021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مستند عالم کی موجودگی میں غیر عالم کی امامت
..نماز کا بیانامامت اور جماعت کے احکام

سوال

سوال:کیا کسی مستند علماء کی موجودگی میں ایک حافظ غیر شادی شدہ کی امامت جائز ہے؟

o

واضح رہے کہ جب ایک مرتبہ امامت کے اوصاف کا لحاظ رکھتے ہوئے کسی کو امام مقرر کر لیا جائے تو بعد میں اس سے زیادہ علم رکھنے والوں کی موجودگی میں مقرر کردہ امام کا امامت کروانا بلا کراہت جائز ہے، اس کی امامت میں کوئی خلل واقع نہیں ہوتا ،بشرطیکہ اس میں امامت کے وہ اوصاٖف برقرار ہوں (امامت کے اوصاف کی تفصیل ذیل میں مذکور ہے) لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر مذکورہ امام صاحب کے اندر امامت کی اہلیت اور اوصاف موجود ہیں تو مستند علماء کی موجودگی میں ان کا امامت کروانا درست ہے،نیز ان کا غیر شادی شدہ ہونا ان کی امامت سے مانع نہیں ہے۔ واضح رہے کہ امام اللہ تعالی کی بار گاہ میں مسلمانوں کی درخواست پیش کرنے کےلئے ایک نمائندہ کی حیثیت رکھتا ہے،اس لئے شریعت کی طرف سے اس کے لئے کچھ خاص اوصاف مقرر کئے گئے ہیں تاکہ یہ نمائندہ مسلمانوں کے شایانِ شان ان کی نمائندگی کر سکےان اوصاف میں سے بعض تو لازمی ہیں ،اور جس شخص میں وہ اوصاف نہ پائے جاتے ہوں اس کے پیچھے نمازنہیں ہوتی،اور بعض اوصاف ایسے ہیں کہ ان کے بغیر نماز تو ہو جاتی ہے،مگر مکروہ رہتی ہے،اور بعض اوصاف صرف مستحسن اور پسندیدہ ہیں،ان کے بغیر نماز میں کوئی کراہت نہیں آتی،مگر بہتر یہ ہے کہ امام اسی شخص کو بنایا جائے جس میں یہ اوصاف موجود ہوں ۔ (الف ):لازمی اوصاف جن کےبغیر نماز ہی نہیں ہوتی،مندرجہ ذیل ہیں: 1. امام مسلمان ہو ،بالغ ہو،دیوانہ نہ ہو،نشے میں نہ ہو۔ 2. ۔نماز کا طریقہ جانتا ہو۔ 3. نماز کی تمام شرائط وضو وغیر اس نے پوری کر رکھی ہوں۔ 4. کسی ایسے مرض میں مبتلا نہ ہو جس کی وجہ سے اس کا وضو قائم نہ رہتا ہومثلاًٍٍمسلسل نکسیر یا سلسل البول وغیرہ کا مریض نہ ہو(کیونکہ ایسا معذورشخص معذورین کی امامت تو کر سکتا ہے مگر تندرست لوگوں کا امام نہیں بن سکتا) 5. رکوع اور سجدے پر قادر ہو،اگر کسی بیماری کی وجہ سے وہ رکوع سجدے پر قادر نہ ہو تو تندرست لوگوں کی امامت نہیں کر سکتا ۔ 6. گونگا،توتلا،یا ہکلا نہ ہو (ب):دوسری قسم کے اوصاف جن کے بغیرنماز مکروہ رہتی ہے،وہ مندرجہ ذیل ہیں:۔ 1. صالح ہو،یعنی گناہِ کبیرہ میں مبتلا نہ ہو۔ 2. فاسدالعقیدہ نہ ہو۔ 3. نماز کے ضروری مسائل سے واقف ہو۔ 4. قرآنِ کریم کی تلاوت صحیح طریقے سے کر سکتا ہو۔ 5. کسی ایسے جسمانی عیب میں مبتلا نہ ہو جس کی وجہ سے اس کی پاکیزگی مشکوک ہو جائےیا لوگ اس سے گھن یا اس کا استخفاف کرتے ہوں۔اسی وجہ سے نابینا،مفلوج،ابرص وغیرہ کے پیچھے نماز پڑھنے کو فقہاءِکرام نے خلافِ اولی قراردیا ہے،لیکن یہ کراہت اسی وقت ہے جب اس سے بہتر دوسر امام مل سکتا ہو،اگر اس سے بہتر نہ مل سکے تو کوئی کراہت نہیں۔ (ج ):وہ اوصاف جن کا پایا جانا صرف مستحسن اور پسندیدہ ہے ان کے بغیر نماز میں کوئی کراہت نہیں آتی،وہ درج ذیل ہیں: 1. ۔حاضرین میں علمِ دین اور تلاوتِ کے اعتبار سے سب سے زیادہ بلند رتبہ ہو۔ 2. خوش اخلاق،شریف النسب،باوقار اور وجیہ ہو۔ 3. صفائی، ستھرائی ،تقوی اور طہارت کا خیال رکھتا ہو۔ اور مستغنی طبیعت رکھنے والا اور سیر چشم ہو،اور محلے کی دینی تربیت کے لئے جن اوصاف کی ضرورت ہے وہ اس میں پائے جاتے ہوں۔ محلے کی مساجد میں امام کا انتخاب کرتے وقت ان اوصاف کی رعایت کر لی جائےتومحلے میں ایک نہایت خوشگوار ماحول پیدا ہو سکتا ہے۔(ماخذہ فتاویٰ عثمانی ،ج:1،ص:381)

حوالہ جات

الدر المختار - (1 / 557) (وَالْأَحَقُّ بِالْإِمَامَةِ) تَقْدِيمًا بَلْ نَصْبًا مَجْمَعُ الْأَنْهُرِ (الْأَعْلَمُ بِأَحْكَامِ الصَّلَاةِ) فَقَطْ صِحَّةً وَفَسَادًا بِشَرْطِ اجْتِنَابِهِ لِلْفَوَاحِشِ الظَّاهِرَةِ، وَحِفْظِهِ قَدْرَ فَرْضٍ، وَقِيلَ وَاجِبٍ، وَقِيلَ سُنَّةٍالدر المختار رد المحتار) - (1 / 557) (قَوْلُهُ بِأَحْكَامِ الصَّلَاةِ فَقَطْ) أَيْ وَإِنْ كَانَ غَيْرَ مُتَبَحِّرٍ فِي بَقِيَّةِ الْعُلُومِ، وَهُوَ أَوْلَى مِنْ الْمُتَبَحِّرِ، كَذَا فِي زَادَ الْفَقِيرِ عَنْ شَرْحِ الْإِرْشَادِ رد المحتار) - (1 / 558) (قَوْلُهُ ثُمَّ الْأَحْسَنُ زَوْجَةً) لِأَنَّهُ غَالِبًا يَكُونُ أَحَبَّ لَهَا وَأَعَفَّ لِعَدَمِ تَعَلُّقِهِ بِغَيْرِهَا.
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔