021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مٹهائی کے ڈبے کو مٹھائی کی قیمت پر بیچنا
67422خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

عام طور پر دوکان دار خاص طور پرمٹهائی والے، مٹھائی کے ڈبے کی قیمت مٹھائی والی ہی لگاتے ہیں۔

مثلاََ:برفی کا ریٹ 500روپے فی کلو ہے،(اور ڈبے کا وزن 100گرام ہے)تو تولتے وقت ڈبے کو بھی اسی قیمت سے تولا جاتا ہے،یعنی 900گرام برفی کا وزن ہوتا ہے اور 100گرام ڈبے کا وزن ہوتا ہے۔

برائے مہربانی اس کی وضاحت فرما دیں۔اور فقہی تکییف بھی بتا دیں۔

o

اگر یہ واضح طور پر بتا دیا جائے کہ ڈبےکا ریٹ مٹھائی والا ریٹ ہی ہوگا،یا اس بات کا عام  رواج ہو چکا ہوجیسا کہ آج کل ایسا ہی ہوتا ہے تو یہ جائز ہے کیونکہ اس صورت میں خرید و فرخت کرنے والوں کے درمیان جھگڑے کا امکان نہیں ہے۔البتہ اگر اس بات کو دوکان دار نے صراحتاََ نہ بتایا ہو یا اس ڈبے کا وزن بھی عام رواج  سے زیادہ ہو تو پھر ڈبے کو مٹھائی والی قیمت پر بیچنا جائز نہیں ہوگا۔

جاننا چاہیے کہ ایسے ڈبے چونکہ مٹھائی کے ساتھ تجارتی مال کے طور پر بیچے جا رہے ہوتے ہیں۔اس لیےان کے سٹاک پر بھی باقی مال کے ساتھ زکوۃ آئے گی۔

حوالہ جات

1. وأما لا يسعر لما روي أن السعر قد غلا بالمدينة فطلب من النبي عليه السلام أن يسعر فأبى وقال: «إن الله تعالى هو المسعر القابض الباسط الرازق» ، وفي حديث الحر قال: «الله تعالى يخفض ويرفع وإني لأرجو أن ألقى الله تعالى وليس لأحد منكم عندي مظلمة» ؛ ولأن الثمن حق البائع؛ لأنه يقابل ملكه، فيكون التقدير إليه.(المحیط البرھانی فی فقہ النعمانی:7/146ٗ) 2. هو(البيع) مبادلة المال بالمال بالتراضي.]وھھنا وجد[ (كنزالدقائق:1/406) 3. ويملك البيع والشراء بِغبن يسير بِالْإِجْمَاع.(تحفة الفقهاء:3/288) 4. ومن اشترى شيئا وأغلى في ثمنه فباعه مرابحة على ذلك جاز.(الفتاوي الهندية:3/161) 5. المعروف عرفاكالمشروط شرطا.(موسوعةالقواعد الفقهية:10/749) 6. العادۃعبارۃ عما یستقر فی النفوس من الامور المتکررۃ المقبولۃ عند الطباع السلیمۃ،وھی انواع ثلاثۃ العرفیۃ العامۃ....................وانما العرف غیر معتبر فی المنصوص علیہ.(الأشباه:95)
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

ابولبابہ شاہ منصور صاحب / فیصل احمد صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔