021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
زکاۃ کی رقم سے عمرہ کرانے کا حکم
68661زکوة کابیانمستحقین زکوة کا بیان

سوال

میں اپنی اہلیہ اور بچوں سمیت اپنے والدین اور بھائیوں کے ساتھ اپنی ذاتی   گھر  میں   رہتا ہوں ، ہر ایک بھائی اپنی تنخواہ  گھر میں والد صاحب کو دیتا ہے۔والد صاحب گھر  کا خرچہ چلاتے ہیں۔ میری ماہانہ آمدنی 20 ہزار ہے، 15 ہزار گھر میں دیتا ہوں اور 5 ہزار ذاتی خرچہ میں استعمال کرتا ہوں۔ اس کے علاوہ سونا، چاندی، نقدی اور مال تجارت میری ملکیت میں نہیں ہے۔ ایک صاحب زکاۃ کی رقم سے مجھے عمرہ کرانا چاہتا ہے، کیا  میں زکاۃ کی رقم سے عمرہ کرسکتا ہوں؟

o

زکاۃ کی رقم مستحق زکاۃ کو  مالک بناکردےدیناضروری ہے۔ پھر اگر وہ اس  سےعمرہ کرے تو جائز ہے۔صورت مسئولہ میں اگر زکاۃ دینے والا آپ کو مالک بناکر زکاۃ  دیتا ہےاور آپ اپنی مرضی سے اس سے عمرہ کرنا چاہتے ہیں تو کرسکتے ہیں اور زکاۃ بھی ادا ہوجائے گی،   مگر یکمشت  کسی کو زکاۃ  کی اتنی  رقم دینا  جس سے وہ  خود صاحب نصاب بن جائے، مکروہ ہے، لہٰذا بہتر یہ ہے کہ جسے دینا مقصود ہو وہ پہلے قرض  لے کر عمرے کا ٹکٹ کرائے اور پھر اسے زکاۃ دی جائے کہ وہ اپنا قرضہ اتار لے۔

یہ بھی ہوسکتاہے کہ آپ عمرہ کے لیے عقد کرلیں اور زکاۃ دینے والا آپ کی اجازت سے رقم ادا کردے۔

حوالہ جات

قال العلامة الكاساني رحمه الله: وأما ركن الزكاة فركن الزكاة هو إخراج جزء من النصاب إلى الله تعالى، وتسليم ذلك إليه، يقطع المالك يده عنه بتمليكه من الفقير، وتسليمه إليه، أو إلى يد من هو نائب عنه، وهو المصدق ... والدليل...وقد أمر الله تعالى الملاك بإيتاء الزكاة... والإيتاء هو التمليك؛ ولذا سمى الله تعالى الزكاة صدقة ... والتصدق تمليك.(بدائع الصنائع :2/ 39) قال العلامة الحصكفي رحمه الله: كتاب الزكاة ... (هي) لغة ...وشرعا (تمليك)خرج الإباحة... (جزء مال) خرج المنفعة... (عينه الشارع) ... (من مسلم فقير) ولو معتوها (غير هاشمي ولا مولاه) أي معتقه...(مع قطع المنفعة عن المملك من كل وجه) فلا يدفع لأصله ،وفرعه (لله تعالى) بيان لاشتراط النية. (الدر المختار :2/ 256-258) وقال أيضا: مصرف الزكاة والعشر... (هو فقير، وهو من له أدنى شئ): أي دون نصاب أو قدر نصاب غير تام مستغرق في الحاجة ...ويشترط أن يكون الصرف (تمليكا) لا إباحة ...(وكره إعطاء فقير نصابا) أو أكثر (إلا إذا كان) المدفوع إليه (مديونا ، و) كان (صاحب عيال) بحيث (لو فرقه عليهم لا يخص كلا)، أو لا يفضل بعد دينه (نصاب)، فلا يكره. فتح.( الدر المختار: 137) قال ابن عابدين رحمه الله:قوله: (وكره إعطاء فقير نصابا أو أكثر) ، وعن أبي يوسف: لا بأس بإعطاء قدر النصاب ،وكره الأكثر؛ لأن جزءا من النصاب مستحق لحاجته للحال ، والباقي دونه. معراج. وبه ظهر وجه ما في الظهيرية وغيرها عن هشام قال: سألت أبا يوسف عن رجل له مائة وتسعة وتسعون درهما فتصدق عليه بدرهمين قال: يأخذ واحدا ويرد واحدا. اهـ. فما في البحر والنهر هنا غير محرر، فتدبر. وبه ظهر أيضا : أن دفع ما يكمل النصاب كدفع النصاب. قال في النهر: والظاهر أنه لا فرق بين كون النصاب ناميا أو لا، حتى لو أعطاه عروضا تبلغ نصابا فكذلك، ولا بين كونه من النقود أو من الحيوانات حتى لو أعطاه خمسا من الإبل لم تبلغ قيمتها نصابا كره، لما مر. اهـ. وفي بعض النسخ تبلغ بدون لم والأنسب الأول. (رد المحتار:2/ 353)
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔