021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
خاص مکان (کرایہ ) میں شہد کے چھتے کا حکم
56991جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

ہم ایک کرائے کے مکان میں رہتے ہیں ۔اس مکان کی چھت پر شہد کی مکھیوں کا ایک چھتہ ہے ۔اس چھتے سے اگر ہم شہد نکالیں تو وہ کس کی ملکیت ہوگا؟ہم کرایہ دار اس کو استعمال کر سکتے ہیں،یا مالک مکان کو دینا ضروری ہے؟

o

یہ شہد مالک مکان کی ملک ہے،لہذا کرایہ دار پر لازم ہے کہ وہ شہد مالک مکان کو دے دے۔ہاں اگر مالک مکان وہ سارا شہد،یا اس میں سے کچھ حصہ کرایہ دار کو اپنی دلی رضامندی سے ہدیہ کرے تو وہ لینا اور اس کواستعمال کرنا جائز ہوگا۔

حوالہ جات

قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ تعالی:"فروع: عسل النحل في أرضه ملكه مطلقا،أي وإن لم يعدها لذلك؛ لأنه صار من أنزالها، أي ريعها" (رد المحتار:5/ 234) "بخلاف ما إذا عسل النحل في أرضه؛ لأنه عد من أنزاله؛ فيملكه تبعا لأرضه؛ كالشجر النابت فيها؛ والتراب المجتمع في أرضه بجريان الماء، والله أعلم". (الهداية:3/ 80)
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

فیصل احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔