021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
موبائل خرید نے کے بعد دو نمبر نکل آیا
..خرید و فروخت کے احکامبیع فاسد ، باطل ، موقوف اور مکروہ کا بیان

سوال

معزز علما ء کرام ! علی نے ایک موبائل شاپ سے ایک سیل فون خریدا جوتقریباً مبلغ 48000 روپے کا تھا مگر جب وہ فون گھر لے کر گیا اور چیک کیا تو وہ کورین ( KORIAN) فون تھا، جس کی مالیت تقریبا 8 سے 9 ہزار تھی۔نتیجۃ علی کا اس دکاندار سے جھگڑا ہوگیا ۔اس معاملے میں رہنمائی فرمائےکیونکہ اس نے وہ فون ORIGINAL سمجھ کر لیا تھا۔ تفصیلی وضاحت فرمائے۔

o

شریعت کا اصول ہے کہ جس چیز کی بیع ہوئی ہے ، اگرقبضہ کے بعد اس سے مختلف نکل آئے تو اس صورت میں خرید وفروخت باطل ہوجاتی ہے۔ پوچھے گئے سوال میں چونکہ جو موبائل فون خریدا گیا تھاوہ بعد میں کورین نکل آیا جس کی وجہ سے مذکورہ بیع درست نہیں ہو ئی، اس لیے کہ اوریجنل اور کورین سیل فون مقاصد، منافع اور نام کے مختلف ہونے کی وجہ سے الگ جنس تصور کیے جاتے ہیں،لہذا دوکاندار پر لازم ہے کہ وہ اس موبائل کو واپس لے کر رقم واپس کرے،البتہ سیل کھولنے کی وجہ سے قیمت میں جوکمی آرہی ہووہ خریدار کے ذمہ لازم ہوگی۔

حوالہ جات

قال رحمہ اللہ:" (وبيع أمة تبين أنه) ذكر الضمير لتذكير الخبر (عبد وعكسه) بخلاف البهائم، والأصل أن الذكر والأنثى من بني آدم جنسان حكما فيبطل، وفي سائر الحيوانات جنس واحد فيصح ويتخير لفوات الوصف" . الدر المختار (5/ 53) قال ان عابدین –رحمہ اللہ - : "ومن المختلفي الجنس ما إذا باع فصا على أنه ياقوت فإذا هو زجاج فالبيع باطل۔" الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 54) وقال: "ثم اختلاف الجنس يعرف باختلاف الاسم الخاص واختلاف المقصود كما بسطه الكمال۔" الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 174) "وأما الذي يرجع إلى نفس العقد فهو أن يكون القبول موافقا للإيجاب، بأن يقبل المشتري ما أوجبه البائع وبما أوجبه، فإن خالفه بأن قبل غير ما أوجبه أو بعض ما أوجبه أو بغير ما أوجبه أو ببعض ما أوجبه؛ لا ينعقد من غير إيجاب مبتدإ موافق۔" بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (5/ 136) واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔