021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ادارے سے کرایہ وصول کرنا/والدین کے گھر رہنے والے ملازم کاادارہ سے گھرکاکرایہ وصول کرنا
..اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے متفرق احکام

سوال

ایک شخص AWC کا ملازم ہے ادارہ مکان کا کرایہ ادا کرتا ہے۔وہ آدمی اور اس کے والدین اکھٹے رہائش پزیر ہیں،کھانا ،پینا بھی ساتھ ہے لیکن وہ مکان والد یا والدہ کے نام ہے۔وہ شخص اپنے ادارے کو کاغذات دکھاتا ہے اور کہتا ہے کہ میں والدین کے گھر میں رہائش پزیر ہوں۔اس کی تصدیق کے لیے ادارے کے بندے آتے ہیں اور مکان کو دیکھ کر اس کی تصدیق کرکے مکان کا کرایہ ادا کرتے ہیں ،گویا یوں سمجھیے کہ وہ بندہ والدین کا کرایہ دار ہے اگرچہ سسٹم مشترک ہونے کی بناء پر کرایہ والدین کو نہ دیتا ہوبلکہ گھر میں ہی خرچ کرتا ہو۔ ادارے سے اس آدمی کا کرایہ وصول کرنا کیسا ہے ؟ادارے نے اپنی ضروری جانچ پڑتال کے بعد کرایہ جاری کیا ہے جبکہ وہ آدمی شادی شدہ بھی ہے۔وضاحت کے ساتھ جواب طلب ہے؟

o

اگر ادارے والوں کا ضابطہ یہی ہے کہ والدین کے گھر میں رہنے والے شادی شدہ افراد کو بھی کرائے کی مد میں رقم دیتے ہیں تو اس کے لیے لینے میں حرج نہیں۔

حوالہ جات

یعتبر و یراعی کل ما اشترط العاقدان. )شرح المجلۃ لسلیم رستم:رقم المادۃ: 473) یلزم مراعاۃ الشرط بقدر الامکان. )شرح المجلۃ لسلیم رستم:رقم المادۃ: 83) وأما شرائط الصحة فمنها رضا المتعاقدين. ومنها أن يكون المعقود عليه وهو المنفعة معلوما… ومنها بيان محل المنفعة….وأما في حق الأجير الخاص فلا يشترط بيان جنس المعمول فيه ونوعه وقدره وصفته وإنما يشترط بيان المدة فقطومنها بيان المدة. (الفتاوى الهندية :4/ 411)
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔