021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
اگر میں نے تمہارے ساتھ گفتگو یا ہمبستری کی تو تم مجھ پر میری ماں،بہن جیسی ہوکہنےکی صورت میں بیوی کے کمرے میں کھانے،پینے وغیرہ کا حکم
..طلاق کے احکامطلاق کو کسی شرط پر معلق کرنے کا بیان

سوال

سوال:مذکورہ شخص کا اس عورت کے کمرے میں کھانا،پینا،اٹھنا،بیٹھنا اور اسی کمرے میں الگ چارپائی پر سونا وغیرہ جائز ہے،یا فوری طور پر اس سے کمرہ الگ کرنا ضروری ہے،اسی طرح اس کے ہاتھ سے کھانا،پینا جائز ہے یا نہیں؟نیز اس نے تین مہینے کی قید اور شرط صرف گفتگو اور ہمبستری کی لگائی تھی،کوئی اور قید نہیں لگائی۔

o

چونکہ اس نے صرف گفتگو اور ہمبستری نہ کرنے کی شرط لگائی تھی،اس لیے ان کے علاوہ سوال میں ذکر کیے گئے دیگر کاموں کے ارتکاب سے شرط کی خلاف ورزی نہیں ہوگی،البتہ ایک کمرے میں ساتھ رہنے میں چونکہ شرط کی خلاف ورزی کا قوی اندیشہ ہے،اس لیے اگر ممکن ہو تو مقررہ مدت تک علیحدہ کمرے میں رہائش اختیار کرلی جائے۔

حوالہ جات

"تبيين الحقائق" (3/ 136): " ثم اعلم أنه لا يحنث إلا إذا كلمه بكلام يسمعه المحلوف عليه وهو مستأنف بعد اليمين منقطع عن اليمين فإن كان موصولا بها لم يحنث نحو أن يقول إن كلمتك فأنت طالق فاذهبي أو قومي لأن هذا من تمام الكلام الأول فلا يكون مرادا باليمين إلا أن يريد بهذا كلاما مستأنفا ذكره في النهاية معزيا إلى الذخيرة..... ولو كلم غيره وقصد أن يسمعه لا يحنث ولو أشار إليه أو أرسل إليه لا يحنث لأن الكلام حروف منظومة". "الفتاوى الهندية "(1/ 509): " الكفارة: إنما تجب على المظاهر إذا قصد وطأها بعد الظهار وإن رضي أن تكون محرمة عليه بالظهار ولا يعزم على وطئها لم تجب عليه الكفارة أما إذا عزم على وطئها ووجبت عليه الكفارة فيجبر على التكفير فإن عزم بعد ذلك أن لا يطأها سقطت عنه الكفارة وكذا لو مات أحدهما بعد العزم كذا في الينابيع". "تبيين الحقائق " (3/ 4): " الظهار موجبه التحريم المؤبد فإذا قصد وطأها، وعزم عليه رجع عما قال فلهذا تجب عليه الكفارة حتى لو أبانها أو لم يعزم على وطئها لم تجب عليه الكفارة لعدم الرجوع، وكذا لو مات أحدهماولو عزم ثم رجع وترك العزم سقطت عنه". "مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر "(1/ 448): "وفي الإصلاح العود شرط لوجوب الكفارة في الظهار إجماعا غير أن العود عندنا عزمه على وطء المظاهر". "الدر المختار "(3/ 470): "ولو قيده بوقت سقط بمضيه، وتعليقه بمشيئة الله تبطله، بخلاف مشيئة فلان".
..

n

مجیب

محمد طارق صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔