021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
موبائل اکاؤنٹ میں ملنے والے فری منٹس کا حکم
62814 سود اور جوے کے مسائلسود اورجوا کے متفرق احکام

سوال

کیا کہتے ہیں مفتیاِنِ کرام اس بارے میں کہ میرے پاس جاز(Jazz) کی سم ہے۔گھر دور ہونے کی وجہ سے مجھے پیسوں کا مسئلہ ہوتا ہے، اس لیے میں نے اس سم پر اکاؤنٹ کھولا ہوا ہے۔ ہر ماہ گھر سے پیسے منگواتا ہوں اور جاز کمپنی والے اکاؤنٹ میں ایک ہزار رکھنے پر تیس(30) منٹ دیتے ہیں۔اگر میں اکاؤنٹ میں پیسے رکھوں گا تو منٹ ملیں گے۔ اور یہ ان کی مرضی ہے مجھے پیسے رکھنے کی وجہ سے منٹ دیں یا نہ دیں۔ اگر وہ مجھے پیسے اکاؤنٹ میں رکھنے کی وجہ سے منٹ نہ دیں تو میں ان سے مطالبہ نہیں کر سکتا۔ ان کی مرضی ہے دیں یا نہ دیں۔ لیکن اکثر دیتے ہیں کبھی نہیں بھی دیتے۔ اس بارے میں وضاحت فرما دیں کہ کیا یہ سود تو نہیں ہے؟ اگر سود ہے تو میں نے اکاؤنٹ کھولا ہوا ہے، مجھے منٹ ملتے ہیں اور میں نے گھر فون کرنا ہوتا ہے، وہ منٹ استعمال ہوتے ہیں۔ تو یہ بتائیں کہ اگر یہ سود ہے تو اس سے کیسے بچا جائے؟

o

اکاؤنٹ میں رکھی ہوئی رقم شرعاً قرض کے حکم میں ہوتی ہے اورقرض پر نفع لینا سود ہونے کی وجہ سے ناجائز اور حرام ہے۔لیکن اگر یہ نفع مقصود یا مشروط نہ ہو تو لینا جائز ہوتا ہے۔لہٰذا صورتِ مذکورہ میں اگر آپ اکاؤنٹ میں رقم فری منٹس حاصل کرنے کی نیت سے نہیں رکھتے، بلکہ ٹرانسفر کرنے کی نیت سے رکھتے ہیں یا کسی نے آپ کو رقم بھیجی اور اس کو نکلوانے سے پہلے آپ کو کمپنی کی طرف سے غیر مشروط طور پر فری منٹس موصول ہوگئے، تو ایسی صورت میں آپ کے لیے ان فری منٹس کا استعمال جائز ہوگا۔

حوالہ جات

حاشية ابن عابدين(5/ 166) (قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به۔ تبيين الحقائق(6/ 29) (قوله: ومن وضع درهما عند بقال إلخ) قال الكرخي في مختصره في كتاب الصرف وكل قرض جر منفعة لا يجوز مثل أن يقرض دراهم غلة على أن يعطيه صحاحا أو يقرض قرضا على أن يبيع به بيعا؛ لأنه روي أن كل قرض جر منفعة فهو ربا، وتأويل هذا عندنا أن تكون المنفعة موجبة بعقد القرض مشروطة فيه، وإن كانت غير مشروطة فيه فاستقرض غلة فقضاه صحاحا من غير أن يشترط عليه جاز۔ واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔