریں اور پھر بتائیں کہ کتنی رقم کم پڑ رہی ہے تاکہ ہم کچھ فیصلہ کر سکیں۔ بہرحال ہم نے یہ طے کیا کہ مارچ 2014 ء تک آپ ایڈوانس کی رقم ملا کر کل اتنی رقم ٹرانسفر کے وقت ادا کریں اور جو رقم کم پڑ رہی ہے وہ بعد میں ادا کریں۔ اس بات چیت کے بعد ہم نے 10 مارچ 2014 ء کو پلاٹ خریدار کے نام ٹرانسفر کر دیا اور خریدار نے ٹرانسفر کے وقت جتنی رقم کم پڑ رہی تھی اس کا 31 مئی 2014 کا چیک دے دیا۔

اب پوچھنا یہ ہے:
1 میں اپنی زکوۃ کا حساب ہر سال 29 ربیع الثانی کو کرتا ہوں اور اس سال یہ تاریخ 2 مارچ 20144 ء کو آئی تو میں اپنی زکوۃ کے حساب میں صرف ایڈوانس میں سے اپنے حصے میں آنے والی رقم شامل کروں جو کہ مجھے اپنی زکوۃ کے حساب لگانے کی تاریخ یعنی 29 ربیع الثانی سے قبل مل گئی تھی یا اپنے حصے میں آنے والی کل رقم شامل کروں گا؟ یاد رہے کہ پلاٹ کی طے شدہ قیمت کی بقیہ رقم کے ایک حصے کی ادائیگی 10 مارچ 2014 ء کو کی گئی جب کہ کم پڑنے والی رقم کا چیک 4 جون کو کلیئر ہوا۔

2 کیا تمام وارثوں کو گذشتہ سالوں (یعنی 2001 ء سے لے کر 2013 ء تک جب تک پلاٹ نہیں بیچا گیا تھا) کی زکوۃ بھی ادا کرنی پڑے گی؟

3 اگر گذشتہ سالوں کی بھی زکوۃ ادا کرنی ہے تو وہ کس حساب سے ہو گی جب کہ یہ پتا نہ ہو کس سال میں زکوۃ کے حساب کے وقت پلاٹ کی قیمت کیا تھی؟

4 چونکہ مذکورہ پلاٹ کی قیمت گذشتہ سالوں (یعنی 2001 ء سے لے کر 2012 ء تک) سال 2013 ء کے مقابلے میں اندازً ایک چوتھائی تھی تو کیا گذشتہ سالوں کی زکوۃ کی ادائیگی کے لیے اسٹیٹ ایجنٹس کی مدد سے یہ اندازہ لگایا جائے کہ فلاں سال مذکورہ پلاٹ زیادہ سے زیادہ اس قیمت پر بکتا اور پھر اس قیمت کے حساب سے زکوۃ کی ادائیگی جائے؟ (ندیم غنی)

جواب

1 آپ صرف ایڈوانس دی گئی رقم میں سے تقسیم کے بعد اپنے حصے میں آنے والی رقم (جو آپ کو 29 ربیع الثانی سے قبل مل چکی تھی) کو دیگر اموال زکوۃ میں شامل کر کے زکوۃ ادا کر دیں۔ 299 ربیع الثانی کے بعد آنے والی رقم کی زکوۃ آپ پر واجب نہیں۔ کیونکہ میراث کا مال جب تک تقسیم نہ کر لیا جائے اس وقت تک اس کی زکوۃ کسی وارث پر واجب نہیں ہوتی۔

4,3,2 پلاٹ فروخت ہونے سے پہلے تک کی زکوۃ کسی کے ذمہ واجب نہیں۔ اسی طرح بیچنے کے بعد رقم آنے تک گزشتہ ایام کی زکوۃ بھی کسی پر واجب نہیں۔

Read more
Uncategorized

عقد مضاربت کی ایک جائز صورت

سوال عمران اور تنویر دونوں آپس میں شریک ہیں اور دونوں نے مل کر ایک پول بنایا ہے، جس میں مختلف لوگوں سے سرمایہ اکٹھا کر کے جمع کریں گے اور پھر اس پول کے سرمائے سے پراپرٹی کا کاروبار کیا جائے گا۔ آپس میں طے پایا ہے کہ اس سرمائے سے صرف بحریہ ٹاؤن میں ہی کاروبار کیا جائے گا اور اس مقصد کے لیے بحریہ ٹاؤن میں دس پلاٹ خرید لیے گئے ہیں۔ یہ دونوں شرکا مضارب ہوں گے اور سرمایہ دار ارباب الاموال ہوں گے۔

ان دونوں شرکا نے بطور مضاربت جو رقوم ارباب الامول سے لی ہوں گی، ان کے نفع کا تناسب مختلف ہو گا۔ مثلاً: کسی رب المال سے مضارب کے نفع کا تناسب 30 فیصد اور کسی سے 25 فیصد طے کیا جائے گا۔البتہ ان دونوں شرکا (عمران، تنویر) کو بھی اس کی اجازت ہے کہ وہ بھی اس پول میں اپنا سرمایہ لگا سکتے ہیں۔ اس صورت میں یہ دونوں حضرات پول سے ہونے والے اپنے نفع کو اکٹھا کر کے باہم نصف و نصف کے تناسب سے تقسیم کر لیں گے۔

اس سرمائے سے کوئی ذاتی کام نہیں کیا جائے گا۔ اس معاملے میں شریک تمام شرکا کو سرمایہ میں مختلف تناسب سے شامل کیا جائے گا۔ بعض شرکا (یعنی مضاربین) کاروبار میں حصہ لیں گے اور باقی شرکا حصہ نہیں لیں گے۔ اس کاروبار پر آنے والے تمام اخراجات براہ راست مال مضاربت سے ادا کیے جائیں گے۔ جب کہ بالواسطہ اخراجات مضاربین ہی برداشت کریں گے۔ مضاربین میں سے کوئی ان دس پلاٹوں کی فروخت سے قبل الگ نہیں ہو گا۔ (محمد عامر)

جواب
آپ کی ذکر کردہ معلومات اور تنقیحات کی روشنی میں یہ عقد مضاربت ہے۔ جس میں مضاربین کاروبار کا انتظام و انصرام سنبھا لیں گے جب کہ ارباب الاموال کام میں حصہ نہیں لیں گے۔ پھر عمران اور تنویر نے باقی شرکا سے حقیقی نفع کا تناسب طے کیا ہے، مثلاً: 75 فیصد یا 70 فیصد متعلقہ شریک کا اور باقی ان میں سے کسی ایک مضارب کا، پھر یہ دونوں (عمران اور تنویر) اپنا اپنا کمایا ہوا نفع اکٹھا کر کے باہم نصف و نصف تقسیم کر لیں گے۔ نیز مضاربین (عمران اور تنویر) کو اس بات کی اجازت ہے کہ وہ بھی اپنا سرمایہ اس پول میں لگا سکتے ہیں۔ اس صورت میں وہ سرمائے پر طے شدہ تناسب سے الگ سے نفع لیں گے اور بطور مضارب الگ سے۔ البتہ نقصان کی صورت میں وہ بھی اپنے سرمایہ کے تناسب سے ہی برداشت کریں گے۔

٭ مضاربہ کے تمام بلاواسطہ اخراجات (Direct Expenses) مثلاً: پلاٹوں کی خریداری اور ان کے انتقالات پر اٹھنے والے اخراجات وغیرہ مال مضاربہ سے ادا کیے جائیں گے جب کہ اخراجات، مثلاً: دفتر کے بجلی، فون وغیرہ کے اخراجات مضاربین یعنی عمران اور تنویر برداشت کریں گے۔

٭ غیر فعال شرکا کو اگر کام کرنے سے روک دیا گیا ہے تو ان کے نفع کا تناسب ان کے سرمائے کے تناسب کے برابر کم مقرر کیا جا سکتا ہے، اس سے زیادہ مقرر کرنا جائز نہیں ہے۔ تاہم فعال شرکا اپنے سرمائے کے تناسب سے زیادہ نسبت طے کر سکتے ہیں۔

٭ شرکت کے لیے ضروری ہے کہ نفع کی تعیین پہلے سے ضروری ہو اور یہ تعیین بھی تناسب کی صورت میں ہو، کسی بھی شریک کے لیے کوئی لگی بندھی یا مقررہ رقم، مثلاً: دس ہزار روپے وغیرہ طے نہ ہو بلکہ تناسب طے ہو کہ، مثلاً: ہر فریق نفع میں اتنے فیصد شریک ہو گا۔

٭ تاہم نقصان ہونے کی صورت میں ہر شریک اپنے لگائے ہوئے سرمائے کی حد تک برداشت کرے گا۔ شرکت کے طریقہ کار کو باقاعدہ عقد کے تحت لانے کے لیے متعلقہ فارم ساتھ منسلک ہیں۔ انہیں پُر کر کے آسانی سے عقد طے کیا جا سکتا ہے۔

Read more
Uncategorized

پراویڈنٹ فنڈ کی وصولی سے پہلے زکوۃ نہیں

سوال زید ایک کمپنی میں ملازمت کرتا ہے۔ جہاں ہر مہینے پراویڈنٹ فنڈ کے نام سے کمپنی تنخواہ سے کچھ رقم کاٹ لیتی ہے، جو پراویڈنٹ فنڈ اکاؤنٹ کے نام سے جمع کر لی جاتی ہے۔ یہ رقم زید کو اس وقت ملے گی جب وہ کمپنی چھوڑ کر جائے گا۔ رہنمائی فرمائیں کہ اس رقم پر زکوۃ کی ادائیگی کس وقت لازم ہو گی۔ رقم ملنے کے بعد یا ہر سال پراویڈنٹ کے نام سے جتنی رقم اس کے نام سے جمع ہو گی۔ اس پر ہر سال زکوۃ کی ادائیگی لازم ہو گی؟ (عقیل احمد)

جواب
پراویڈنٹ فنڈ کی رقم کمپنی کے پاس ہی رہتی ہے۔ کمپنی اس کا حساب خود ہی رکھتی ہے۔ الگ سے کوئی کمیٹی نہیں ہے۔ اسٹاف جب نوکری چھوڑ کر جاتا ہے تبھی وہ رقم اس کو دی جاتی ہے۔ مزید استفسار پر مستفتی نے بتایا کہ کمپنی یہ رقم ملازم کی تنخواہ سے منہا کر کے اپنے پاس اکاؤنٹ میں جمع کر لیتی ہے اور پھر کمپنی چھوڑتے وقت وہ ملازم کو ادا کر دی جاتی ہے۔
اس معاملے میں تحقیق یہ ہے کہ یہ دَینِ ضعیف (ایسا قرض جس پر زکوۃ لازم نہیں ہوتی) ہے اور جب تک یہ رقم وصول نہ کر لی جائے، اس وقت تک اس پر زکوۃ کی ادائیگی لازم نہیں ہے۔ پھر وصول کر لینے کے بعد بھی سابقہ سالوں کی زکوۃ ادا کرنا لازم نہیں ہے۔ وصولی کے بعد اس رقم کو دیگر اموالِ زکوۃ میں ملا کر زکوۃ کی تاریخ میں حساب کر لیں گے۔ اگر پہلے سے زکوہ فرض نہ ہوتو مال ملنے کی اسلامی تاریخ ہی زکوۃ کی تاریخ طے ہو جائے گی اور سال گزرنے پر زکوۃ کا حساب کریں گے۔
نیٹ ورک مارکیٹنگ کمپنی کے ساتھ معاملہ
سوال
سوال یہ ہے کہ نیٹ ورک مارکیٹنگ کی ایک کمپنی میں ایک شخص نے رجسٹریشن کروائی۔ وہ کمپنی استریاں فروخت کرتی ہے۔ اور رجسٹریشن پر ایک استری کمپنی اپنے کلائنٹ کو دیتی ہے اور پھر مزید وہ شخص نیٹ ورک میں کام کر کے اس کے ذریعے نفع کماتا ہے۔ اب اس شخص نے تین استریاں 9000 (فی 3000) میں لیں، یعنی تین استریاں لیں۔ بعد ازاں اس کو پتا چلا کہ یہ کاروبار شرعاً درست نہیں ہے۔ تو وہ استریاں اس نے کمپنی کو واپس کر دیں۔ چونکہ ان میں ایک استری وہ خود استعمال کر چکا تھا، اس لیے کمپنی نے اس کو 6000 روپے دے کر دو استریاں واپس کر کے معاملہ ختم کر دیا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا اس شخص کے لیے یہ رقم 6000 استعمال کرنا درست ہے؟ (ثاقب منظور، صادق آباد)
جواب
نیٹ ورک مارکیٹنگ کمپنی کے ساتھ کی گئی بیع (خرید و فروخت) ’’بیع شرط‘‘ ہونے کی وجہ سے فاسد تھی، جس کا ختم کرنا فریقین پر لازم تھا۔ آپ کا دو استریوں کو واپس کر کے معاملہ کو ختم کرنا درست ہے، لہذا اس رقم کا استعمال بھی درست ہے۔
ڈائریکٹ اور اِن ڈائریکٹ کمیشن
سوال
زید ایک موبائل کمپنی میں سیل منیجر ہے۔ اس کے تحت کئی منیجرز کام کرتے ہیں۔ ہر منیجر تین فرنچائز کی سیل کو مانیٹر کرتا ہے اور فرنچائز پر منیجر کی ٹیم ہوتی ہے۔ جب بھی کوئی سیل مین سِم فروخت کرتا ہے تو کمپنی کے مالکان کی طرف سے سیل مین اور منیجر کو ان کی تنخواہ کے علاوہ ہر سم کی فروختگی پر کمیشن دیا جاتا ہے۔ کیا سیل مین کے لیے یہ ڈائریکٹ کمیشن اور منیجر کے لیے اِن ڈائریکٹ کمیشن شریعت کے روشنی میں جائز ہوں گے؟
(عقیل احمد، کراچی)
جواب
مذکورہ صورت میں اگر کمیشن کی مقدار مقرر ہو، خواہ فیصد کی صورت میں یا متعین رقم کی صورت میں، تو سیلزمین کے لیے ڈائریکٹ اور سیلز منیجرز کے لیے ان ڈائریکٹ کمیشن لینا جائز ہے۔

Read more
Uncategorized

انٹرنیٹ کا مثبت اور منفی استعمال

دورِ جدید میں انٹرنیٹ نے روابط کو اتنا آسان بنا دیا ہے کہ پوری دنیا سمٹ کر ایک گاؤں یعنی گلوبل ویلج (Global village) کی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ ہر شخص ایک ہی جگہ بیٹھے انٹرنیٹ کے ذریعے دنیا بھر کی معلومات حاصل کر کے اپنے علم میں اضافہ کر سکتا ہے۔ انٹرنیٹ نظام ایک گلوبل نظام ہے جس میں سیکڑوں ملین کمپیوٹر آپس میں ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔ اس وقت پاکستان میں ڈھائی کروڑ سے زائد افراد انٹرنیٹ کا استعمال کر رہے ہیں، جن میں طالب علموں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔

٭…نِت نئے خلافِ شرع کاروبار، جیسے: کموڈیٹی ایکسچینج اور فاریکس ٹریڈنگ وغیرہ انٹرنیٹ پر بکثرت ہو رہے ہیں اور لوگ پیسہ کمانے کی دھن میں ان میں خوب مصروف ہیں ٭

پاکستان کے ایک ہزار آٹھ سو بارہ شہر اب تک انٹرنیٹ سے منسلک ہو چکے ہیں اور ان میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق پنجاب کے 1091، سندھ کے 202، صوبہ خیبر پختونخواہ کے 404 اور بلوچستان کے 110 شہر اور قصبے انٹرنیٹ سے منسلک ہو چکے ہیں۔ اب انٹرنیٹ اتنا عام ہو چکا ہے کہ اب کمپیوٹر کی مجبوری سے نکل کر لیپ ٹاپ اور موبائلز میں بھی انٹرنیٹ بہت ہی کم ریٹس اور ہر جگہ بآسانی میسر ہو سکتا ہے۔

لیکن اس بڑھتی ہوئی صورتِ حال میں غور کرنے کی بات یہ ہے کہ کیا انٹرنیٹ ہماری نوجوان نسل کے لیے تسکین کا باعث ہے یا ایک ایسا مرض ہے جو ہمارے معاشرے میں فحاشی، عریانی اور بے حیائی کو فروغ دینے میں بہت بڑا کردار ادا کر رہا ہے۔ یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ انٹرنیٹ نے ہماری زندگی میں ایک انقلاب برپا کیا ہے۔ نایاب کتب کا بآسانی میسر آنا، ہزاروں میل دور بیٹھے اپنے اعزا و اقارب سے اسکائپ پر بات چیت کرنا اور دنیا کے کسی بھی خطے میں رونما ہونے والے واقعے کی خبر آناً فاناً دنیا بھر میں پھیل جانا وغیرہ اس کے بنیادی فوائد ہیں، اس کے علاوہ آج کی کاروبای دنیا میں بھی انٹرنیٹ کی افادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

لیکن یہ حقیقت بھی ناقابلِ انکار ہے کہ انٹرنیٹ ایسا تباہ کن سوفٹ وئیر ہے جس کے نقصانات سیکڑوں میں نہیں، ہزاروں میں شمار کیے جا سکتے ہیں۔ انسانی تہذیب و تمدن کو تباہی و بربادی کے آخری دہانے تک پہنچانے والا یہی انٹرنیٹ ہے۔ ذیل میں اس کے چند ایسے نقصانات ذکر کیے جاتے ہیں، جن سے شاید ہی کوئی یوزر (استعمال کرنے والا) محفوظ ہو:

1 تحقیق کا ذوق ختم
انٹرنیٹ کا ایک بڑا نقصان یہ بھی ہے کہ ایم فل اور پی ایچ ڈی کے طلبا انٹرنیٹ سے اپنے مقالے سے متعلق مواد تلاش کر کے ایک ضخیم مقالہ تیار کر لیتے ہیں۔ جس سے تحقیق و تدقیق کا ذوق فنا ہو کر رہ گیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج کل ہمارے معاشرے میں تحقیق کا اس قدر فقدان ہے کہ ہر سال پی ایچ ڈی کے بیسیوں اسٹوڈنٹس فارغ التحصیل ہوتے ہیں، جبکہ شاید ہی کوئی مقالہ ایسا جامع اور تحقیق پر مشتمل ہو جس کو صحیح طور پر تحقیق کی اصطلاحی تعریف پر پرکھا جا سکتا ہو۔

2 معاشی دھاندلیاں اور ناجائز کاروبار
مال وزر کی محبت کے نشے میں معاشی دھاندلیاں، جلد دولت مند بننے کے چکر میں فریب اور دھوکہ دہی کے نئے نئے طریقے بھی اسی انٹرنیٹ کی پیداوار ہیں۔ اس کے علاوہ نِت نئے خلافِ شرع کاروبار، جیسے: کموڈیٹی ایکسچینج (Commodity Exchange) اور فاریکس ٹریڈنگ (Forex Trading) وغیرہ انٹرنیٹ پر بکثرت ہو رہے ہیں اور لوگ پیسہ کمانے کی دھن میں ان میں خوب مصروف ہیں، اس کی کسی کو پروا نہیں کہ آیا یہ کمائی حلال بھی ہے یا ہم حرام مال سے اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ بھر رہے ہیں۔

3 بے حیائی کا عام ہونا
انٹرنیٹ کی خاص برائیوں میں فحش گانے، بلو فلمیں، بے حیائی کے مناظر، اشتہارات کے نام پر بے پردگی اور عریانیت وغیرہ بھی شامل ہیں اور انہی مفاسد کی بدولت آج کی نوجوان نسل میں بے حیائی کا ایسا بازار گرم ہے کہ اس کا تصور کرتے ہوئے بھی آدمی کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اس فحاشی اور عریانی کے نتیجے میں معاشرے میں جو مفاسد جنم لے رہے ہیں اس کا بھی ہر شخص کو مشاہدہ ہے جس کے بیان کی ضرورت نہیں۔

4 وقت کا ضیاع
عُقلا کا کہنا ہے کہ وقت برف کی مانند ہے جو انسان کو احساس دلائے بغیر خاموشی سے گزرتا رہتا ہے، انسان غفلت کی چادر اوڑھ کر زندگی کی منازل طے کر رہا ہوتا ہے، اس کو اسی وقت پتا چلتا ہے جب اس کی زندگی کی شام ہو چکی ہوتی ہے اور فرشتہ پیغامِ اجل سنانے کے لیے دروازے پر دستک دینے لگتا ہے۔ جبکہ وقت انسانی زندگی کی سب سے قیمتی متاع ہے جو ایک دفعہ گزر جانے کے بعد قیامت کی صبح تک دوبارہ واپس نہیں لوٹتا۔ افسوس! آج اس کا سب سے زیادہ ضیاع بھی انٹرنیٹ پر ہی ہو رہا ہے۔ جو لوگ انٹرنیٹ استعمال کرنے کے عادی ہو جاتے ہیں۔ وہ بلاوجہ روزانہ کی بنیاد پر گھنٹوں اس میں ضائع کرتے رہتے ہیں، خصوصاً آج کل ہماری نوجوان نسل کو فیس بک کا ایسا نشہ لگ چکاہے کہ جب تک دن میں کم از کم ایک مرتبہ فیس بک نہ دیکھ لیں سکون نہیں آتا۔

اس کے علاوہ بھی ہزار ہا نقصانات انٹرنیٹ کی بدولت رونما ہو رہے ہیں، لہذا آج جبکہ انٹرنیٹ ایک اہم اور کاروباری ضرورت بن چکا ہے اور دوسری طرف یہود و نصاری نے ذرائع ابلاغ کے ذریعے اسلامی تہذیب و اقدار کو تباہی کے دھانے تک پہنچانے کا عزم کر رکھا ہے تو ایسی صورتِ حال میں بحیثیت مسلمان ہر شخص کی ذمے داری ہے کہ وہ اپنی بساط کی حد تک انٹرنیٹ کے استعمال کا صحیح رخ متعین کرے، بلا ضرورت اس کے استعمال سے اپنا وقت ہرگز ضائع نہ کرے، خاص طور اپنی اولاد کو حتی الامکان اس سے دور رکھے۔

Read more
Uncategorized

عشر : ایک اہم شرعی فریضہ

اسلام ایک ایسا مذہب ہے جس میں ریاست کے ہر باشندے کی ضروریات کا خیال رکھا جاتا ہے۔ اسلام نے رعایا کے بنیادی حقوق حکومتِ وقت کے ذمہ واجب کیے ہیں۔ ریاست کا کوئی بھی فرد حاکمِ وقت سے ان کا مطالبہ کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ معاشرے سے مفلسی، بدحالی اور غربت کے خاتمے کے لیے اسلام نے ہر شخص پر کچھ مالی حقوق بھی عائد کیے ہیں۔

"حقیقت یہ ہے کہ ان تمام بیماریوں اور پریشانیوں کا سبب اللہ تعالیٰ کے پیداوار پر عائد کردہ ایک اہم فریضہ، عشر کی ادائیگی کا نہ ہونا ہے”

اگر ہر شخص دیانت داری کے ساتھ ان حقوق کو بجا لائے اور پوری احساس ذمہ داری کے ساتھ اسلام کی طرف سے عائد کردہ واجباتِ مالیہ ادا کرے تو ریاست کا کوئی گھرانا ایسا نہیں رہے گا جو روٹی، کپڑا اور مکان کے بغیر رات بسر کر سکے۔ انہی واجباتِ مالیہ میں سے ایک اسلامی حکم ’’عُشر‘‘ ہے۔

آج کل ہمارا کاشت کار طبقہ فصلوں کی بیماریوں، بے وقت بارشوں اور ناگہانی آفات کی بنا پر فصلوں کے تباہ ہونے اور قدرتی طور پر پیداوار کم ہونے کی وجہ سے پریشان رہتا ہے۔ اس کے سدِ باب کے لیے مختلف قسم کے ذرائع اختیار کیے جاتے ہیں۔ بیماریوں کے خاتمے لیے گراں قیمت اسپرے اور پیداوار کی بڑھوتری کے لیے مہنگی سے مہنگی کھادیں استعمال کی جاتی ہیں، لیکن اس کے باوجود کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکلتا، بلکہ دن بدن فصلوں کے تباہ کرنے لیے نئی سے نئی بیماریاں جنم لے رہی ہیں اورحقیقت یہ ہے کہ ان تمام بیماریوں اور پریشانیوں کا سبب اللہ تعالیٰ کے پیداوار پر عائد کردہ ایک اہم فریضہ، عشر کی ادائیگی کا نہ ہونا ہے۔

عشر کا وجوب
عشر کا وجوب قرآن و حدیث دونوں سے ثابت ہے۔ قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:’’اور تم اپنی کھیتی کی کٹائی کے وقت اس کا حق (عشر) ادا کیا کرو۔(الانعام) ایک دوسری جگہ ارشاد ہے: ’’ اے ایمان والو! ہمارے دیے ہوئے پاکیزہ رزق میں سے اور اس (پیداوار) میں سے جو ہم نے تمہارے لیے زمین سے نکالی، خرچ کرو۔(البقرۃ) اسی طرح حدیث پاک میں ہے حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا:’’ جن زمینوں کو آسمان اور چشمے سیراب کرتے ہیں… ان میں عشر واجب ہے اور وہ زمین جس کو کنویں سے پانی نکال کر سیراب کیا جاتا ہے اس میں نصف عشر (بیسواں حصہ) واجب ہے۔‘‘

عشر ایک ایسا فریضہ ہے کہ دور رسالت سے لے کر ہمارے زمانے تک پوری امت کا اس کے واجب ہونے پر اتفاق رہا ہے۔ چنانچہ علامہ کاسانی رحمہ اللہ نے عشر کی فرضیت پر اجماع ذکر کیا ہے۔ (بدائع الصنائع: ج 2 ص 54) لہذا جب تک عشر ادا نہ کیا جائے اس وقت تک یہ ذمہ سے ساقط نہیں ہوتا، بلکہ زندگی میں کسی وقت بھی اس کی ادائیگی اس شخص کے ذمہ لازم ہے، اور اگر کوئی شخص موت تک عشر ادا نہ کر سکا تو اس پر واجب الادا عشر کی وصیت کرنا ضروری ہے، ورنہ خطرہ ہے کہ اس کا وبال اسے آخرت میں بھگتنا پڑے۔

عشر کا لغوی و اصطلاحی معنی
عشر کے لغوی معنی ’’دسواں حصہ‘‘ کے ہیں اور اصطلاح میں یہ زرعی پیداوار پر واجب کردہ ایک مالی فریضہ یعنی زکوۃ کا دوسرا نام ہے۔ اسی لیے فقہائے کرام رحمہم اللہ عشر کو’’کھیتیوں اور پھلوں کی زکوۃ‘‘کے نام سے بھی تعبیر کرتے ہیں۔ البتہ اس کے احکام زکوۃ کے احکام سے کچھ مختلف ہیں۔ عام زکوۃ اور عشر میں فرق یہ ہے کہ زکوۃ میں بنیادی طور پر دو شرطوں کا ہونا ضروری ہے: ایک یہ کہ آدمی صاحبِ نصاب یعنی اموالِ زکوۃ کی ایک مخصوص مقدار کا مالک ہو، دوسری یہ کہ اس مال پر سال گزر جائے، جبکہ عشر کے وجوب کے لیے ان میں سے کسی شرط کا پا یا جانا لازمی نہیں، لہذا اگر کسی کاشت کار کو کم مقدار میں فصل حاصل ہوئی اور اس پر سال بھی نہیں گزرا تو بھی اس پر عشر واجب ہو گا۔ نیز عشر کے لیے اپنی ذاتی زمین کا ہونا بھی ضروری نہیں، بلکہ اگر کسی نے عاریتاً، ٹھیکے یا مزارعت پر زمین لے کر کاشتکاری کی تو اس کی پیداوار پر بھی عشر واجب ہو گا۔ البتہ عاریتاً اور ٹھیکے پر لی گئی زمین کا عشر صرف کاشت کار پر اور مزارعت والی زمین کا عشر فریقین پر ان کے پیداوار میں طے شدہ حصے کے بقدر واجب ہو گا۔

عشر کی مقدار
عشر بارانی اور سیرابی دونوں قسم کی زمینوں پر واجب ہوتا ہے، البتہ بارانی زمین پر پیداوار کا دسواں حصہ، جبکہ سیرابی زمین پر حاصل شدہ پیداوار کا بیسواں حصہ واجب ہوتا ہے۔ بارانی زمین سے مراد وہ زمینیں ہیں جو بارش کے پانی سے سیراب ہوتی ہیں، ان میں کاشت کار کی طرف سے کھیتی کو پانی لگانے کا کوئی انتظام نہیں ہوتا۔ جبکہ سیرابی زمینیں وہ کہلاتی ہیں جن کو کاشت کار ٹیوب ویل، نہر یا دریا کے پانی سے سیراب کرتے ہیں، ان زمینوں پر چونکہ خرچ اور محنت زیادہ صرف ہوتی ہے، اس لیے شریعت نے ایسی زمینوں پر پیداوار کا بیسواں حصہ واجب کیا ہے۔

عشر کا مصرف
عشر کے مصارف وہی ہیں جو زکوۃ کے مصارف ہیں، یعنی ہر ایسا شخص جس کی ملکیت میں ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے بقدر سونا، چاندی، نقدی، مال تجارت اور ضرورت سے زائد سامان نہ ہو، وہ مستحقِ عشر ہے، اس کو عشر دیا جا سکتا ہے۔ البتہ کسی ایسے شخص کو عشر دینا جو مستحق ہونے کے ساتھ ساتھ کسی دینی خدمت میں بھی مشغول ہو، زیادہ بہتر ہے کیونکہ اس کو دینے سے عشر کی ادائیگی اور دینی خدمت میں تعاون، دونوں کا اجر ملے گا۔ اسی طرح کسی رشتہ دار کو دینے کی صورت میں بھی عشر کی ادائیگی اور صلہ رحمی دونوں کا اجر ملے گا۔

Read more
Uncategorized

گنے کی خرید و فروخت کی مختلف صورتیں چھاپیے

سوال ہمارے علاقے میں گنے کی خرید و فروخت کی درج ذیل صورتیں رائج ہیں۔ ان کا شرعی حکم مطلوب ہے۔ 11 زمین میں کھڑے گنے کی فصل کو فی من کے حساب سے خرید لیا جاتا ہے۔ اس صورت میں گنے کی کٹائی اور مل تک لے جانے کی ذمہ داری مالکِ فصل پر ہوتی ہے۔ یہ ذمہ داری مالکِ فصل خوشی سے قبول نہیں کرتا، بلکہ اس پر یہ شرط لگائی جاتی ہے۔ نیز اس صورت میں گنے کا وزن وہی معتبر ہوتا ہے جو مِل والے لکھ کر دیتے ہیں۔

2 زمین میں کھڑے گنے کی فصل کو اندازے سے خرید لیا جاتا ہے۔ یعنی کنال کے حساب سے خرید و فروخت ہوتی ہے، مثلاً: فی کنال پانچ لاکھ روپے کا وغیرہ۔ اس صورت میں وزن کا اعتبار نہیں ہوتا، خواہ وزن کم ہو یا زیادہ۔ نیز اس صورت میں گنے کی کٹائی اور مل تک لے جانے کی ذمہ داری مشتری (خریدار) پر ہوتی ہے۔

3 مالکِ فصل خود اپنی فصل کو کٹواتا ہے اور مِل تک لے جانے کی ذمہ داری بھی قبول کرتا ہے۔ لیکن کبھی گنے کی ٹرالی کو مالکِ فصل خود کسی شخص کے ہاتھ مل تک گنا لے جانے سے پہلے نقد مل کے ریٹ سے کم پر فروخت کر دیتا ہے۔ اس صورت میں وہ ٹرالی جس پر گنا ہوتا ہے وہ مشتری کے نام پر مل میں جاتی ہے۔ اور مل والے گنے کا جو وزن لکھ کر دیتے ہیں، وہی وزن معتبر ہوتا ہے اور اسی کے حساب سے بائع (فروخت کنندہ) کو پیمنٹ کی جاتی ہے۔ اس میں بھی فی من کے حساب سے بیع ہوتی ہے، البتہ مجموعی وزن مِل کا بتایا ہوا ہی معتبر مانا جاتا ہے۔ (خالقداد، جامع محمدیہ، ڈیرہ اسماعیل خان)

جواب
1 خرید و فروخت کی یہ صورت جائز نہیں، کیونکہ اس میں مبیع کی مقدار معلوم نہیں۔ اس کی جائز صورت یہ ہے کہ گنے کی مقدار اور وزن کو مدنظر رکھے بغیر کنال یا ایکڑ کے حساب سے خرید و فروخت کی جائے، مثلاً: فی کنال ایک لاکھ روپے کے عوض وغیرہ۔ اس صورت میں گنے کے وزن کا معلوم ہونا ضروری نہیں ہو گا۔ جہاں تک گنے کی کٹائی کا تعلق ہے تو بائع پر یہ شرط لگانا درست نہیں، کیونکہ بیع ہو جانے کے بعد گنا مشتری کی ملک میں آ گیا، اس لیے گنا کاٹنے کا ذمے دار بھی وہی ہو گا۔ البتہ مل تک گنا لے جانے کی ذمہ داری عرف کی وجہ سے بائع پر ڈالی جا سکتی ہے۔ جیسا کہ شرح المجلہ میں تصریح ہے کہ اگر مشتری یہ شرط لگائے کہ بائع مبیع فلاں جگہ پر سپرد کرے گا تو متعارف ہونے کی صورت میں اس کی اجازت ہو گی اور بائع پر مبیع اسی جگہ پر سپرد کرنا لازم ہو گا۔

2 خرید و فروخت کی یہ صورت درست ہے، کیونکہ اس میں وزن کا اعتبار کیے بغیر اشارے کے ذریعے خرید و فروخت کی جاتی ہے اور اس طرح کی خرید و فروخت میں وزن کا معلوم ہونا ضروری نہیں۔ نیز اس صورت میں گنے کی کٹائی اور مل تک گنا لے جانے کی ذمے داری مشتری پر ڈالنا بھی جائز ہے۔

3 یہ صورت بھی جائز ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ فقہائے کرام نے لکھا ہے کہ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ میں غلے کی یہ ڈھیری فروخت کرتا ہوں اس شرط کے ساتھ کہ ہر قفیز ایک درہم کا ہو گا، جبکہ ڈھیری کی مجموعی مقدار معلوم نہیں، تو اس صورت میں امام ابو یوسف اور امام محمد رحمہم اللہ کے نزدیک بیع جائز ہے۔ لہذا مذکورہ صورت میں ضرورت کے پیش نظر امام ابو یوسفؒ اور امام محمدؒ کے قول پر عمل کرنے کی گنجائش ہے۔

کھاتے داروں کی رقم خاص طریقے سے جمع کرنا
سوال
میں ایک کریانہ اسٹور چلاتا ہوں، میرے ساتھ کچھ کھاتے دار ہیں جو ہر ماہ خریداری کرتے ہیں، پھر وہ رقم ایک ماہ کے بعد دیتے ہیں اور سودا لیتے ہیں۔ ہر ماہ کی تقریباً 55 تاریخ پر ہر کھاتے دار سے 500 اوپر، کسی سے 200 اوپر کسی سے 100 روپے اپنی اصل رقم سے زیادہ لیتا ہوں، پھر وہ اضافی رقم اس کھاتہ دار کے بچت اکاؤنٹ میں جمع کرتا ہوں۔ کھاتہ دار کی یہ رقم میرے پاس امانت ہے، کیا یہ طریقہ جائز ہے؟ کیونکہ اس میں کھاتہ دار کا فائدہ زیادہ ہے۔ کھاتہ دار کی یہ اضافی رقم میرے ذمہ قرض ہے۔ (ابو ریحان آف ڈیرہ)

جواب اگر کھاتے دار اپنی مرضی سے اضافی پیسے آپ کے پاس رکھواتے ہیں جمع کرنے کی غرض سے، چاہے وہ امانت کے طور پر رکھوائیں یا قرض کے طور پر، نیز کھاتہ دار کو سودا بیچنا پیسے جمع کروانے کی شرط کے ساتھ مشروط بھی نہ ہو یعنی ایسا نہ ہو کہ آپ کی طرف سے یہ شرط ہو کہ ’’میں تمہیں اس شرط کے ساتھ سودا بیچتا ہوں کہ آپ مہینے کے آخر میں میرے پاس اضافی رقم بھی بطور قرض جمع کروائیں گے‘‘ تو ایسا معاملہ کرنا درست ہو گا، ورنہ نہیں۔

Read more