021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بھاگ کرشادی کرنےکاحکم اورشرعی سزا
68986نکاح کا بیاننکاح کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

ہمارےمعاشرےمیں یہ بات عام ہوتی جارہی ہےکہ لڑکی گھر سےبھاگ کروالدین کی رضامندی کےبغیر شادی کرلیتی ہے، پھربعض دفعہ والدین کی طرف سےلڑکی کوقتل کیاجاتاہے۔شرعایہ عمل کیساہے؟اور شریعت میں اس کی سزاکیاہے؟

o

لڑکی کاگھرسےبھاگ کر والدین کی رضامندی کےبغیرنکاح کرناشرعاانتہائی ناپسندیدہ عمل ہے،بلکہ بعض فقہاء

کرامؒ کےنزدیک ولی کی اجازت کےبغیرعورت کا ازخود کیاہوا نکاح منعقد ہی نہیں ہوتا،کیونکہ شریعت نے عورتوں

کےنکاح کامعاملہ اولیاء کوسپرد کیاہے۔حدیث میں ہےکہ والد کی رضامندی میں اللہ تعالی کی رضاہے،لیکن اگرلڑکی ایساکرتی ہےتوکسی کواسےقتل کرنےکااختیار نہیں ہے،یہ  بہت بڑاگناہ ہےاور جہنم میں جانےکا سبب ہے۔

حوالہ جات

السنن الكبرى للبيهقي وفي ذيله الجوهر النقي (7/ 133) وعن عطاء عن جابر رضى الله عنه قال قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم- :« لا يزوج النساء إلا الأولياء ولا يزوجهن إلا الأكفاء ولا مهر دون عشرة دراهم ».
..

n

مجیب

متخصص

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔