021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ڈاکٹرکامردو خواتین مریضوں کے معاینہ وتشخیص /چیک اپ کےمعاملے میں عدم احتیا ط
..جائز و ناجائزامور کا بیانعلاج کابیان

سوال

ہمارے گھر کے پاس ایک ڈاکٹر صاحب کا کلینک ہے جس میں وہ مریضوں کا معائنہ کرتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب ماشاءاللہ دیندار ہیں اور کافی پرانے ہیں۔ کچھ دن پہلے ان کے کلینک پر جانے کا اتفاق ہوا تو مناسب نہیں لگا کہ وہ اپنے کمرے میں ایک ہی وقت میں تین تین مریض بلالیتے ہیں جبکہ باہر ویٹنگ میں اچھی خاصی جگہ موجود ہوتی ہے۔کمرے میں اللہ کے بندے یہ نہیں دیکھتے کہ ایک patient دوسرے patient کے سامنے اپنے مسائل یا تکلیف کیسے بتائے ؟ اور سونے پر سہاگہ یہ ہے کہ وہ ladies اور gents میں بھی فرق نہیں کرتے، مطلب یہ کہ ladies کے سامنے gents کو بٹھا کر پوچھتے ہیں کہ آپ کو کیا تکلیف ہے؟ اسی طرح جینٹس کے سامنے لیڈیز کو۔ برائے کرم مجھے یہ معلوم کرنا ہے کہ ڈاکٹر صاحب جس طرح مریض کا چیک اپ کررہے ہیں وہ طریقہ صحیح ہے یا نہیں؟ اور مریض کو بھی بتائے کہ تکلیف ہوتی ہے کہ اپنی تکلیف دوسرے کے سامنے بتائے اور عورتوں کے لیے پردے کا بھی مسئلہ ہوتا ہے۔ان کے اسٹاف میں کمپاؤڈر سے ہم نے بات کی تو اس نے کہا کہ کئی لوگوں نے شکا یت کی ہے اس حوالے سے، پر ڈاکٹر صاحب کے سمجھ میں نہیں آتی ہے۔ برائے مہربانی شرعی نقطہ نظر سے ڈاکٹر صاحب کی رہنمائی فرمائیں۔

o

اسلام نے عورت کو پردہ کرنے کا حکم دیا ہے۔ لیکن چند مواقع ایسے ہیں جہاں شدید ضرورت اور حاجت کی وجہ سے شریعت نے اس بات کی اجازت دی ہے کہ ضرورت کے بقدر پردہ میں تخفیف ہو۔ ان مواقع میں سے ایک موقع یہ ہے کہ اگر کوئی ماہر خاتون ڈاکٹر میسر نہ ہو تو اس صورت میں صرف دین دار مرد سے علاج کراسکتی ہے اور بیماری کی جگہ دکھانا اگر ضروری ہو تو دکھاسکتی ہے لیکن شرط یہ ہے کہ ضرورت سے زائد ستر نہ کھولے۔ لیکن مذکورہ بالا اجازت صرف ڈاکٹر کے ساتھ خاص ہے ۔ڈاکٹر کے علاوہ دوسرے مردوں سے پردے کا حکم وہ ہے جو عام حالات میں ہے، لہذا صورت مسؤلہ میں ڈاکٹر صاحب کے لیے مناسب نہیں ہے کہ وہ دیگر نامحرموں کے سامنے عورت سے اس کے مسائل دریافت کریں۔ ڈاکٹر صاحب کے مذکورہ طرز ِعمل سے درج ذیل شرعی خرابیاں لازم آتی ہیں: 1۔ ڈاکٹر صاحب کی وجہ سے نامحرموں کے سامنے بے پردگی اور اس کا گناہ 2۔ ڈاکٹر صاحب کی وجہ سے مریضوں کو تکلیف جو کہ ایذاء مسلم کے زمرے آتی ہے۔ 3۔اس طرز عمل کی وجہ سے لوگوں میں بددلی اور بد ظنی مندرہ بالا امور کو پیش نظر رکھتے ہوئے ڈاکٹر صاحب کو نرمی سے سمجھا یا جائے کہ ان کا یہ طریقہ شرعا درست ہے نہ ہی عقلی لحاظ سے مناسب ہے نہ ہی اس علاقے کی رو سے مناسب ہے،لہذا اس طریقہ کار سے اجتناب ضروری ہے۔

حوالہ جات

"أخبرنا أحمد بن الحسن بن عبد الجبار حدثنا أبو نصر التمار حدثنا حماد بن سلمة عن يونس بن عبيد وحميد وذكر الصوفي1 آخر معهما عن أنس بن مالك أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال "المؤمن من أمنه الناس والمسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده والمهاجر من هاجر السوء والذي نفسي بيده لا يدخل الجنة عبد لا يأمن جاره بوائقه" (إسناده صحيح على شرط مسلم، وأخرجه أحمد 3/154، والحاكم في "المستدرك" 1/11، من طريق الحسن بن موسى الأشيب، عن حماد بن سلمة، بهذا الإسناد، وصححه الحاكم على شرط مسلم، وأقره الذهبي.وقوله: "لا يدخل الجنة عبد لا يأمن جاره بوائقه" أخرجه ابن أبي الدنيا في "مكارم الأخلاق" "341" عن أبي نصر التمار، بهذا الإسناد.) صحيح ابن حبان - محققا (2/ 264) "(ينظر) الطبيب(إلى موضع مرضها بقدر الضرورة) إذ الضرورات تتقدر بقدرھا، وكذا نظر قابلة وختان وينبغي أن يعلم امرأة تداويها لان نظر الجنس إلى الجنس أخف۔" الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار (ص: 656)
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔