021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بغیر احرام کے میقات عبور کرنے کا حکم
..حج کے احکام ومسائلمیقات کابیان

سوال

اگر کوئی شخص multiple visaیاvisit visaلیتا ہے اور اس ویزے پر حج یا عمرہ کرتاہے اور مواقیت سے بغیر احرام کے گزرتا ہے ،چونکہ قانونی طور پر اس ویزے پر حج یا عمرے کی اجازت نہیں ہوتی ,اس لئےپولیس کی گرفت سے بچنے کے لئے بغیر احرام کے گزرتا ہے ،حالانکہ اس کی نیت حج یا عمرہ ہی کی ہوتی ہے ،تو کیا اس پر بغیر احرام کے گزرنے کی وجہ سے دم لازم ہوگا؟

o

اگر اس ویزہ پر حج اور عمرہ کرنے کی اجازت نہیں ہےتو ایسا کرنے سے قانون کی خلاف ورزی کا گنا ہ ہوگا ۔اس طرح حج یاعمرہ کرنے سے حج وعمرہ ادا ہوجائے گا ،لیکن بغیراحرام کے میقات سےگذرنے کی وجہ سے اس پر دم بھی لازم ہوگا ۔

حوالہ جات

( آفاقي ) مسلم بالغ ( يريد الحج ) ولو نفلا ( أو العمرة ) فلو لم يرد واحدا منهما لا يجب عليه دم بمجاوزة الميقات ، وإن وجب حج أو عمرة إن أراد دخول مكة أو الحرم على ما سيأتي في المتن قريبا ( وجاوز وقته ) ظاهر ما في النهر عن البدائع اعتبار الإرادة عند المجاوزة ( ثم أحرم لزمه دم ؛ كما إذا لم يحرم ، ( قوله وجاوز وقته ) أي ميقاته ، والمراد آخر المواقيت التي يمر عليها ، إذ لا يجب عليه الإحرام من أولها كما مر أول الكتاب ( قوله اعتبار الإرادة عند المجاوزة ) أي أن الآفاقي الذي جاوز وقته تعتبر إرادته عند المجاوزة ، فإن كان عند قصد المجاوزة أراد دخول مكة لحج أو غيره لزمه الإحرام من الميقات ، وإلا بأن أراد دخول مكان في الحل لحاجة فلا شيء عليه .
..

n

مجیب

احسان اللہ شائق صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔