021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
رشوت دینے کا حکم
57813خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

جو بھی مسافر نئے ویزے پر باہر جاتا ہے تو اس کے دو طریقے ہوتے ہیں، ایک طریقہ پر وٹکٹر اور دوسرا طریقہ ایئرپورٹ ذمہ کا ہے۔ پہلاطریقہ پروٹکٹر حکومتی طریقہ ہے اس پر جانے والے بندے پر یہ اشیاء لازمی ہیں: (1) اسٹیٹ لائف بیمہ (2) میڈیکل (3) پولیس صفائی اور حکومت کے ٹیکس۔ وقت بھی زیادہ لگتا ہے اور تکلیف بھی زیادہ۔ دوسرا طریقہ ایئرپورٹ ذمہ کا ہے ، اس کا مطلب یہ ہے کہ ٹریول والے "FIA" کو نقد رقم یعنی رشوت دے کر پروٹکٹر طریقے سے بچ جاتا ہے، اس میں وقت کم اور تکلیف بھی کم ہے۔ ٹریول والے کہتے ہیں کہ اگر ہم یہ طریقہ اختیار نہیں کرتے تو لوگ ہم سے ٹکٹ نہیں خریدتے، کیونکہ ہر ٹریول والا یہ کام کرتا ہے، کیونکہ لوگ حکومت کی بے جا پابندیوں سے تنگ ہیں۔

o

عام طور پرمذکورہ سفری دستاویزات کو حاصل کرنا اس حد تک مشکل نہیں ہوتاکہ ان کےحصول کےلیے رشوت دینا پڑے، لہذا اگر ٹریول ایجنسی والے مذکورہ دستاویزات متعلقہ اداروں سےاپنے تعلقات کی بنیاد پر حاصل کرکے لوگوں کی آسانی کے لیےانہیں یہ فراہم کرنا تو جائز ہے اور اس پر ایجنسی والے اجرت بھی لے سکتے ہیں،البتہ رشوت دےکریہ کام کراناناجائزاورحرام ہے۔

حوالہ جات

"عن ثوبان قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم الراشي والمرتشي والرائش وروى عنه والرائش الذي يمشي بينهما أخذ ذلك الريش التي تتخذ للسهام التي لا تقوم إلا بها وذلك في الحكم يبينه حديث أم سلمة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم لعن الراشي والمرتشي ام ابن زياد وفي أيام زياد شيئا هو أنفع من الرشا أي أنهم كانوا يفعلون ذلك استدفاعا في الحكم ولا يدخل في ذلك من رشى ليصل إلى حقه الممنوع عنه وأما المرتشي منه ليوصله إلى حقه داخل في اللعن ومما يدل عليه ما روى عن جابر بن زيد ما وجدنا في أيللشر عنهم." (المعتصر من المختصر من مشكل الآثار،2/ 6،: المکتبۃ الشاملۃ)
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

فیصل احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔