021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
زمین کے کرایہ کے بدلے ٹیوب ویل لگانا
60391اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے متفرق احکام

سوال

ایک شخص نے اپبی زمین کرایہ پر دی اور بدلے میں کرایہ دار سے کہا کہ وہ اُسے ٹیوب ویل لگا کر دے۔کیا ٹیوب ویل لگوانے کو زمین کا کرایہ شمار کیا جا سکتا ہے؟

o

کرایہ داری کےمعاملےمیں کرایہ (اجرت)کااس طرح معلوم ومتعین ہوناضروری ہےکہ اس میں کسی قسم کی جہالت باقی نہ رہےجوکہ بعدمیں جاکرلڑائی جھگڑےاورنزاع کا سبب بنے۔کرایہ کواس طرح متعین کئےبغیر مجہول چھوڑدیناناجائزہے،لہذاایسی صورت میں کرایہ داری(اجارہ) کامعاملہ بھی فاسدہوجاتاہے،چونکہ ٹیوب ویل چوڑائی،گہرائی اورموٹروآلات وغیرہ کےلحاظ سےمختلف قسم کی ہوتی ہیں،نیزبجلی کےآلات وغیرہ بھی مختلف قسم کےہوتےہیں،اسلئےاس طرح ٹیوب ویل اوربجلی وغیرہ کے آلات وغیرہ کوزمین کی اجرت قراردینادرست نہیں اوراس صورت میں کرایہ داری (اجارہ) کامعاملہ فاسد وناجائز ہوگا۔لہٰذا مناسب یہ ہےکہ کوئی رقم باہمی رضامندی سےکرایہ کےطورپرمتعیّن کی جائےاوریہ وعدہ کرلیاجائےکہ مدّت پوری ہونے کےبعدکرایہ دارزمین میں جوچیزیں چھوڑکرجائےگامالکِ زمین اسکی قیمت اداکردےگا۔

حوالہ جات

(سئل) في رجل أذنت له أمه بأن يسكن في دارها المملوكة لها بشرط أن يعمرها فسكن في الدار مدة ولم يعمرها فهل يلزمه لها أجرة المثل في المدة المزبورة؟ (الجواب) : نعم رجل دفع إلى آخر دارا ليسكنها ويعمرها فسكن مدة ولم يعمرها فإن كان أذن له بشرط العمارة يجب أجر المثل؛ لأنه لما شرط العمارة فقد آجره بأجرة مجهولة فيجب أجر المثل؛ لأن قدر العمارة مجهول وإن سكن وعمر فإنه ينظر إلى العمارة وأجر المثل جواهر الفتاوى من أوائل كتاب الإجارات ...(أقول) أيضا وجه كون ذلك إجارة فاسدة أن صاحب الدار لم يملك منفعة داره إلا بعوض لكنه لما جهل العوض وقت العقد وجب أجر المثل بالغا ما بلغ والمعمر غير متبرع؛ لأنه لم يعمر إلا بمقابلة السكنى وبما نقله المؤلف ونقلناه أيضا علم أن ذلك ليس بإعارة بل هو إجارة فاسدة. (العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية :2 / 113)
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔