021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
میراث کی تقسیم
63818 میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک گھر جو میرے والد صاحب کے نام تھا، والد صاحب کی زندگی میں ہی 29 لاکھ روپے میں فروخت کردیا تھا۔ اسی دوران والد صاحب بیمار ہوگئے۔ اسی رقم میں سے ان کے علاج کے لیے اخراجات کیے گئےاور کچھ رقم چھوٹے بھائی کی شادی میں خرچ ہوگئی۔ جب والد صاحب کا انتقال ہوا تو 24 لاکھ روپے باقی تھے۔ والد صاحب کی طرف سے یہ بات مجھے بتائی گئی کہ جوگھر والد صاحب کی زندگی میں فروخت کردیا گیا تھااس گھر کی رقم صرف ہم بھائیوں کو دی جائے۔اس میں ہماری بہنوں کا حصہ نہیں ہے۔ چھوٹے بھائی کو ہم دو بھائیوں نے مل کر ایک گھر دلا دیا۔ اب ہم دو بھائی باقی بچے ہیں۔میں نے جو رقم 24 لاکھ بچ اس سے ایک گھر خرید لیا۔ اس میں بھائی یا بہنوں سے کوئی مشورہ نہیں ہوا۔ یہ سوچ کر کہ ہم دونوں بھائی اس گھر میں رہ لیں گے۔اور اگر بڑا بھائی یہ نہیں مانتا تو جو رقم میں نے استعمال کی ہےاس کا آدھا حصہ بھائی کو ادا کردوں گا یعنی 12 لاکھ۔ پچھلے دنوں بھائی سے بات ہوئی تو بھائی نے کہا کہ بہنوں کو بھی حصہ دینا چاہیےاور میں بھی تیار ہوں۔ اب بھائی کہتا ہے کہ جو گھر آپ نے خریدا ہے اس کی موجودہ قیمت کے حساب سے سب کو حصہ دیا جائے۔ پوچھنا یہ ہے کہ حصے اس رقم کے ہوں گے جو 24 لاکھ استعمال کیے یا پھر اب جو گھر ہے اس کی موجودہ قیمت کے حصے کرنے ہوں گے؟

o

شرعاً میراث اس مال کو کہا جاتا ہے جو انسان اپنے مرنے کے بعد چھوڑ جاتا ہے، لہٰذا مذکورہ صورت میں اصل میراث تو 24 لاکھ روپے ہی تھے، لہٰذا اگر اس رقم سے مکان کی خریداری آپ نے اپنے لیے اور اپنے چھوٹے بھائی کے لیے ہی کی ہے اور اس پر آپ کے پاس گواہ موجود ہیں تو ایسے میں صرف وہ روپے ہی آپ بہن بھائیوں میں تقسیم ہوں گے، جو آپ کے والد صاحب کی وفات کے وقت باقی بچے تھے۔ تاہم اگر آپ لوگ اکٹھے رہتے تھے اور گھر کے اخراجات وغیرہ سب اکٹھے کرتے تھے تو ایسی صورت میں مشترک رقم سے مکان کی یہ خریداری سب کے لیے سمجھی جائے گی۔ نیزآپ کے والد صاحب کا آپ کو یہ کہنا کہ یہ رقم صرف بھائیوں کو دی جائے، شرعاً وصیت کہلاتا ہے اور وصیت وارث کے حق میں شرعاً قابلِ عمل نہیں ہوتی۔ لہٰذا یہ رقم تمام بھائیوں اور بہنوں کے درمیان تقسیم ہوگی۔ اور ہر بھائی کو بہن سے دگنا ملے گا۔

حوالہ جات

البناية شرح الهداية (9/ 472) قال: ولو أقر المريض لوارثه لا يصح إلا أن يصدق فيه بقية الورثة. وقال الشافعي - رحمه الله - في أحد قوليه يصح؛ لأنه إظهار حق ثابت لترجح جانب الصدق فيه، وصار كالإقرار لأجنبي وبوارث آخر وبوديعة مستهلكة للوارث. ولنا قوله - عليه الصلاة والسلام -: «لا وصية لوارث ولا إقرار له بالدين» {يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ} [النساء: 11] واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔