021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مروجہ چینی کا کاروبار(صاحب ضرورت/محتاج شخص سے چینی، چیزسستی خرید کر مہنگی بیچنا)
..خرید و فروخت کے احکامسلم اور آرڈر پر بنوانے کے مسائل

سوال

سوال: ہماے ہاں تاجر یوں کرتے ہیں کہ جب ان کو پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے تو کسی سرمایہ دار کو چینی فروخت کرتے ہیں۔جس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ موجودہ مارکیٹ ریٹ سے کچھ کمی کے ساتھ مثلا پچاس بورے بیچ دیتے ہیں۔اور یہ طے پاتا ہے کہ چینی بعد میں حوالے کی جائے گی۔چنانچہ دکاندار اس کو پچاس بوروں کی رسید بنا دیتا ہے۔پھر خریدار اس انتظار میں ہوتا ہے کہ کب قیمت بڑھے گی ۔جیسے قیمت بڑھتی ہے وہ آجاتا ہے اور مطالبہ کرتا ہے پھر یا تو چینی اٹھا کر کسی اور کو بیچ دیتا ہے یا اسی دکاندار کو بیچ کر قیمت وصول کر لیتا ہے۔

o

مذکورہ صورت میں اگربورےمتعین نہیں بلکہ اوصاف اور مقدار وغیرہ کا ذکر کر کہ معاملہ ہو تو یہ معاملہ سلم کا ہوگا، لیکن چونکہ مذکورہ صورت میں سلم کی خاص شرائط( جیسےحوالے کرنے کی خاص اور معلوم مدت کا طے ہوناجو کم از کم ایک مہینہ ہووغیرہ)پوری نہیں کی جاتیں، اس لیے یہ معاملہ فاسد ہے۔ اوراگر مذکورہ معاملہ اس طریقے سے کیا جاتا ہے کہ سودے کے وقت بورےمتعین کیے جاتے ہیں تو ایسی صورت میں اس بات کی شرط لگانا کہ چینی کے بورےبعد میں حوالے کیےجائیں گے شرط فاسد ہے جس سے یہ معاملہ فاسد ہو جائے گا ۔لہذا دونوں صورتوں میں معاملہ درست نہیں۔ البتہ اگرقیمت کی فوراً یکمشت ادائیگی کرکے خاص بورےمتعین کیے بغیرصرف چینی کے اوصاف اور مقدارطے کر کے معاملہ کیا جائے اور حوالے کرنے کی خاص اور معلوم مدت بھی طے ہو جو کم از کم ایک مہینہ ہو تو ایسی صورت میں یہ معاملہ درست ہو جائے گا ۔البتہ طے شدہ وقت آنے پرچینی ہی حوالے کی جائے گی ،اس سے قطع نظر کہ اس وقت مارکیٹ ریٹ کیا ہے۔ البتہ چینی پر قبضہ کر لینے کے بعد اس کو اختیار ہو گا کہ چینی جس کو چاہے بیچے۔ البتہ اسی دکاندار کو بیچنے کا اگر پہلے سے سمجھوتا ہوا ہو، تو سود کا حیلہ بننے کی وجہ سے اس کی اجازت نہیں ہو گی۔ہاں اگراتفاقاً ایسا ہو جائے تو پھرجائز ہو گا۔

حوالہ جات

تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (4/ 53) وبيع المعدوم لا يجوز إلا في السلم الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 81) أما تأجيل المبيع، والثمن العين فمفسد مطلقا تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (4/ 59) لأن مجرد تأجيل المبيع مفسد ولو كان إلى أجل معلوم فلا يناسب تعليل فساد تأجيل المبيع لجهالة الأجل قاله الكمال ثم قال واعلم أن كون التأجيل في الثمن يصح إذا كان الأجل معلوما هو في الثمن الدين أما لو كان الثمن عينا فيفسد البيع بالأجل للمعنى الذي ذكرناه مفسدا لتأجيل المبيع الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 214) (وأجل وأقله) في السلم (شهر) به يفتى
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔