021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
جہاز کے بندرگاہ پہنچنے سے پہلے مال تجارت کی خریدوفروخت
..خرید و فروخت کے احکامبیع فاسد ، باطل ، موقوف اور مکروہ کا بیان

سوال

آج کل ایسا ہوتا ہےکہ بڑے بڑے تاجر، اپنا مال تجارت باہر ملک سے منگواتے ہیں،جب باہرملک کی کمپنی مال تیار کرکے جہاز میں لوڈ کرادیتی ہے اور جہاز روانہ ہوجاتا ہے تو وہ کمپنی تاجر کو اطلاع کرتی ہے۔جب تاجر کو اطلاع ہوتی ہے کہ اس کامال فلاں جہاز میں لوڈ ہوکر آرہا ہے تو پھر یہ تاجر، چھوٹے تاجروں کو اطلاع کرتا ہے اور وہ چھوٹے تاجر اس سے وہ مال خرید لیتے ہیں،حالانکہ جہاز ابھی بندرگاہ نہیں پہنچاہوتا۔ اسی طرح چھوٹے تاجر بھی،جہاز بندرگاہ پہنچنے سے پہلے ہی دوسرے تاجروں کو اپنا خریدا ہوا مال بیچ دیتے ہیں۔ جب جہاز بندرگاہ پہنچتا ہے تو وہ مال آگے کئی دفعہ فروخت ہوچکا ہوتا ہے، جس کی وجہ سے اس کے ریٹ میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے، کیا اس طرح کرنا جائز ہے؟

o

خریدی ہوئی چیز کو آگے بیچنا اس وقت درست ہے جب اس پر قبضہ کرلیا جائے، قبضہ کرنے سے پہلے خریدی ہوئی چیز کو آگے بیچنا جائز نہیں۔ چونکہ جہاز راں کمپنی خریدار کی وکیل ہوتی ہے، اس لیے مال تجارت کو جہاز میں لوڈ کرنے سے،مال تجارت حکما خریدار کے قبضہ اور ضمان میں آجاتا ہے۔اس لیےجب سامان جہاز میں لوڈ ہوجائے تو خریدار کا اس سامان کو آگےتاجروں کو بیچنا جائز ہے۔ البتہ یہ تاجر آگے مال نہیں بیچ سکتے کیونکہ یہ مال ان کے قبضہ میں نہیں آیا نہ حقیقۃً نہ حکماً۔

حوالہ جات

المبسوط للسرخسي (13 / 8): والكلام في بيع المبيع قبل القبض في فصول أحدها في الطعام فإنه ليس لمشتري الطعام أن يبيعه قبل أن يقبضه لما روي أن النبي - صلى الله عليه وسلم - «نهى عن بيع الطعام قبل أن يقبض» وكذلك ما سوى الطعام من المنقولات لا يجوز بيعه قبل القبض عندنا، تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (4 / 261): الوكيل في القبض عامل للموكل فيصير قابضا بقبض الوكيل حكما۔
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔