021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
عورت کانامحرم سے ہنر سیکھنے کاحکم
..جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

عورت غیرمحرم مردسے تعلیم حاصل کرسکتی ہے یانہیں؟ اگرنہیں کرسکتی توکیوں؟اوراگرکرسکتی ہے تواس میں کن شرائط کوملحوظ رکھناضروری ہے؟اسی طرح کسی عورت کاغیرمحرم مرد سے کوئی فن یاہنرمثلاڈرائیونگ،ٹیلرنگ اورکھاناپکانا وغیرہ سیکھنے کاکیاحکم ہے؟

o

اللہ تعالی نے مردوعورت کےدرمیان تخلیقی طورپر ایک دوسرے کےلئے کشش رکھی ہے جوایک دوسرے کے لئے قریب لانے کاذریعہ بنتی ہے،اللہ تبارک وتعالی نے مردوعورت کے درمیان ایک دوسرے کے لئے پائی جانے والی اس کشش اورفطری میلانات کی رعایت کرتے ہوئے کچھ ایسے احکام اوراحتیاطی تدابیر بیان فرمائی ہیں جن پرعمل کے نتیجہ میں مردوعورت اپنی اس فطری کشش سے مغلوب ہوئے بغیر کسی چوراورناجائزطریقہ سے کسی فتنہ اورگناہ میں مبتلا نہ ہوسکیں ، اور نہ ہی ان کوکسی گناہ کاموقع مل سکے،چناچہ قرآن میں اللہ تبارک وتعالی نے صحابہ کرام (جوکائنات کے مقدس ترین لوگ تھے) سے ارشاد فرمایا:جب تم نے ازواج مطہرات سے بات کرنی ہوتوپردہ کے پیچھے سے کیاکرواوردوسری جگہ ازواج مطہرات کوحکم دیاکہ جب تمہیں کسی اجنبی سے بات کرنی پڑجائے تونرم لہجہ اختیارنہ کروجس سے سامنے والا کسی فتنہ میں مبتلاہوجائے،بلکہ اس کے لئے سخت اندازاختیارکرو،اس سے اندازہ لگایاجاسکتاہے کہ دین اسلام میں اللہ تعالی نے مردوعورت کوگناہ سے بچانے کے لئے کتنی سخت ہدایات دی ہیں۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ عورت کانامحرم سے خلوت اورتنہائی میں پڑھنےاورسیکھنے سے اپنی فطری جذبات سے مرعوب ہوکرگناہ میں پڑجانے کاقوی اندیشہ ہوتاہے ،اس لئے عورت کونامحرم سے خلوت میں کوئی چیزسیکھنے سےسختی کے ساتھ منع کیاگیاہے، البتہ اگرعورت تعلیم یاکوئی ہنرسیکھناچاہتی ہواوراس کام کے سکھانے کے لئے کوئی دوسری عورت دستیاب نہ ہوتونامحرم سے درج ذیل شرائط کے ساتھ پڑھنے اورسیکھنے کی اجازت ہے: ۱۔ پردے کامکمل اہتمام ہو ۔ 2۔ استاذ کےساتھ خلوت کاموقع نہ آ نےدے۔ 3۔ خوشبولگاکراورمزین ہوکرنہ جائیں ۔ 4۔مرد سے بقدرضرورت بات چیت سے زائد بے تکلفی اورہنسی مزاح سے سخت اجتناب کریں۔

حوالہ جات

"تفسير ابن كثير " 6 / 409، 410: وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَى وَأَقِمْنَ الصَّلَاةَ وَآَتِينَ الزَّكَاةَ وَأَطِعْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا (33) وقوله: { وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ } أي: الزمن بيوتكن فلا تخرجن لغير حاجة. ومن الحوائج الشرعية الصلاة في المسجد بشرطه، كما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "لا تمنعوا إماء الله مساجد الله، وليخرجن وهن تَفِلات" وفي رواية: "وبيوتهن خير لهن" وقال الحافظ أبو بكر البزار: حدثنا حميد بن مَسْعَدةحدثنا أبو رجاء الكلبي، روح بن المسيب ثقة، حدثنا ثابت البناني عن أنس، رضي الله عنه، قال: جئن النساء إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلن: يا رسول الله، ذهب الرجال بالفضل والجهاد في سبيل الله تعالى، فما لنا عمل ندرك به عمل المجاهدين في سبيل الله؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "من قعد -أو كلمة نحوها -منكن في بيتها فإنها تدرك عمل المجاهدين في سبيل الله". ثم قال: لا نعلم رواه عن ثابت إلا روح بن المسيب، وهو رجل من أهل البصرة مشهور ۔ وقال البزار أيضا: حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا عمرو بن عاصم، حدثنا همام، عن قتادة، عن مُوَرِّق، عن أبي الأحوص، عن عبد الله، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "إن المرأة عورة، فإذا خرجت استشرفها الشيطان، وأقرب ما تكون بروْحَة ربها وهي في قَعْر بيتها".ورواه الترمذي، عن بُنْدَار، عن عمرو بن عاصم، به نحوه ۔ وروى البزار بإسناده المتقدم، وأبو داود أيضا، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "صلاة المرأة في مَخْدعِها أفضل من صلاتها في بيتها، وصلاتها في بيتها أفضل من صلاتها في حجرتها" وهذا إسناد جيد۔ وقوله تعالى: { وَلا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الأولَى } قال مجاهد: كانت المرأة تخرج تمشي بين يدي الرجال، فذلك تبرج الجاهلية. وقال مقاتل بن حيان: { وَلا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الأولَى } والتبرج: أنها تلقي الخمار على رأسها، ولا تشده فيواري قلائدها وقرطها وعنقها، ويبدو ذلك كله منها، وذلك التبرج، ثم عمت نساء المؤمنين في التبرج.۔ احکام القرآن(319/3): فعلم أن الآیة قرارھن فی البیوت الاالمواضع الضرورة الدینیة کالحج والعمرة أوالدنیویةکعیادة قرابتہا وزیارتھم أواحتیاج الی النفقة وامثالھا،نعم لاتخرج عندالضرورة ایضامتنرجة بزینة تبرج الجاھلیة الاولی،بل فی ثیاب بذلة متسترة بالبرقع اوالجلباب غیرمتعطرة ولامتزاحمة فی جموع الرجال ،فلایجوزلھن الخروج من بیوتھن الاعندالضرورة بقدرالضرورة مع اھتمام التستروالاحتجاب کل الاھتمام وماسوی ذلک فمحظور۔ "البحر الرائق " 11 / 133: ( قوله ومعتدة الموت تخرج يوما وبعض الليل ) لتكتسب لأجل قيام المعيشة ؛ لأنه لا نفقة لها حتى لو كان عندها كفايتها صارت كالمطلقة فلا يحل لها أن تخرج لزيارة ولا لغيرها ليلا ولا نهارا . والحاصل أن مدار الحل كون خروجها بسبب قيام شغل المعيشة فيتقدر بقدره فمتى انقضت حاجتها لا يحل لها بعد ذلك صرف الزمان خارج بيتها كذا في فتح القدير۔
..

n

مجیب

محمد اویس صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔