021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
اجتماعی فنڈکوبغیراجازت استعمال میں لانے کاحکم
..امانتا اور عاریة کے مسائلمتفرّق مسائل

سوال

ہم کچھ طلبہ عصرکےبعدچائے پینے کے لئے جاتے ہیں،چائے کی قیمت اٹھارہ روپے ہے،چائے پینے کے بعدطلبہ پیسے جمع کرکے کسی ایک کودیدیتےہیں ،جب وہ جمع کرانےکے لئے جاتاہے توہوٹل والا اکثرکچھ پیسے چھوڑدیتاہے،کبھی پانچ روپے،کبھی تین روپے اورکبھی چھ روپے کم کاٹتاہے اورہ یہ رقم وہی بندہ رکھ دوسری بات یہ ہے کہ پہلے پیسے میں خود جمع کرتاتھااوران پیسوں سے کبھی ان کاچاکلیٹ اورکبھی تول کھلادیئے،لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ان میں سے بعض ساتھی کبھی نہیں ہوتے،نیزیہ بھی مجھے یاد نہیں کہ بچنے والے پیسے میرے کھلائے جانے والے پیسوں سے کم تھے یازیادہ ،لیکن اندازہ ہے کہ وہ زیادہ ہیں،پوچھنایہ ہے کہ جو ساتھی نہیں آئے توان کے بچے ہوئے پیسوں کے بارے میں کیاحکم ہے؟لیتاہے جوپیسے دنیے جاتاہے۔پوچھنایہ ہےکہ یہ جائز ہے یانہیں؟

o

جمع کی جانے والی رقم کی حیثیت شرعی طورپرامانت کی ہے،امانت کاحکم یہ ہے اس رقم کاذاتی استعمال جائزنہیں الایہ کہ دینے والے کی طرف سے صراحتایادلالہ اجازت پائی جائے،موجودہ صورت میں اگرساتھیوں کی طرف سے صراحتااجازت ہویاان کاآپس میں بے تکلفی کاایساتعلق ہوکہ وہ اس کومحسوس نہ کرتے ہوں تواس صورت میں رقم کے استعمال کرنے اوراپنے پاس رکھنے میں کوئی حرج نہیں اوریہ ساتھیوں کی طرف سے تبرع اورہدیہ کے زمرہ میں آئے گا،اوراگرآپس میں بے تکلفی کاتعلق نہ ہویاقرائن سے معلوم ہوجائے کہ ساتھی اس کومحسوس کرتے ہیں تواس صورت میں بچ جانے والی رقم کوان کی رضامندی کے بغیراپنے پاس رکھنادرست نہیں،بچ جانے والی رقم سے کوئی مشتر ک چیزخریدکراسی دن تقسیم کردی جائے تاکہ معاملہ اسی دن صاف ہوجائے،یاان کی اجازت سے کسی اورمصرف میں لگادیاجائے۔ اگرمشترک چیزخریدی گئی ،لیکن کچھ شرکاء اس میں نہیں ہیں ،بہترصورت تویہ ہےکہ ان کواطلاع دےکراجازت لے لی جائے اوراگراجازت نہیں لی تب بھی اس کواستعمال کرنے گنجائش ہے،اس لئے عرف عام میں اس کومحسوس نہیں کیاجاتا اورساتھیوں کی طرف سے اس کی اجازت ہوتی ہے۔

حوالہ جات

الفتاوى الهندية (ج 17 / ص 362): "إذا مر في أيام الصيف بثمار ساقطة تحت الأشجار فهذه المسألة على وجوه إن كان ذلك في الأمصار لا يسعه التناول منها إلا أن يعلم أن صاحبها قد أباح ذلك إما نصا أو دلالة بالعادة ، وإن كان في الحائط والثمار مما يبقى كالجوز ونحوه لا يسعه أن يأخذه ما لم يعلم أن صاحبها قد أباح ذلك ، ومنهم من قال : لا بأس به ما لم يعلم النهي إما صريحا أو دلالة ، وهو المختار وإن كان ذلك في الرساتيق التي يقال بالفارسية بيرادسته ، وكان ذلك من الثمار التي تبقى لا يسعه الأخذ إذا علم الإذن وإن كان ذلك من الثمار التي لا تبقى يسعه الأخذ بلا خلاف ما لم يعلم النهي ، وهذا الذي ذكرنا كله إذا كانت الثمار ساقطة تحت الأشجار ، فأما إذا كانت على الأشجار فالأفضل أن لا يأخذه في موضع ما إلا بإذن المالك إلا إذا كان موضعا كثير الثمار يعلم أنه لا يشق عليهم ذلك فيسعه الأكل ولا يسعه الحمل ، كذا في المحيط."
..

n

مجیب

محمد اویس صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔