021-36880325,0321-2560445

بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
طلبہ سے چھٹیوں کی مدت کی فیس وصول کرنے کاحکم
61230اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے جدید مسائل

سوال

میراایک اسکول ہے ،دسویں جماعت کےطلبہ سے ہم اپریل کے مہینہ کی فیس وصول کرتے ہیں ،یہ جماعت مارچ تک اسکول میں آتی ہے،بورڈ کے پیپرزاپریل کے پہلے ہفتہ میں ہوتے ہیں،یہ طلبہ مارچ میں اسکول سے آزادہوتے ہیں،اپریل سے اسکول نہیں آتے،اپریل کی فیس لینے میں یہ نیت ہوتی ہے کہ آگےان کے بہت سارے کام کرنے ہوتے ہیں،مثلابورڈ آفس میں باربارجاناہوتاہےاور یہ فیس لینے کااصول ہراسکول میں موجودہےاورقانونی طورپر منع بھی نہیں۔پوچھنایہ ہے کہ یہ فیس لی جاسکتی ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگرطلبہ کوپہلے سے بتادیاگیاہواورباہمی رضامندی سے طے ہواہوکہ امتحان کی تیاری والے مہینوں اورچھٹیوں کی فیس وصول کی جائیگی یابتایانہ گیاہو،لیکن اس طرح فیس لینے کاعرف ہوتوطلبہ سے چھٹیوں کے مہینوں کی فیس وصول کرناجائزہے،اگرطلبہ کوپہلے سے نہ بتایاگیاہواوراس طرح کاعرف بھی نہ ہوتوچھٹیوں کے مہینوں کی فیس لیناجائزنہیں۔
حوالہ جات
رد المحتار (ج 17 / ص 279): ” قال الفقيه أبو الليث :ومن يأخذ الأجر من طلبة العلم في يوم لا درس فيه أرجو أن يكون جائزا وفي الحاوي إذا كان مشتغلا بالكتابة والتدريس . “ الأشباه والنظائر - حنفي - (ج 1 / ص 118): ”ومنها : البطالة في المدارس كأيام الأعياد ويوم عاشوراء وشهر رمضان في درس الفقه : لم أرها صريحة في كلامهم والمسألة على وجهين : فإن كانت مشروطة لم يسقط من المعلوم شيء وإلا : فينبغي أن يلحق ببطالة القاضي وقد اختلفوا في أخذ القاضي ما رتب من بيت المال في يوم بطالته فقال في المحيط : إنه يأخذ في يوم البطالة لأنه يستربح لليوم الثاني وقيل: يأخذ انتهى. “
..
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اویس صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب