021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
پٹرول چوری کا حکم
56553 جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

ایک پٹرول پمپ پہ کام کرتاہوں جس میں ماہانہ 13000 تنخواہ اور یومیہ 300 آور ٹائم ملتا ہے ، یہ کمپنی کی طرف سے متعین ہے ،میں نوزل پہ کھڑا ہوتاہوں جس میں منیجر نے اپنی طرف سے کمی کی ہے ،یعنی گر کوئی 100 روپے کا پٹرول لیتا ہے تو اسے 95 روپے کا ملتا ہے ،اور یہ بات میرے علم میں ہے لیکن میں منیجر کے آگے بے بس ہوں کچھ نہیں کرسکتا اور اس چوری کی رقم سے مجھے کوئی حصہ نہیں ملتا ۔لہذا سوال یہ ہے کہ میرا کام میرے لئے جائز ہے یا نہیں ؟

o

پٹرول پمپ میں مذکورہ طریقہ پر تیل فروخت کرنا 100روپے کے عوض 95روپے کا تیل دینا دھوکہ اورجھوٹ ہے جوکہ بڑا بہت بڑا گناہ ہے ، اس سے توبہ واستغفار لازم ہے ،اور جن لوگوں سے پیسے زیادہ لئے ہیں اور تیل کم دیا ہے ،انہیں یا تو تیل پورا کرکے دیں یا اتنی رقم واپس کرنا لازم ہے ، اگر ان لوگوں کا نام پتہ معلوم نہ ہو تو اندازہ کرکے اتنی رقم صدقہ کرنا لازم ہے ، اس چوری میں اصل مجرم تو منیجر ہے ، ملازم بھی اس گناہ میں برابر کا شریک ہے کیونکہ تیل چوری کرنے کا عمل توملازم ہی انجام دیتا ہے ،لہذا ملازم کے لئے یہ عمل انجام دینا جائز نہیں ، اس پر لازم ہے اس عمل سے انکار کردے،ورنہ ملازمت چھوڑدے ۔

حوالہ جات

{وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ (1) الَّذِينَ إِذَا اكْتَالُوا عَلَى النَّاسِ يَسْتَوْفُونَ (2) وَإِذَا كَالُوهُمْ أَوْ وَزَنُوهُمْ يُخْسِرُونَ (3) أَلَا يَظُنُّ أُولَئِكَ أَنَّهُمْ مَبْعُوثُونَ (4) لِيَوْمٍ عَظِيمٍ (5) يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ (6) } [المطففين: 1 - 6] {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا (29) } [النساء: 29، 30]
..

n

مجیب

احسان اللہ شائق صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / فیصل احمد صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔