021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
سوتیلے بیٹے کا ماں کی میراث میں سے حصے کا مطالبہ
70280میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

میری دادی چالیس کنال اراضی کی مالک تھی،وفات کے وقت ان کے دو بیٹے تھے،دادا نے دوسری شادی کی،ان سے ایک بیٹا پیدا ہوا،دادی کی وصیت کے مطابق دادا نے اپنی زندگی میں ہی وہ زمین بیٹوں میں تقسیم کردی،جس کا زیادہ حصہ بڑے بیٹے کو دیا،دوسرا بیٹا ایب نارمل تھا،لیکن زمین کا انتقال نہیں بنا،دادا کی وفات کے بعد پہلی بیوی کے دونوں بیٹے فوت ہوگئے،ایک بیٹا صاحب اولاد ہے اور دوسرے کی شادی نہیں ہوئی تھی،اب سوتیلی دادی کے بیٹے کا مطالبہ ہے کہ اس جائیداد میں میرا بھی حصہ ہے،شریعت اس بارے میں کیا کہتی ہے؟

تنقیح :

سائل سے فون پر تنقیح سے معلوم ہوا کہ دادی کی وصیت یہ تھی کہ میرے مرنے کے بعد یہ زمین ساری میرے بڑے بیٹے کو دی جائی،کیونکہ چھوٹے بیٹے کا ذہنی توازن ٹھیک نہیں تھا،لیکن دادا نے ان کی وصیت پر مکمل عمل نہیں کیا،بلکہ وہ زمین آدھی تو اسی بیٹے کو،جبکہ آدھی دوسری بیوی سے پیدا ہونے والے بیٹے کو دی،اب دوسری بیوی کے بیٹے کا مطالبہ ہے کہ مجھے اس بھائی کا بھی حصہ دیا جائے جس کا ذہنی توازن ٹھیک نہیں ہے۔

دادی کی وفات کے وقت ان کے ورثہ درج ذیل تھے دوبیٹے اور شوہر،ان کے علاوہ نہ والدین تھے اور نہ بیٹیاں۔

o

1۔پہلی بات تو یہ ہے کہ وارث کے حق میں وصیت کا شرعا اعتبار نہیں،دوسری یہ کہ وصیت اگر شرعا معتبر ہو بھی تو تہائی مال تک اس پر عمل ضروری ہوتا ہے،اس لیے آپ کی دادی مذکورہ بالا وصیت کہ میرے مرنے کے بعد میرا سارا مال بڑے بیٹے کو دے دینا،شرعا نافذ العمل نہیں،لہذا ان کی وصیت کے مطابق ان کا سارا مال بڑے بیٹے کو دینا جائز نہیں تھا،بلکہ ان کی وفات کے وقت موجود ورثہ میں شرعی حصوں کے مطابق اسے تقسیم کرنا ضروری تھا جس کی تفصیل درج ذیل ہے:

وفات کے وقت جو سونا،چاندی،نقدی،جائیداد یا ان کے علاوہ جو بھی چھوٹا بڑا سامان آپ کی دادی کی ملک میں تھا سب ان کا ترکہ تھا اور اس میں سے 25%0 ان کے شوہر یعنی آپ کے دادا کا حصہ تھا،جبکہ%5ء37 ان کے ہر بیٹے کو دینا لازم تھا۔

لہذا جس بیٹے کا ذہنی توازن ٹھیک نہیں اس کا حصہ جس کو بھی دیا گیا ہے اس سے واپس لے کر اسے اس بیٹے کے اخراجات وغیرہ پر خرچ کرنا لازم ہے۔

2۔سوتیلے بیٹے کوسوتیلی ماں کی میراث میں سے کوئی حصہ نہیں ملتا،اس لیے  دوسری بیوی سے پیدا ہونے والے بیٹے کا یہ مطالبہ درست نہیں،بلکہ دادا نے اسے جو حصہ دیا ہے وہ بھی اس کا حق نہیں تھا،اس لیےدادا کے انتقال کے بعد اب اس کے ذمے لازم ہے کہ اسے دیا جانے والا حصہ حقیقی ورثہ کو ان کے حصوں کے مطابق واپس کردے،البتہ دادا کا بحیثیت شوہر دادی کی میراث میں جو حصہ بنتا ہےاس میں سے وہ اپنے حصے کے بقدر خود رکھ سکتا ہے،جبکہ بقیہ جائیدا دادا کے دیگر ورثہ کے حوالے کرنا ضروری ہے،اس لیے کہ دادا نے دادی کی جائیداد میں سے آدھی جائیداد جو دادا اور دیگر ورثہ کے حصوں پر مشتمل تھی بغیر تقسیم کیے اس کے حوالے کردی تھی اور قابل تقسیم چیز میں بغیر تقسیم کے ہبہ درست نہیں ہوتا،اس لیے دادا کا اپنے حصے میں بھی ہبہ درست نہیں ہوا،لہذا دادا کا بحیثیت شوہر دادی کی میراث میں جو حصہ بنتا ہے وہ بھی ان کے ترکہ)وفات کے وقت ان کی ملک جو سونا،چاندی،نقدی،جائیداد یا ان کے علاوہ جو بھی چھوٹا بڑا سامان ان کی ملک میں تھا سب ان کا ترکہ ہے( کا حصہ ہوگا اور مرحوم کی وفات کے وقت موجود تمام ورثہ کا اس میں حق ہوگا۔

حوالہ جات

"الدر المختار " (6/ 655):
"(ولا لوارثه وقاتله مباشرة) لا تسبيبا كما مر (إلا بإجازة ورثته) لقوله - عليه الصلاة والسلام - «لا وصية لوارث إلا أن يجيزها الورثة» يعني عند وجود وارث آخر كما يفيده آخر الحديث وسنحققه (وهم كبار) عقلاء فلم تجز إجازة صغير ومجنون وإجازة المريض كابتداء وصية ولو أجاز البعض ورد البعض جاز على المجيز بقدر حصته".
"الدر المختار " (6/ 650):
"(وتجوز بالثلث للأجنبي) عند عدم المانع (وإن لم يجز الوارث ذلك لا الزيادة عليه إلا أن تجيز ورثته بعد موته) ولا تعتبر إجازتهم حال حياته أصلا بل بعد وفاته (وهم كبار) يعني يعتبر كونه وارثه أو غير وارث وقت الموت لا وقت الوصية".
"الدر المختار " (6/ 774):
" ثم العصبات بأنفسهم أربعة أصناف جزء الميت ثم أصله ثم جزء أبيه ثم جزء جده (ويقدم الأقرب فالأقرب منهم) بهذا الترتيب فيقدم جزء الميت (كالابن ثم ابنه وإن سفل ثم أصله الأب ويكون مع البنت) بأكثر (عصبة وذا سهم) كما مر (ثم الجد الصحيح) وهو أبو الأب (وإن علا) وأما أبو الأم ففاسد من ذوي الأرحام (ثم جزء أبيه الأخ) لأبوين (ثم) لأب ثم (ابنه) لأبوين ثم لأب (وإن سفل) تأخير الإخوة عن الجد وإن علا قول أبي حنيفة وهو المختار للفتوى خلافا لهما وللشافعي".
"الدر المختار " (5/ 688):
"(و) شرائط صحتها (في الموهوب أن يكون مقبوضا غير مشاع مميزا غير مشغول) كما سيتضح".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

25/صفر1442ھ

n

مجیب

محمد طارق صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔