021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تملیک زکوٰۃ
64410زکوة کابیانمستحقین زکوة کا بیان

سوال

البصير فاونڈيشن حکومت پاکستان سے منظور شدہ ایک رجسٹرڈ ٹرسٹ ہے۔ البصير فاونڈيشن کے زیر انتظام البصير آئی ہاسپيٹل كراچی کام کرتا ہے، البصير فاونڈيشن کا بینک میں الگ تھلگ ایک زکوۃ اکاونٹ ہے،جس میں لوگوں کی زکوۃ کی رقم جمع ہوتی ہے، البصير آئی ہاسپيٹل كراچی زکوۃ کی رقم سے زکوۃ کے مستحق مریضوں کا كيٹريكٹ (سفید موتيا) کا آپریشن کرتا ہے۔ البصير آئی ہاسپيٹل كراچی کا زکوۃ کی رقم سے آپریشن کرانے کا مکمل طریقہ کار،زکوۃ فارم، سوال کے ساتھ لف ہے۔اب معلوم یہ کرنا ہے کہ آیا شریعت کی روسے ہسپتال کا یہ طریقہ کار درست ہے یا نہیں؟ شرعی رہنمائی فرمائیں- جزاکم اللہ خیر الجزاء

o

بطورِ تمہید پہلے یہ بات واضح رہے کہ: (الف) شرعاً مستحق ِزکوٰۃوہ مسلمان ہے جس کی ملکیت میں ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے برابر سونا،یا نقد رقم، یا سامانِ تجارت یا ضرورت سے زائد سامان یا ان سب اموال یا ان میں سے بعض کا مجموعہ نہ ہو۔نیز وہ شخص سیّد (ہاشمی) بھی نہ ہو،اور اگر کوئی مقروض ہواور قرض منہا کرنے کے بعدمذکورہ نصاب کے برابر مال اس کی ملکیت میں نہ بچتا ہو،توشرعاً ایساشخص مستحقِ زکوٰۃ ہے۔ (ب) زکوٰۃ کی ادائیگی کے لئے یہ لازم ہے کہ مستحق ِ زکوۃ کو باقاعدہ مالک و قابض بنا کر دی جائے ۔ (ج) زکوٰۃ کسی خدمت کے عوض میں نہ دی جائے ۔ (د) محض ہسپتال میں زکوٰۃ کی رقوم جمع ہونے سےزکوٰۃ ادا نہ ہو گی،جب تک کہ اوپر ذکر کردہ طریقہ (یعنی الف،ب،اور ج)کے مطابق مستحقِ زکوٰۃ کو زکوٰۃ نہ دیدی جائے۔ (ھ) مستحق کو مالک بنا کر دئے بغیر براہِ راست ہسپتال کے اخراجات میں استعمال کرنا بھی جائز نہیں ہے،اس طریقہ سے زکوٰۃ ادا نہ ہو گی۔ تمہید مذکور کے بعد جواب یہ ہیکہ : بہتر صورت یہ ہے کہ ہر مستحق کو زکوٰۃ کی رقم یا زکوٰۃ کی رقم سے خریدی ہوئی ادویات مالک بنا کر دی جائیں،لیکن ہسپتال کے دیگر اخراجات جو مریض سے متعلق ہیں،ان کے لئے غیرِ زکٰوۃ کی رقم ناکافی ہو تو زکوٰۃ کی رقم تملیک کے بعد استعمال کرنے کی گنجائش ہے۔ تملیک کا طریقہ یہ ہوکہ ہسپتال والے مریض سے درج زیل الفاظ میں تحریری اجازت لے لیں ۔ " میں البصیر فاؤنڈیشن کی انتظامیہ اور انکے نمائندوں کو وکیل بناتا ہوں کہ جب تک میں مستحق زکوٰۃ ہوں وہ میری طرف سے وکیل کی حیثیت سے زکوٰۃ و صدقات کی رقوم و آشیاء وصول کریںاور ا نہیں میرے علاج معالجہ اور ڈاکٹر کی فیس،کمرے کا کرایہ اور دیگر اخراجات میں حسب صوابدید خرچ کریں یا دیگر مریضوں کے علاج معالجہ اور ڈاکٹر کی فیس،کمرے کا کرایہ اور دیگر اخراجات میں حسب صوابدید خرچ کریں ۔" اس کے بعدادارہ کی انتظامیہ ہونے والے اخراجات زکوٰۃ کی مد سے ادا کر دےتو زکوٰۃ ادا ہو جائے گی۔

حوالہ جات

۔
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔