021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شادی کے بعد میکے بیٹھی ہوئی لڑکی کاحکم
..نکاح کا بیاننکاح کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

میرے بیٹا عثمان الہی کی شادی دس ماہ پہلے ,,منال ،، نامی لڑکی سے ہوئی ہے ، لڑکی شادی کے تین ماہ سے میکے بیٹھی ہوئی ہے ، ہر طرح کی کوشش کے باوجود لڑکی سسرال آنے کیلئے تیار نہیں ہے ،ایک 25دن کابیٹا بھی ہے ، عثمان الہی کا تعلق اپنے نوزائدہ بیٹے سے صرف خرچہ برداشت کرنے کی حد تک ہے ، اس کو بیٹے سے ملنے بھی نہیں دیتا ، نام رکھنے اور اذان دینے بھی نہیں دی ۔ نیز یہ کہ لڑکی کےگھر کا ماحول بہت آزاد ہے ،لڑکی کے گھر والے تعویذ گنڈے کرتے ہیں ، بعض تعویذ گھر میں ملی بھی جومیرے بیٹے نے سمندر میں بہادی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اس نکاح کو برقرار رکھا جائے یا نہیں ؟

o

اگر تمام تر کوششوں کے باوجو د معاملہ حل نہ ہو اور طلاق کے علاوہ اور کوئی صورت نظر نہ آئے توایسی صورت میں ایک طلاق رجعی دیکر لڑکی کو فارغ کیاجاسکتا ہے ۔ پھر عدت کے دوران اگر صلح کی صورت بن جائے تورجوع کیاجاسکتا ہے ،اور اگر عدت گذرنے کے بعدصلح کی کوئی صورت بن جائے تو نیا نکاح ہوسکتا ہے ۔اس صورت میں شوہر کوآیندہ دوطلاقوں کااختیار رہے گا ۔

حوالہ جات

تفسير البغوي - طيبة (2/ 208) وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا إِنْ يُرِيدَا إِصْلَاحًا يُوَفِّقِ اللَّهُ بَيْنَهُمَا إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا خَبِيرًا (35) عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "خَيْرُ النِّسَاءِ امْرَأَةٌ إِنْ نَظَرْتَ إِلَيْهَا سَرَّتْكَ وَإِنْ أَمَرْتَهَا أَطَاعَتْكَ وَإِذَا غِبْتَ عَنْهَا حَفِظَتْكَ فِي مَالِهَا وَنَفْسِهَا" (1) ، ثُمَّ تَلَا {الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ} الْآيَةَ. " تنوير المقباس من تفسير ابن عباس (ص: 69) وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا إِنْ يُرِيدَا إِصْلَاحًا يُوَفِّقِ اللَّهُ بَيْنَهُمَا إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا خَبِيرًا (35) {وَإِنْ خِفْتُمْ} علمْتُم {شِقَاقَ بَيْنِهِمَا} مُخَالفَة بَين الرجل وَالْمَرْأَة وَلم تدروا من أَيهمَا {فَابْعَثُوا حَكَماً مِّنْ أَهْلِهِ} من أهل الرجل إِلَى الرجل حَتَّى يسمع كَلَامه وَيعلم ظَالِما هُوَ أَو مَظْلُوما وَحَكَماً مِّنْ أَهْلِهَآ} من أهل الْمَرْأَة إِلَى الْمَرْأَة حَتَّى يسمع كَلَامهَا وَيعلم ظالمة هِيَ أَو مظلومة {إِن يُرِيدَآ} الحكمان {إِصْلاَحاً} بَين الْمَرْأَة وَالرجل {يُوَفِّقِ الله بَيْنَهُمَآ} بَين الْحكمَيْنِ الْمَرْأَة وَالرجل {إِنَّ الله كَانَ عَلِيماً} بموافقة الْحكمَيْنِ ومخالفتهما {خَبِيراً} بِفعل الْمَرْأَة وَالرجل نزلت من قَوْله الرِّجَال قوامون على النِّسَاء إِلَى هَهُنَا فِي بنت مُحَمَّد بن سَلمَة بلطمة لطمها زَوجهَا أسعد بن الرّبيع لقبل عصيانها فِي الْمضَاجِع فطلبت من النَّبِي صلى الله عَلَيْهِ وَسلم قصاصها من زَوجهَا فَنَهَاهَا الله عَن ذَلِك
..

n

مجیب

احسان اللہ شائق صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔