021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بائع کامشتری سےثمن اول سے زائد قیمت پر مبیع خریدنا
..خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

میرا گوادر میں پراپرٹی کا کاروبار ہے۔مجھ سے ایک شخص نے پلاٹ خریدا۔جس کی قیمت چار لاکھ روپے تھی۔ دو لاکھ اس نے ادا کر دیےتھے جبکہ دو لاکھ باقی تھے ۔تقریباً دو سال تک اس نے باقی رقم ادا نہیں کی۔جبکہ پلاٹ کی قیمت اب دوگنی ہو گئی ہے۔اب کیامیں اس سے وہ پلاٹ تین لاکھ روپے دے کر یعنی کہ پانچ لاکھ روپے میں خرید سکتا ہوں۔کیا یہ شرعاً جائز ہے؟

o

آپ اس سے وہ پلاٹ پانچ لاکھ روپے میں میں خرید سکتے ہیں اس میں کوئی حرج نہیں۔

حوالہ جات

البناية شرح الهداية (8/ 172) قال: ومن اشترى جارية بألف درهم حالة أو نسيئة فقبضها ثم باعها من البائع بخمسمائة قبل أن ينقد الثمن لا يجوز البيع الثاني، وقال الشافعي - رَحِمَهُ اللَّهُ -: يجوز؛ لأن الملك قد تم فيها بالقبض، فصار البيع من البائع ومن غيره سواء، وصار كما لو باع بمثل الثمن الأول أو بالزيادة
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔