021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مسجد ومدرسہ میں صدقہ دینا
57227جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

1۔اگر مسجد تعمیر ہورہی ہو کوئی شخص اس میں پیسے دیتا ہے تعمیر کے لیے اس نیت سے کہ اللہ مجھے آزمائش ومصیبت سے محفوظ رکھے تو کیا ایسا صدقہ یا ایسے پیسے دینے سے وہ آزمائش سے محفوظ رہے گا یا مدرسہ میں وہ پیسے دے گا تو اللہ اس کو مصیبت سے دور رکھے گا۔ 2۔اگر کسی کو پریشانی ہو وہ مسجد میں یامدرسہ میں رقم دیتا ہے اب اس نے رقم مسجد مدرسے کو دے دی، کیا اس سے پریشانی ہٹ جائے گی؟ یا مسجد میں یا مدرسے میں وہ رقم جب تک خرچ نہیں ہوگی اس وقت تک پریشانی نہیں ہٹے گی۔یا مسجد میں رقم دینے سے وہ بری الذمّہ ہو جاتا ہے۔

o

دونوں خیر کے کام ہیں موقع کی مناسبت سے کسی عمل کی فضیلت بڑھ جاتی ہے۔اگر تعمیر ِمسجد کی ضرورت زیادہ ہو تو اس میں خرچ کرنا افضل ہےاور اگر بچوں کی دینی تربیت نہ ہونے کی وجہ سے مدرسے کی ضرورت زیادہ ہو تو مدرسے میں خرچ کرنا افضل ہوگا۔رہی یہ بات کہ آزمائش اور مصیبت سے حفاظت ہوجائے اس میں اللہ تعالی کا غیبی نظام کارفرما ہے:کبھی اللہ کے راستے میں خرچ کرنے سے وہی آزمائش اور مصیبت ٹل جاتی ہے جس کی نیت سے بندہ خرچ کرتا ہے،کبھی اس کی وجہ سے دوسری آنے والی بڑی مصیبت ٹل جاتی ہےاور کبھی اللہ تعالی اس کے درجات بلند فرماتے ہیں۔ جب کسی مستحق یا ادارے کے ذمہ داروں کو صدقہ و خیرات حوالہ کردیا جائے تو اس سے دینے والے کو ثواب اور فضائل حاصل ہوجاتے ہیں،خواہ لینے والا جب بھی خرچ کرے۔

حوالہ جات

قالرسولاللهصلىاللهعليهوسلم: «بادروابالصدقةفإنالبلاءلايتخطاها» . رواهرزين (مشكاةالمصابيح) وقال ملا علی القاریؒ فی شرحہ:"(وعنعلي - رضياللهعنه - قال: قالرسولالله - صلىاللهعليهوسلم -: " بادروا ") أي: الموتأوالمرضأوغيركم " بالصدقة " أي: بإعطائهاللمستحقة " فإنالبلاءلايتخطاها " أي: لايتجاوزهابليقفدونهاأويرجععنها،قالالطيبي: تعليلللأمربالمبادرةوهوتمثيل،قيل: جعلتالصدقةوالبلاءكفرسيرهانفأيهماسبقلميلحقهالآخرولميخطه،والتخطيتفعلمنالخطواهـ. وفيهأنهيلزممنهأنهلاتدفعالصدقةالبلاءالواقعوهوخلافإطلاقماوردمنأنالصدقةتدفعالبلاء،ولذاقالالطيبي: والأولىأنهجعلالصدقةستراوحجابابينيديالمتصدقولايتخطاهاالبلاءحتىيصلإليه"۔
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔