021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تعزیت کے وقت ہاتھ اٹھاکر دعا مانگنا
62229جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

تعزیت کے موقع پر ہاتھ اٹھا کر دعا کرنے کا کیا حکم ہے؟ ہمارے یہاں بعض علماء اسے بدعت قرار دیتے ہیں اور بعض کے نزدیک ہاتھ اٹھانا دعا کے آداب میں سے ہے اس بارے میں کونسا قول مزاج شریعت کے موافق ہے واضح ہوکہ ہمارے یہاں میت کے گھر جب کوئی تعزیت کیلئے آتا ہے تو ہاتھ اٹھ کر دعا مانگتے ہیں اور اسکو لازم سمجھتے ہیں اور نہ اٹھانے والے کو برا سمجھتے ہیں۔

o

تعزیت کی جو مروجہ صورت ہے کہ جس میں تین دن تک اہلِ میت باقاعدہ بیٹھنے کا اہتمام کرتے ہیں ،اور لوگ باربار تعزیت کرتے ہیں اور ہاتھ اٹھا کرتعزیت کرتے ہیں،اور ان سب باتوں کو لازم سمجھا جاتاہے ،اور نہ کرنے والوں کو معیوب سمجھاجاتا ہے، یہ متعدد مفاسد پر مشتمل ہونے کی وجہ سے سراسر بدعت اور ناجائز ہے،جیساکہ حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ نے امداد المفتین( صفحہ 195 )میں لکھا ہے لہٰذا اس سے اجتناب لازم ہے۔

حوالہ جات

فی الدر المختار: (2 / 239): ولابأس بنقله قبل دفنه....وبتعزية أهله وترغيبهم في الصبر. فی حاشية ابن عابدين :(2 / 239): (قوله: وبتعزية أهله) أي تصبيرهم والدعاء لهم به. .. قال في شرح المنية: وتستحب التعزية للرجال والنساء اللاتي لا يفتنّ،...والتعزية أن يقول: أعظم الله أجرك، وأحسن عزاءك، وغفر لميتك شرح سنن ابن ماجه للسيوطي (ص: 66) قال الطيبي فيه ان من أصر على أمر مندوب وجعل عزما ولم يعمل بالرخصة فقد أصاب منه الشيطان من الاضلال فكيف من أصر على بدعة أو منكر انتهى هذا محل تذكر للذين يصرون على الاجتماع في اليوم الثالث للميت
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔