021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
قرض کا مطالبہ مدت پوری ہونے سے پہلے کرنا جائز ہے
60089-2جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

میں نے مارکیٹ میں ایک دوکاندار سے 6 لاکھ روپے نقد تین ماہ کے لیے قرض حسنہ لیا۔قرضہ لیتے وقت اور مدت کی تعیین کے وقت مارکیٹ کے تین افراد گواہ کے طور پر ساتھ تھے ۔ابھی بھی تینوں گواہ زندہ ہیں اور گواہی دینے کے لیے تیار ہیں۔مسئلہ یہ درپیش ہوا کہ ابھی صرف ایک مہینہ گذرا ہے اور وہ دوکاندار مجھ سے اپنے قرض کا مطالبہ کر رہا ہے،حالانکہ میں نے اس قرضے سے جو مال منگوایا تھا وہ ابھی 50 فیصد بھی نہیں بکا اور نہ میرے پاس ادائیگی کی گنجائش ہے۔یہی وجہ تھی کہ مدت تین مہینے باقاعدہ طے کی گئی تھی۔اب وہ دوکاندار روزانہ مجھ سے مارکیٹ میں جھگڑتا ہے کہ میرے پیسے مجھے واپس کرو۔سوال یہ ہے کہ کیا اس کا اس طرح وقت سے پہلے قرض کا مطالبہ کرنا جائز ہے؟

o

شریعت مطہرہ نے قرض خواہ کو اس بات کی اجازت دی ہے کہ وہ اپنے قرض کا مطالبہ طے شدہ مدت سے پہلے بھی کرسکتا ہے۔لیکن ساتھ ساتھ یہ بھی حکم ہے کہ اگر وہ بلا ضرورت طلب کر رہا ہے تو وعدہ خلافی کا گناہ ضرور ہوگا۔اگر آپ کے پاس فی الحال ادائیگی کی گنجائش نہیں ہے تو قرض خواہ کو چاہیے کہ آپ کو مہلت دے۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 157) (ولزم تأجيل كل دين) إن قبل المديون (إلا) في سبع على ما في مدينات الأشباه بدلي صرف وسلم وثمن عند إقالة وبعدها وما أخذ به الشفيع ودين الميت، والسابع (القرض) فلا يلزم تأجيله. أحكام القرآن للجصاص (2/ 194) وإن كان ذو عسرة فنظرة إلى ميسرة فيه تأويلان أحدهما وإن كان ذو عسرة غريما لكم فنظرة إلى ميسرة.
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔