021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مسبوق کاامام کےساتھ سجدہ سہو میں سلام پھیرنا
62211نماز کا بیانمسبوق اور لاحق کے احکام

سوال

اگرجماعت کی ایک رکعت ہونےکےبعدکوئی جماعت میں آجائےاورتین رکعات امام کےساتھ پڑھے۔پھرامام آخری رکعت میں کسی غلطی کی وجہ سے دوسجدےکرنےکےلیےسلام پھیرےتویہ آدمی جس کی ایک رکعت چلی گئی ہے،سلام پھیرے گایانہیں؟

o

مسبوق جس کی کچھ رکعات رہ گئی ہیں سلام پھیرےبغیرسجدہ سہو میں شریک ہوگا۔اگرمسبوق سلام پھیرےجبکہ اس کواپنامسبوق ہونایادہوتونمازفاسدہوجائےگی،لیکن اگر اس کواپنامسبوق ہونایادنہیں تھااورسلام پھیردیاتونمازفاسدنہیں ہوگی،البتہ بعدمیں دوبارہ سجدہ سہوکرےگا ۔

حوالہ جات

قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ:قوله :(والمسبوق يسجد مع إمامه) :قيد بالسجود ؛لأنه لايتابعه في السلام، بل يسجد معه ويتشهد ،فإذا سلم الإمام قام إلى القضاء، فإن سلم، فإن كان عامدا فسدت، وإلا لا.... (قوله ولو سلم ساهيا) قيد به لأنه لو سلم مع الإمام على ظن أنه - عليه السلام - معه فهو سلام عمد، فتفسد ،كما في البحر عن الظهيرية. (رد المحتار:2/ 82) قال العلامۃ ابن نجیم رحمہ اللہ:ثم المسبوق إنما يتابع الإمام في السهو لا في السلام، فيسجد معه، ويتشهد، فإذا سلم الإمام قام إلى القضاء ،فإن سلم ،فإن كان عامدا فسدت، وإلالا. (البحر الرائق :2/ 108)
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

ابولبابہ شاہ منصور صاحب / فیصل احمد صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔