021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
اجارہ پر دی ہوئی چیز کی بیع کاحکم
57824اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے متفرق احکام

سوال

میں نے ایک شخص سے اس کی دوکان 5 سال کے لیے کرایے پر لی ہے۔معاہدہ میں یہ طے ہوا تھا کہ 5 سال تک مجھ سے یہ دوکان خالی نہیں کروائی جائے گی اور نہ اسے کسی اور کو وہ بیچے گا۔میں نے 5 سال کا کرایہ ایڈوانس پہلے ہی دے دیا تھا۔3 سال ہوچکے ہیں ۔مالک نے اب یہ دوکان کسی اور کو بیچ دی ہے۔مجھے کہ رہا ہے کہ اپنا بقایا کرایہ واپس لے لو اور دوکان خالی کرکے خریدار کے حواے کردو۔میں اس پر راضی نہیں ہوں۔اب میرے لیے شرعاً کیا حکم ہے؟

o

صورت مسؤلہ میں مالک نے جو اس دوکان کو بیچا ہے تو اس کی بیع درست ہے لیکن موقوف ہے۔لہٰذامشتری یا بائع 5 سال پورے ہونے سے پہلے آپ کو اس دوکان سے نہیں نکال سکتا۔لہٰذا آپ کے لیے 5 سال پورے ہونے تک اس دوکان کو اپنے قبضے میں رکھنا جائز ہے۔جب مدت پوری ہوجائے گی تو بیع نافذ العمل ہوگی اور مشتری کو قبضہ دے دیا جائے گا۔

حوالہ جات

درر الحكام في شرح مجلة الأحكام - (1 / 676) لو باع الآجر المأجور بدون إذن المستأجر لا يكون البيع نافذا بحق المستأجر، ولا تنفسخ الإجارة أي إنه يكون موقوفا على إجارة المستأجر أو فك الإجارة.وإن كان نافذا بين البائع والمشتري وسواء أكان المشتري عالما بأن المبيع مأجور أو لا. وليس للمستأجر أن يفسخ البيع بنفسه، وإن فعل فلا حكم لفسخه؛ لأن عدم نفاذه في حق المستأجر إنما للمحافظة على حقه…
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔