021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
زندگی میں اولاد میں کمی بیشی کے ساتھ جائیدادتقسیم کرنا
..میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

۱۔ ایک شخص جس کی عمر تقریبا سترسال ہے،اس کے چھ لڑکے اورتین لڑکیاں ہیں،چھ شادی شدہ ہیں،اور تین غیرشادی شدہ ہیں،وہ اپنی جائیداد زندگی میں پانچ بچوں کویعنی دولڑکوں اورتین لڑکیوں کودیناچاہتاہے،چاربڑے لڑکے خودکفیل اورصاحب اولاد ہیں،آیاوہ ان پانچ بچوں کواپنی زندگی میں اپنی جائیداد کم وبیش کرکے دے سکتاہے؟ ۲۔زرعی زمین اورسکنی زمین وہ اپنے نولڑکے لڑکیوں کوشریعت کے مطابق )للذکرمثل حظ الانثیین( اپنی زندگی میں تقسیم کرنے کاارادہ رکھتاہے۔ زیرغورمسئلہ یہ ہے کہ جوجائیداد مکان کی صورت میں ہے وہ پانچ بچوں کوکمی بیشی کے ساتھ دیناشرعاجائز ہے یانہیں؟قرآن وحدیث کی روشنی میں راہنمائی فرمائیں۔

o

۱۔صورت مسئولہ میں اگربقیہ اولادکومحروم کرنامقصدنہ ہو،اورانہیں مالی تنگی بھی نہ ہوتو مذکورہ شخص زندگی میں اپنی جائیداد(پانچ بچوں میں) کم وبیش کرکے تقسیم کر سکتاہے،لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ جس کوجتنادے اس کومکمل قبضہ میں بھی دیدے۔ یادرہے کہ زندگی میں جوکچھ اولاد کودیاجاتاہے وہ میراث نہیں ہوتی، ہبہ وعطیہ ہوتاہے،اورہبہ کے مکمل ہونے کے لئے قبضہ میں دیناضروری ہے،اورہبہ کرنے میں بہترتویہ ہے کہ تمام اولاد میں برابری کی جائے،لیکن اگرکسی لڑکے یالڑکی کوکسی معقول وجہ سے زیادہ دیدیاجائے تواس میں کوئی حرج نہیں،اسی طرح کچھ جائیدادکوللذکرمثل حظ الانثیین کے مطابق تقسیم کرے اورکچھ کوکسی معقول عذرسے کمی بیشی کے ساتھ یہ بھی جائزہے،بشرطیکہ قبضہ تام ہوجائے۔

حوالہ جات

" خلاصۃ الفتاوی " 4/ 40 : وفی الفتاوی: رجل لہ ابن وبنت ارادان یھب لھما شیئافالأفضل ان یجعل للذکرمثل حظ الانثیین عندمحمدرحمہ اللہ تعالی وعندابی یوسف رحمہ اللہ تعالی بینھماسواء ھوالمختارلورودالآثار،ولووھب جمیع مالہ لابنہ جازفی القضاء وھوآثم ثم نص عن محمد رحمہ اللہ تعالی ھکذافی العیون ،ولوأعطی بعض ولدہ شیئادون البعض لزیادۃ رشدہ لاباٗس بہ وان کاناسواء لاینبغی أن یفضل ،ولوکان ولدہ فاسقافأراد أن یصرف مالہ الی وجوہ الخیرویحرمہ عن المیراث ھذاخیرمن ترکہ لان فیہ اعانۃ علی المعصیۃ ولوکان ولدہ فاسقالایعطی لہ أکثرمن قوتہ۔ "الفتاوى الهندية "35 / 24: ولو وهب رجل شيئا لأولاده في الصحة وأراد تفضيل البعض على البعض في ذلك لا رواية لهذا في الأصل عن أصحابنا ، وروي عن أبي حنيفة رحمه الله تعالى أنه لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل له في الدين ، وإن كانا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف رحمه الله تعالى أنه لا بأس به إذا لم يقصد به الإضرار ، وإن قصد به الإضرار سوى بينهم يعطي الابنة مثل ما يعطي للابن وعليه الفتوى هكذا في فتاوى قاضي خان وهو المختار ، كذا في الظهيرية . "صحیح البخاری "418 : قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم اعدلوابین اولادکم فی العطیۃ ۔ "البحرالرائق" 7/490 : وفی الخلاصۃ :المختارالتسویۃ بین الذکرواالانثی فی الھبۃ ۔
..

n

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

فیصل احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔