021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مسجد میں توسیع اورپرانی مسجد میں حفظ اورناظرہ کی کلاس لگانا
62554وقف کے مسائلمسجد کے احکام و مسائل

سوال

ہمارے گاؤں میں ایک مسجد ہے جس میں باقاعدہ 25سال سے نماز پڑھی جارہی ہے، اب وہ مسجد آبادی کے درمیاں آگئی ہے، جگہ تنگ ہونے کی وجہ سے وہاں کے لوگ یہ چاہتے ہیں کہ گاؤں سے باہر ایک مسجد بنائی جائے اوراس مسجد کو وہاں سے منتقل کیا جائے، تاکہ وہاں سب سہولت سے نماز اد کرسکیں ، پوچھنا یہ ہے کہ 1۔ کیا اس مسجد کو غیر آباد چھوڑسکتے ہیں ؟ 2۔ کیا اس مسجد کو نماز کے علاوہ کسی اوردینی کام کےلیے استعمال کرسکتے ہیں یا نہیں؟ سائل نے فون پر بتایا کہ مذکورہ گاؤں سےزیادہ ترگھر گاؤں سے باہر منتقل ہوگئے ہیں ،تین،چار گھر ہی اس مسجد کےارد گرد رہ گئے ہیں اورجولوگ باہرمنتقل ہوئے ہیں ان کے لیے اس مسجد میں آنامشکل ہےکیونکہ وہ نصف کومیٹرکے فاصلے پر ہے ،نیز یہ مسجداب تنگ بھی پڑ چکی ہے، اس لیے باہر مسجد بنوائی جارہی ہے۔

o

(1،2)مسجد منتقل نہیں کی جاسکتی اورنہ ہی مسجد کوغیر آباد چھوڑا جاسکتاہے، لہذا مسئولہ صوت میں پہلے تو مسجد سے متصل مکانات خرید کر اسی مسجد میں توسیع کی کوشس جائے، اوراگران مکانات والوں میں سے کوئی اپنا مکان فروخت کرنے سے انکار کردے تو بذریعہ عدالت کاروائی کرکے اس سے جبراً بھی مکان لیاجاسکتاہے،تاہم اگر اس مسجدمیں توسیع مشکل ہوتو پھرگاؤں سے باہر مسجد بنالی جائے ،تاہم اس مسجد کو بھی غیر آباد نہ چھوڑا جائے بلکہ،جو تین چار گھر اس کے ارد گردرہ گئے ہیں وہ اس میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھ لیا کریں اوراس کے ساتھ ساتھ اس میں درج ذیل شرائظ کا لحاظ رکھتے حفظ اورناظرہ کی درسگاہ قائم کی جائے،تاکہ یہ آبادرہے۔ الف:مسجد کےآداب ، نظافت اور پاکیزگی کا خیال رکھا جائے۔ ب:اگر کوئی شخص اس نماز، ذکر اور تلاوت کرے تو اس کی عبادت میں خلل واقع نہ ہو۔ ج: استاد مسجد میں تعلیم کے لیے بیٹھتے وقت اعتکاف کی نیت کرے۔

حوالہ جات

فتح القدير للكمال ابن الهمام (6/ 235) ولو ضاق المسجد وبجنبه أرض وقف عليه أو حانوت جاز أن يؤخذ ويدخل فيه. ولو كان ملك رجل أخذ بالقيمة كرها. تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (3/ 331) ولو ضاق المسجد على الناس وبجنبه أرض لرجل تؤخذ أرضه بالقيمة كرها. المحيط البرهاني في الفقه النعماني (6/ 206) لو ضاق المسجد على الناس وبجنبه أرض لرجل تؤخذ أرضه بالقيمة كرهاً منه صح عن عمر وكثير من الصحابة وصفهم أنهم أخذوا أرضين بكره من أصحابها، وزادوا في المسجد الحرام حين ضاق بهم. مجلة مجمع الفقه الإسلامي - (ج 4 / ص 675) لا يجوز لولي الأمر أن يعتدي على ملك فرد من الأفراد , فليس له أن يجعله في منفعة عامة مملوكًا لجماعة المسلمين , إلا إذا تطلبت مصلحة المسلمين ذلك , فيأخذه الإمام عن رضا أو عن قهر ببدله دون غنى على صاحبه ؛ وذلك لأن المصلحة العامة مقدمة على المصلحة الخاصة . وذلك ما حدث في توسعة المسجد الحرام حين ضاق على الناس في عهد عمر بن الخطاب رضي الله عنه , فقد كانت دور الناس محدقة به من كل جانب , عدا فتحات يدخل منها الناس إليه , فاشترى عمر دورًا منها , وأبى عليه أصحاب الدور الأخرى , فأخذها منهم قسرًا , ووضع قيمتها بخزانة الكعبة , وأدخل الجميع المسجد . وظلت القيمة بالخزانة إلى أن أخذها أصحابها , ثم كثر الناس في عهد عثمان وضاق عليهم المسجد مرة أخرى , فأراد توسعته , فاشترى من قوم , وأبى عليه آخرون , فأخذ دورهم جبرًا , وعزرهم ؛ لأنه ليس للمالك أن يأبى حين يدعوه إلى بيع ملكه داعي المصلحة العامة , فإذا أبى , كان إباؤه ظلما , فيدفع . وليس يجوز أن يؤخذ ملك إنسان بلا عوض لمصلحة عامة , بل يجب تعويضه من بيت مال المسلمين. الدر المختار شرح تنوير الأبصار (ص: 90): ويحرم فيه السؤال، ويكره الاعطاء مطلقا، وقيل: إن تخطى، وإنشاد ضالة، أو شعر إلا ما فيه ذكر، ورفع صوت بذكر، إلا للمتفقهة،والوضوء فيما أعد لذلك، وغرس الاشجار إلا لنفع كتقليل نز، وتكون للمسجد، وأكل ونوم، إلا لمعتكف وغريب، وأكل نحو ثوم، ويمنع منه، وكذا كل مؤذ ولو بلسانه،وكل عقد إلا لمعتكف بشرطه. وحاشية ابن عابدين (6/ 428) وفي الخلاصة تعليم الصبيان في المسجد لا بأس به اهـ وفی البخاری ، کتاب الأذان، باب فضل صلاة الجماعة، 1 : 231، رقم : 219 صَلَاةُ الْجَمَاعَةِ تَفْضُلُ صَلَاةَ الْفَذِّ بِسَبْعٍ وَعِشْرِيْنَ دَرَجَةً. وفی مسند أحمد ۳(/۴۳۹) عن معاذ بن أنس رضي اللّٰہ عنہ عن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم أنہ قال: الجفاء کل الجفاء، والکفر والنفاق: من سمع منادی اللّٰہ ینادي إلی الصلاة فلا یجیبہ.
..

n

مجیب

سید حکیم شاہ صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔