021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
زندگی میں میراث کے نام رقم دینے کاحکم
61793میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

کیافرماتےہیں مفتیان کرام کہ ہم تین بھائی پانچ بہنیں ہیں اور والدہ الحمد للہ حیات ہیں ، والد صاحب نے 1980 میں ایک کاروبار شروع کیاتھا ، جس میں تقریبا 1990 سے ہم تینوں بھائی بھی والد صاحب کے ساتھ معاونت کرتے رہے اور والد صاحب کا انتقال 2013 میں ہوگیا والد صاحب نے اپنی زندگی میں اپنی ہر ہر بیٹی کو تقریبا 50لاکھ روپے دیئے مگر ان پانچ بہنوں میں سے ایک کاکہنا ہے کہ والد صاحب نے صراحتا یہ کہکر دیاتھا کہ جوتمہیں دیناتھا ابھی دے رہا ہوں بعد میں جائداد /کاروبار میں تمہارا کوئی حصہ نہیں ہوگا جبکہ بقیہ چار بیٹیوں کا یہ کہنا ہے کہ ہمیں ھدیہ کہکر دیاتھا اور مرحوم کی اہلیہ ﴿ ہماری والدہ ﴾ کاکہنا ہے کہ بطور گواہ قسم کھانے کو تیار ہوں کہ انہوں نے تمام بیٹیوں کو رقم میراث کے طور پر دیئے تھے اور یہ بات بیٹیوں پر واضح کردی تھی کہ میری جائداد /کاروبار مزید تمہارا کوئی حصہ نہیں اور لوگ بھی اس بات کے گواہ ہیں جن میں کمپنی کے فنانس منیجر بھی شامل ہیں کہ مرحوم اکثر کہاکرتےتھے ،کہ بیٹیوں کوجو دینا تھا میں اپنی زندگی میں دے چکاہوں میرے بعد کارروبار /جائداد صرف بیٹوں کا ہوگا جبکہ اپنی زندگی میں کاروبار /جائداد کو بیٹوں کے حوالے نہیں کیا بلکہ خود بحثیت مالک کے کاروبار چلاتے رہے ، اب پوچھنا یہ ہے کہ 1بیٹیاں جن کا یہ کہنا ہے کہ ہمیں والد صاحب نے ہدیہ کے طور پر رقم دی تھی اور رقم دیتے ہوئے اس کے علاوہ کوئی اور صراحت نہیں کی تھی ،توکیاوالد صاحب کی وفات کے بعد مرحوم کے کاروبار /جائداد اور دیگر ترکہ میں ان کاحصہ ہوگا ؟ 2۔ اور بیٹی والدصاحب کی دی ہوئی رقم کے بارے میں میراث ہونے کااقرار کررہی ہے اس کو بقیہ جائداد سے حصہ ملےگا یانہیں؟ 3۔ مذکورہ دونوں صورتوں میں اگر بیٹیوں کو والد صاحب کی میراث سے حصہ ملے گا تو ان کو ملی ہوئی رقم منہا ہوگی یانہیں ؟

o

۔زندگی میں اولاد کا والد کے مال میں کوئی حق نہیں ، اگروالد اولاد کو اپنی زندگی میں کچھ مال دیدے ،تو وہ والد کی طرف سے ہبہ ﴿گفٹ﴾ہوتاہے ، اس پر ملک آنے کیلئے مکمل قبضہ اور مالکانہ تصرف کا حق حاصل ہوناضروری ہے ، صورت مسئولہ میں جن لڑکیوں کو میراث کے نام پر رقم دیدی ہے ، وہ اس کی مالک بن گئیں ، بقیہ مال جائداد /کاروبار لڑکوں کو دینے کا وعدہ تو کیا لیکن تقسیم کرکے لڑکوں کو مالک بناکر نہیں دیا اس لئے لڑکے بقیہ مال کے مالک نہیں بنے ، بلکہ کل مال بدستور انتقال تک مرحوم کی ملک میں باقی رہا،لہذااگر والد کے انتقال کے فوری بعد کاروبار سمیت دیگر ترکہ میں بیٹیوں کومکمل حصہ نہیں دیاگیا ۔اور کاروبار جاری رکھ کر اس مال میں اضافہ کیا گیا ہے ،تواب اصل مال منافع اور اضافی سمیت سب شرعی وارثوں میں تقسیم ہوگا ۔ 2۔دونوں قسم کی لڑکیوں کومیراث سے حصہ ملےگا ۔ 3۔جورقم لڑکیوںکوزندگی میں دی گئی ہے یہ اصل حکم کے مطابق ہدیہ ہے ،لہذا ہدیہ میں دی ہوئی رقم شرعا ان کے حصہ میراث سے منہا تونہیں ہوگی ۔البتہ چونکہ لڑکیوں کو رقم کی ایک مقدار والد کی زندگی میں مل چکی ہے،چاہے اس کے بارے میں میراث ہونے کا اقرارکریں جیسا ایک لڑکی کہہ رہی ہے یاھدیہ ہونے کا دعوی کریں ،جیسا چار لڑکیوں کا کہنا ہے تو ان لڑکیوں کو اختیار ہے کہ ترکہ سے اپنا پورا پورا حصہ وصول کریں یا کچھ حصہ بھائیوں کے لئے چھوڑ دیں ۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 688) و) شرائط صحتها (في الموهوب أن يكون مقبوضا غير مشاع مميزا غير مشغول) كما سيتضح. (وركنها) هو (الإيجاب والقبول) كما سيجيء.(وحكمها ثبوت الملك للموهوب له غير لازم) الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 700) (قوله: مريض مديون إلخ) .[فروع] وهب في مرضه، ولم يسلم حتى مات بطلت الهبة، لأنه وإن كان وصية حتى اعتبر فيه الثلث فهو هبة حقيقة، فيحتاج إلى القبض.
..

n

مجیب

احسان اللہ شائق صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔