021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
میڈیکل انشورنس کے لئے ہسپتال سے معاہدہ
62227اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے متفرق احکام

سوال

سوال: ادب سے گذارش ہیکہ ادارہ بریگیڈئیر ۔۔۔۔۔۔ ٹرسٹ ہسپتال پاکستان سے اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن ایگریمنٹ کرنا چاہتی ہے ۔جسکی تفصیل یہ ہے کہ: وزیر اعلی پنجاب کی طرف سے مریضوں کو ہیلتھ کئیر کارڈ جاری کیے گئے ہیں اس میں مریض کا50 ہزار تک کا علاج وزیر اعلی کی طرف سے مفت کیا جائیےگا،ادارہ کارڈ ہولڈر مریضوں کا آپریشن کیے جانے پر انشورنس کمپنی سے مہینے کے یا سال کے آخر پر ان کی فیس ادا کرےگی اور ہسپتال کو ان مریضوں کا کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ کمپنی کو مہیا کرنا ہوگا۔ایگریمنٹ کی کاپی ساتھ لف ہے۔ادارہ ہذا اس مسئلے کا شریعت کی رو سے فتوی حاصل کرنا چاہتا ہے کہ یہ درست ہے یا نہیں؟ براہ کرم تحریری فتوی عنایت فرمائیں۔

o

صورت مسئولہ میں کل تین فریق ہیں ۔ 1. ایک مریض کہ جس کا میڈیکل انشورنس وزیر اعلیٰ نے کرایا ہے ۔ 2. دوسرا اسٹیٹ لائف جس کے ذریعے یہ معاہدہ ہوا ہے یعنی وہ ادارہ جو یہ "انشورنس " کر ر ہا ہے۔ 3. تیسرا سائل کا ہسپتال جو کہ اسٹیٹ لائف سے وزیر اعلی کی طرف سے کرائے گئے انشورنس یافتہ مریضوں کے علاج معالجہ کا معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔ اس وضاحت کے بعد جواب یہ ہےکہ میڈیکل انشورنس کی پالیسی سود اور قمار پر مشتمل ہوتی ہے، اس لیے اس کا لینا جائز نہیں ،اگرچہ یہ پالیسی وزیر اعلی کی طرف سے دی گئی ہے ،کیونکہ اسٹیٹ لائف یہ رقم انشورنس پالیسی کی بناء پر ادا کررہا ہے ،جس میں سود کی رقم بھی شامل ہے اور ہسپتال مریضوں کا علاج کرکے بطور وکیل ان کی رقم اسٹیٹ لائف سے وصول کرتا ہے اوراپنے اخراجات کا مقاصہ(Adjust) کرتا ہے ۔ لہذا ہسپتال کے لئےیہ معاہدہ کرنا درست نہیں اور علاج کی مد میں ہونے والے اخراجات کی رقم اسٹیٹ لائف سے لینا جائز نہیں ۔

حوالہ جات

القران الکریم {وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا } [البقرة : 275] القران الکریم {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ} [البقرة: 27 الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 385) (قوله وفي الأشباه إلخ) قال الشيخ عبد الوهاب الشعراني في كتاب المنن: وما نقل عن بعض الحنفية من أن الحرام لا يتعدى إلى ذمتين سألت عنه الشهاب ابن الشلبي فقال: هو محمول على ما إذا لم يعلم بذلك، أما من رأى المكاس يأخذ من أحد شيئا من المكس، ثم يعطيه آخر ثم يأخذه من ذلك الآخر فهو حرام الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 386) وفي الذخيرة: سئل أبو جعفر عمن اكتسب ماله من أمر السلطان والغرامات المحرمة، وغير ذلك هل يحل لمن عرف ذلك أن يأكل من طعامه؟ قال: أحب إلي في دينه أن لا يأكل ويسعه حكما إن لم يكن غصبا أو رشوة اهـ وفي الخانية: امرأة زوجها في أرض الجور إذا أكلت من طعامه، ولم يكن عينه غصبا أو اشترى طعاما أو كسوة من مال أصله ليس بطيب فهي في سعة من ذلك والإثم على الزوج الفتاوى الهندية (5/ 342) قال الفقيه أبو الليث - رحمه الله تعالى - اختلف الناس في أخذ الجائزة من السلطان قال بعضهم يجوز ما لم يعلم أنه يعطيه من حرام قال محمد - رحمه الله تعالى - وبه نأخذ ما لم نعرف شيئا حراما بعينه، وهو قول أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - وأصحابه، كذا في الظهيرية. وفي شرح حيل الخصاف لشمس الأئمة - رحمه الله تعالى - أن الشيخ أبا القاسم الحكيم كان يأخذ جائزة السلطان وكان يستقرض لجميع حوائجه، وما يأخذ من الجائزة يقضي بها ديونه والحيلة في هذه المسائل أن يشتري نسيئة، ثم ينقد ثمنه من أي مال شاء وقال أبو يوسف - رحمه الله تعالى - سألت أبا حنيفة - رحمه الله تعالى - عن الحيلة في مثل هذا فأجابني بما ذكرنا، كذا في الخلاصة الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 98) وفي حظر الأشباه: الحرمة تتعددمع العلم بها إلا في حق الوارث، وقيده في الظهيرية بأن لا يعلم أرباب الأموال، وسنحققه ثمة.
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔