021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ثمن کی ادئیگی میں تاخیرکی وجہ سےمبیع کاکچھ حصہ روکنے کا حکم
62034خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

سوال:میرا گوادر میں پراپرٹی کا کاروبار ہے۔مجھ سے ایک شخص نے پلاٹ خریدا۔جس کی قیمت چار لاکھ روپے تھی۔ دو لاکھ اس نے ادا کر دیےتھے جبکہ دو لاکھ باقی تھے ۔تقریباً دو سال تک اس نے باقی رقم ادا نہیں کی۔جبکہ پلاٹ کی قیمت اب دوگنی ہو گئی ہے۔اب میں چاہتا ہو کہ اس کو آدھا پلاٹ دے دو جس کی رقم اس نے ادا کر دی ہے جبکہ باقی آدھا پلاٹ جس کی رقم اب تک ادا نہیں کی وہ نہ دو۔کیا یہ شرعاً جائز ہے؟

o

جب بیع میں ایجاب وقبول ہو جائے تو معاہدہ مکمل ہو جاتا ہے محض ثمن کی ادائیگی میں تاخیر سے بیع ختم نہیں ہوتی اور نہ بائع یا مشتری کو یکطرفہ طور پرمعاہدہ ختم کرنے کا اختیار حاصل ہیں۔اس لیے آپ پر مکمل زمین مشتری کو دینا لازم ہے۔البتہ اگر مشتری باقی آدھی زمین میں اپنی رضامندی سے بیع ختم کرنا چاہے تو یہ جائز ہے۔

حوالہ جات

البناية شرح الهداية (8/ 11) وإذا حصل الإيجاب والقبول لزم البيع ولا خيار لواحد منهما إلا من عيب أو عدم رؤية. اللباب في شرح الكتاب (2/ 4) (وإذا حصل الإيجاب والقبول لزم البيع) وإن لم يقبض (ولا خيار لواحد منهما؛ لأن في الفسخ إبطال حق الآخر؛ فلا يجوز، فتح القدير (14/ 193) وإذا حصل الإيجاب والقبول لزم البيع ولا خيار لواحد منهما إلا من عيب أو عدم رؤية .
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔