021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
طےشدہ کمیشن سے زیادہ رقم لینے کا حکم
..اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے متفرق احکام

سوال

سوال یہ پوچھنا ہے کہ میری بہن نے مجھے ہر سوٹ کا فکس ریٹ دیا ہوا ہے،کسی سوٹ کا 1یک ہزار کسی کا دو ہزار اور کی کا پندرہ سو بھی ہے،مختلف سوٹ کے مختلف ریٹ ہیں جس پر میں سوٹ خواتین کو بیچتی ہوں اورمیری بہن ہر سوٹ پر مجھے سو 100 روپے دیتی ہیں۔کیا میں فکس ریٹ مثلاً دو ہزار سے زیادہ پر سوٹ بیچ سکتی ہوں اور جتنے اضافی پیسے ملیں میں وہ خود رکھ سکتی ہوں یا بہن کو دینا ضروری ہیں؟

o

صورتِ مسئولہ اگرآپ نےیہ کپڑےبہن سےخریدےنہیں تھےبلکہ بہن نےآپ کویہ کپڑےبیچنے کیلئےدیئےتھےاورآپ انکی کمیشن ایجنٹ تھیں تواس صورت میں آپ کےلئےطےکی گئی اجرت(۱۰۰ روپے)لینادرست ہے۔البتہ باقی تمام قیمت بہن کولوٹانا ضروری ہےیعنی بہن کےبتائی ہوئی قیمت سےجتنی زائدقیمت آپ نےوصول کی ہے،وہ بھی بہن ہی کی ملکیت ہے۔البتہ اگربہن وہ زائدنفع اپنی خوشی سےانعام کےطورپرآپ کو دےدیں توآپ کےلئےاسکوقبول کرنا جائزہے۔البتہ اگر آپ نے کپڑے بہن سے خرید لیے تھے تو اس صورت میں ان کو فروخت کرکے حاصل ہونے والا پورا نفع آپ کی ملکیت ہوگا ۔

حوالہ جات

[ (المادة 578) أعطى أحد ماله لدلال وقال بعه بكذا دراهم] (المادة 578) لو أعطى أحد ماله لدلال، وقال بعه بكذا دراهم فإن باعه الدلال بأزيد من ذلك فالفضل أيضا لصاحب المال، وليس للدلال سوى الأجرة. لو أعطى أحد مالا للدلال، وقال بعه اليوم بكذا قرشا فإن باعه الدلال بأزيد من ذلك فالفضل أيضا لصاحب المال؛ لأن هذا الفضل بدل مال ذلك الشخص، فكما أن ذلك المبدل كان ماله فالبدل يلزم أن يكون كذلك، وليس للدلال سوى أجرة الدلالة (علي أفندي بزيادة) (درر الحكام في شرح مجلة الأحكام :1 / 662)
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔