021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
رواں سال کی واجب الادء اقساط منہاکرکےبقیہ رقم بقدر نصاب ہوتوزکوۃ لازم ہے ورنہ نہیں
63850 زکوة کابیانزکوة کے جدید اور متفرق مسائل کا بیان

سوال

میرے پاس حاجتِ ضروریہ سے زائد پلاٹ کی جمع شدہ اقساط ، کیش، سونا اور ادھار دیے پیسے کل ملا کر سترہ لاکھ ہیں۔ جن میں سے تیرہ لاکھ میرے پاس نہیں ہیں۔وہ فلیٹ کی فروخت کے پیسے ہیں، جو سال گزرنے کے باوجود حسبِ وعدہ نہیں مل رہے۔اس کے ساتھ ساتھ میرے خرید کردہ پلاٹوں پر واجب الاداء اقساط کی رقم تئیس لاکھ ہے، جو مجھ پر قابلِ ادائیگی ہے۔ اب اگر سترہ لاکھ میں سے تئیس لاکھ نکال دوں تو بھی چھ لاکھ قابلِ ادائیگی ہیں۔ مجھ پر اس صورت میں زکوٰۃ ہے؟ اور اگر ہے تو کتنی؟ تنقیح • سائل سے فون پر رابطہ کرنے پر معلوم ہوا کہ مذکورہ فلیٹ ذاتی مکان خریدنے کے لیے رقم جمع کرنے کے ارادے سے خریدے گئے ہیں، یعنی بعد میں ان کو بیچ کر ذاتی مکان خریدنے کا ارادہ ہے۔ • فروخت کیے گئے فلیٹ کی رقم ابھی تک ملی نہیں لیکن اس کے ملنے کی امید ہے۔

o

جو اثاثے بیچنے کی نیت سے خریدے گئے ہوں شرعاً انہیں اموالِ تجارت میں شمار کیا جاتا ہے، جن پر زکوٰۃ ادا کرنا لازم ہے۔ نیز قرض کی وہ اقساط جو رواں سال کی زکوٰۃ کی تاریخ تک واجب الاداء ہوچکی ہیں انہیں قابلِ زکوٰۃ مال سے منہا کیا جائے گا، اور جو اقساط اس سال واجب الاداء نہیں ہیں انہیں منہا نہیں کیا جائے گا۔ علاوہ ازیں کسی کو دیے ہوئے قرض یا کسی سے وصول کیے جانے والے قرض کے ملنے کی امید اگر بالکلیہ ختم ہوجائے یا اس کے نہ ملنے کا ظنِ غالب ہو تو اس رقم پر زکوٰۃ لازم نہیں ہوتی، لیکن اگر ایسی رقم کے ملنے کی امید ہو تو اس کو قابلِ زکوٰۃ رقم میں شمار کیا جاتا ہے۔ لہٰذا مذکورہ بالا شرعی اصولوں کی روشنی میں آپ کے خریدے گئے پلاٹ چونکہ بیچنے کی نیت سے خریدے گئے ہیں یعنی بعد میں ان کو بیچ کر ذاتی مکان خریدنے کا ارادہ ہے لہٰذا یہ پلاٹ مالِ تجارت شمار ہوں گے۔ اور قابلِ ادائیگی رقم یعنی تئیس لاکھ میں سے جتنی رقم رواں سال کی زکوٰۃ کی تاریخ تک واجب الاداء ہوچکی ہے مثلاً ایک لاکھ، تو اس رقم کو قابلِ زکوٰۃ رقم سے منہا کیا جائے گا اور بقیہ بائیس لاکھ روپے منہا نہیں ہوں گے۔ اور فروخت شدہ فلیٹ کی رقم یعنی تیرہ لاکھ روپے کے ملنے کی بھی چونکہ امید ہے لہٰذا یہ رقم بھی قابلِ زکوٰۃ رقم شمار ہوگی۔ خلاصہ یہ کہ آپ کے پاس حاجتِ ضروریہ سے زائد پلاٹ کی جمع شدہ اقساط ، کیش، سونا اور ادھار دیے پیسے کل ملا کر سترہ لاکھ روپے میں سے رواں سال کی زکوٰۃ کی تاریخ تک جتنی اقساط قابلِ ادائیگی ہیں ان کو منہا کرنے کے بعد بقیہ رقم اگر زکوٰۃ کے نصاب کو پہنچتی ہے تو آپ پر زکوٰۃ لازم ہے ورنہ نہیں۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 261) (قوله أو مؤجلا إلخ) عزاه في المعراج إلى شرح الطحاوي، وقال: وعن أبي حنيفة لا يمنع. وقال الصدر الشهيد: لا رواية فيه، ولكل من المنع وعدمه وجه. زاد القهستاني عن الجواهر: والصحيح أنه غير مانع۔ بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 6) ومنها أن لا يكون عليه دين مطالب به من جهة العباد عندنا فإن كان فإنه يمنع وجوب الزكاة بقدره حالا كان أو مؤجلا۔۔۔۔ وبه تبين أن مال المديون خارج عن عمومات الزكاة؛ ولأنه محتاج إلى هذا المال حاجة أصلية؛ لأن قضاء الدين من الحوائج الأصلية۔۔۔۔ وعلى هذا يخرج مهر المرأة فإنه يمنع وجوب الزكاة عندنا معجلا كان أو مؤجلا؛ لأنها إذا طالبته يؤاخذ به، وقال بعض مشايخنا: إن المؤجل لا يمنع؛ لأنه غير مطالب به عادة، فأما المعجل فيطالب به عادة فيمنع۔ واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔