021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
زمین کی تقسیم کے بعددوبارہ تقسیم کامطالبہ
..تقسیم جائیداد کے مسائلمتفرّق مسائل

سوال

ایک زمین بارانی علاقہ میں موجود ہے،تقریبا 40 سال فریقین کے بڑوں نے40/50 آدمیوں کی موجودگی میں پہلے آپس میں نجی(خانگی ) تقسیم کی تھی تو اس وقت فریقین میں سے ایک فریق نے زمین کا قابلِ کاشت حصہ اپنی خوشی سے بغیر قرعہ اندازی منتخب کیا تھااور باقی حصہ(جو ناقابلِ کاشت تھا)دوسرے فریق کو دے دیا تو اس نے محنت کرکے قابلِ کاشت بنایا،اس وقت تقسیم کرنے والوں میں سے اکثر فوت ہوچکے ہیں،اور چند گواہ موجود ہیں،ہر ایک کا حصہ اس کے تصرف میں رہا،لیکن چالیس سال گزرنے کے بعد جس فریق نے اپنی خوشی سے زمین بغیر قرعہ اندازی منتخب کی تھی،اب دوبارہ از سرِ نو سرکاری ریکارڈ کے مطابق تقسیم چاہتا ہےاور قاضی کی عدالت میں درخواست دائر کر رکھی ہے۔اس فریق کا مطالبہ از روئے شریعت کیا حیثیت رکھتا ہے؟

o

صورت مسئولہ میں چونکہ فریقین نے رضامندی سے زمین تقسیم کرلی تھی،تو صرف ایک فریق کے مطالبے پر دوبارہ تقسیم نہیں کی جاسکتی،البتہ دوسرا فریق اگر دوبارہ تقسیم پر راضی ہوجائے،تو از سرِ نو تقسیم کی جاسکتی ہے

حوالہ جات

تمامها في النوعين جميعا ، حتى لا يحتمل الرجوع عنها إذا تمت،وأما قبل التمام فكذلك في أحد نوعي القسمة ، وهو قسمة القضاء دون النوع الآخر ، وهو قسمة الشركاء ، بيان ذلك : أن الدار إذا كانت مشتركة بين قوم فقسمها القاضي أو الشركاء بالتراضي ،فخرجت السهام كلها بالقرعة ؛ لا يجوز لهم الرجوع ، وكذا إذا خرج الكل إلا سهم واحد ؛ لأن ذلك خروج السهام كلها ؛ لكون ذلك السهم متعينا بمن بقي من الشركاء ، وإن خرج بعض السهام دون البعض فكذلك في قسمة القضاء ؛ لأنه لو رجع أحدهم لأجبره القاضي على القسمة ثانيا فلا يفيد رجوعه .وأما في قسمة التراضي فيجوز الرجوع ؛ لأن قسمة التراضي لا تتم إلا بعد خروج السهام كلها ، وكل عاقد بسبيل من الرجوع عن العقد قبل تمامه كما في البيع ونحوه. (بدائع الصنائع :15/ 2)
..

n

مجیب

ریاض احمد صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔