021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
حرام ملازمت سے ملنے والی پنشن کاحکم
..اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے متفرق احکام

سوال

میرے شوہر بینک میں ملازم تھے،ہمارا کوئی بیٹا نہیں ہے،تین بیٹیاں ہیں،ہم کو ہمیشہ ا س بات کا احساس رہا ہے کہ یہ حلال کمائی نہیں ہے،اب شوہر ریٹائر ہوگئے ہیں،اُن کو 27000 پنشن ملتی ہے،اب میں یہ چاہتی ہوں کہ یہ کسی طرح پاک کمائی ہوجائےاور ہمارے استعمال میں نہ آئے۔اس کے علاوہ میں نوکری کرتی ہوں اسکول میں اس سے ملا کر خرچہ چلتا ہے،آپ اس کا بہترین حل بتا دیں۔

o

سودی بینک میں جائز کاموں والے کسی بھی ڈپارٹمنٹ میں ملازمت اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی اور پنشن تینوں جائز ہیں،لیکن جس شخص کی ملازمت ڈائریکٹ سودی لین دین سے متعلق ہو اس کی ملازمت اور تنخواہ ناجائز ہیں،لہٰذا اگر آپ کے شوہر کی ملازمت ڈائریکٹ سودی لین دین سے متعلق کسی ڈپارٹمنت میں تھی تو ملازمت ناجائز ہونے کی وجہ سے تنخواہ تو حرام ہے،رہی بات پنشن کی تو اس سے بھی اجتناب ہی کرنا چاہیے،اس لیے کہ اس پنشن میں گذشتہ خدمات کا عوض ہونے کا پہلو راجح ہے،لہٰذا مسؤلہ صورت میں 27000 روپے جو پنشن ملتی ہے اس سے اجتناب کرنا چاہیے،اگر وصول کر بھی لیں تو اس کا صدقہ کر دینابہتر ہے۔

حوالہ جات

الفتاوى الهندية (5/ 342) وفي شرح حيل الخصاف لشمس الأئمة - رحمه الله تعالى - أن الشيخ أبا القاسم الحكيم كان يأخذ جائزة السلطان وكان يستقرض لجميع حوائجه، وما يأخذ من الجائزة يقضي بها ديونه والحيلة في هذه المسائل أن يشتري نسيئة، ثم ينقد ثمنه من أي مال شاء وقال أبو يوسف - رحمه الله تعالى - سألت أبا حنيفة - رحمه الله تعالى - عن الحيلة في مثل هذا فأجابني بما ذكرنا، كذا في الخلاصة. الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 385) (وجاز أخذ دين على كافر من ثمن خمر) لصحة بيعه (بخلاف) دين على (المسلم) لبطلانه… الفتاوى الهندية (6/ 390) وكل حيلة يحتال بها الرجل ليتخلص بها عن حرام أو ليتوصل بها إلى حلال فهي حسنة، والأصل في جواز هذا النوع من الحيل قول الله تعالى {وخذ بيدك ضغثا فاضرب به ولا تحنث} [ص: 44] وهذا تعليم المخرج لأيوب النبي - عليه وعلى نبينا الصلاة والسلام - عن يمينه التي حلف ليضربن امرأته مائة عود وعامة المشايخ على أن حكمها ليس بمنسوخ وهو الصحيح من المذهب كذا في الذخيرة. الفتاوى الهندية (5/ 342) لا يجوز قبول هدية أمراء الجور؛ لأن الغالب في مالهم الحرمة إلا إذا علم أن أكثر ماله حلال بأن كان صاحب تجارة أو زرع فلا بأس به؛ لأن أموال الناس لا تخلو عن قليل حرام فالمعتبر الغالب، وكذا أكل طعامهم، كذا في الاختيار شرح المختار. الاختيار لتعليل المختار (4/ 176) ولا يجوز قبول هدية أمراء الجور، إلا إذا علم أن أكثر ماله حلال.
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔