021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
والدین کی قبروں کو چومنے کا حکم
62317/57 جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

لوگ والدین کی قبروں پر جاتے ہیں اور زیارت کے وقت قبروں کو چومتے ہیں۔کیا یہ عمل شریعتِ مطہرہ میں درست ہے؟

o

قبریں چاہے والدین کی ہوں یا کسی اور کی ان کو چومنا ناجائز وحرام ہے،کیونکہ یہ عمل قبرکوسجدہ کرنے کے مشابہ ہے اور نصاری کا طریقہ ہے۔نیز اِس سے دوسری بہت سی بدعات ورسومات کی طرف راہ بھی ہموار ہوتی ہے،اِس لیے اِس سے احتراز لازم ہے۔

حوالہ جات

قال العلامۃ الزیلعی رحمہ اللہ: قال ابن الملقن في شرح العمدة :لا يشرع التقبيل إلا للحجر الأسود والمصحف ولأيدي الصالحين من العلماء وغيرهم وللقادمين من السفر بشرط أن لا يكون أمرد ولا امرأة محرمة،ولوجوه الموتى الصالحين،ومن نطق بعلم أو حكمة ينتفع بها،وكل ذلك قد ثبت في الأحاديث الصحيحة وفعل السلف .فأما تقبيل الأحجار والقبور والجدران والستور وأيدي الظلمة والفسقة واستلام ذلك جميعه فلا يجوز.ولو كانت أحجار الكعبة أو القبر المشرف أو جدار حجرته أو ستورهما أو صخرة بيت المقدس فإن التقبيل والاستلام ونحوهما تعظيم والتعظيم خاص بالله فلا يجوز إلا فيما أذن فيه اهـ. (تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي :2/ 15) وفی الفتاوى الهندية :ولا يمسح القبر ولا يقبله فإن ذلك من عادة النصارى. (الفتاوى الهندية :5/ 351)
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

فیصل احمد صاحب / مفتی محمد صاحب / شہبازعلی صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔