021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
وینٹی لیٹرپرڈالنے کی اجازت کی وجہ سے کیا شوہر پر اپنی بیوی کے قتل کا الزام لگاناصحیح ہے ؟
70361جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام درج ذیل مسئلہ کے بارےمیں کہ

         کیا میں اپنی بیوی کی موت کا ذمہ دار ہوں ؟ بھلا میں یہ کیسے جان سکتا ہوں کہ ڈاکٹر اور مریض دونوں جانتے ہیں کہ وہ میری وجہ سے مرنا چاہتی ہےجبکہ مجھے پتہ ہی نہیں؟ اس نے کبھی بھی کچھ نہیں بتایا اورنہ ہی کبھی شکایت کی کہ وہ مجھ سے خوش نہیں ہے،میرے اہل خانہ کے مطابق میری اہلیہ نے ایک ویڈیو ریکارڈ کی اور مجھ پر ہر چیز کا الزام لگایاہے اور یہ کہ وہ میری وجہ سے ہی مر رہی ہیں، مجھ پر الزام یہ لگایا گیا ہے کہ میں اس کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کر رہا تھا اور خاص طور پر اس رات جب اس کی موت ہوگئی اور وینٹی لیٹر پر وہ زندہ نہیں رہ سکی اور چل بسیں۔ اب میرے سسرال والے اور میرا اپنا کنبہ مجھ پر اس کے قتل کا الزام لگا رہا ہے ان کا کہنا ہے کہ اس کا دل پہلے ہی بہت کمزور تھا اور کوئی بھی عام آدمی یہ سمجھ سکتا ہے کہ وینٹی لیٹر اس کے لئے اچھا نہیں تھا اور وہ بچ نہیں سکے گی تو پھر کیسے آپ نے وینٹی لیٹر کے لئے کسی ڈاکٹر کو اجازت دی اور فارم پر دستخط کیے؟  میرا جواب  یہ ہے کہ اس کی تکلیف کی وجہ سے میں نے، مریض نے اور ڈاکٹر نے اس کے لئے وینٹی لیٹرکا فیصلہ کیا اور admission ICU فارم پر دستخط کیے،لہذا میں کیسے جوابدہ ہوں؟ ان کا کہنا ہے کہ میرے سلوک کی وجہ سے اس نے خودکشی کی اور ڈاکٹر نے اس کی مدد کی،اس رات دو واقعات ہوئے۔ پہلا یہ کہ میں اسے سرکاری اسپتال کے بجائے سعودی عرب میں اچھے نجی ہسپتال لیکر گیامگر میری اہلیہ کا ارادہ سرکاری ہسپتال جانےکا تھا.دوسرا یہ کہ میری بیوی نے مجھ سے کسی ضرورت کے لئے نرس کو فون کرنے کو کہا تو میں نے کمرے سے نرس کا بٹن دبایا،لیکن کچھ منٹ کے بعد اس نے پھر نرس طلب کی اور مجھ پر چیخ اٹھی کہ آپ نرس کو کیوں نہیں بلا رہے ہیں؟ میں نے بھی اسے خراب موڈ میں کہا کہ میں نے پہلے ہی اسے فون کیا ہے، میں کیسے باہر جاسکتا ہوں؟ اور میں نے چہرے سے تھوڑی سی بدمزاجی اسے دکھائی، تاہم میرا اس سے بدتمیزی کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا بس یہ سب کچھ غیر دانستگی سے تھا،کیا ان واقعات کو بنیاد بناکر میرے سسرال والوں اور میرے اپنے کنبے کا مجھ پر بیوی کے قتل کا الزام لگانا صحیح ہے؟

o

        اگرواقعتاًآپ نے بیوی کی تکلیف کی وجہ سے ڈاکٹر کے مشورے سے بیوی کو وینٹی لیٹرپر ڈالنے کی اجازت دی تھی اوروہ نبرآزما نہ ہوسکی اورفوت ہوگئی تو آپ کےکنبے اورسسرال والوں کا آپ پر بلاثبوت اس کے قتل کا الزام لگانا جائز نہیں؟بالکل غلط ہے یہ جو کچھ ہوا اللہ تعالی کے فیصلے سےہوا ،آپ نے تو اس کو بچانے اوراس کی تکلیف دورکرنے کےلیے وینٹی لیٹر پرڈالنے کی اجازت دی تھی،لہذا آپ  کو اس کےموت کا  ملزم ٹہرانا  صحیح نہیں؟

یہ صحیح ہے کہ خاوند  کو  بیوی  سے بداخلاقی  نہیں  کرنی  چاہیے، خاص  طور پرجبکہ وہ بیمار ہو،اس  کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آنا چاہیے اوراس کا خیال رکھناچاہیے لیکن اگر بالفرض کوئی بداخلاقی ہوئی بھی ہو  تب بھی اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ بلاثبوت خاوندکو بیوی کے قتل کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے،لہذا مسئولہ صورت میں قتل  کا  الزام بالکل غلط ہے، آپ کےکنبے اورسسرال والوں چاہیے کہ وہ  خدا سے ڈریں  اوربلاوجہ کسی پر قتل کا الزام  نہ لگائیں،کسی مسلمان پر قتل کا الزام لگانا بہت بڑے گناہ کی بات ہے جس سے بچنا لازم ہے۔

حوالہ جات

عن اُسامةَ بنِ شریکٍ قال، قالوا: یا رسول اللّٰہ، اَفَنَتَدَاوٰی؟ قال نَعَمْ، یاعَبدَاللّٰہِ تَداوَوا، فاِن اللّٰہ لَمْ یَضعْ داءً اِلاّ وَضعَ لہ شِفاءً، غَیرَ داءٍ واحدٍ، اَلھَرمِ۔ رواہ احمد والترمذی وابودواوٴد (شرح الطیبی ج۹/۲۹۶۲)
خمسٌ ليس فيهِنَّ كفَّارةٌ: الشِّركُ باللهِ وقتلُ النفسِ بغيرِ حقٍّ وبُهتُ المؤمنِ والفِرارُ يومَ الزحفِ ويمينٌ صابرةٌ يَقتَطِعُ بها مالًا بغيرِ حقٍّ . الراوي : أبو هريرة | المحدث : السفاريني الحنبلي | المصدر : كشف اللثام الصفحة أو الرقم: 6/392 | خلاصة حكم المحدث : إسناده حسن التخريج : أخرجه أحمد (8722) مطولاً، وابن أبي عاصم في ((الديات)) (ص16) مختصراً، والديلمي في ((الفردوس)) (2977) باختلاف يسير
وفی كنز العمال - (ج 27 / ص 368)
عن  علي قال: البهتان على البراء أثقل من السموات.
وفی نوادر الأصول فى أحاديث الرسول ـ للترمذى - (ج 1 / ص 77)
 قال {صلى الله عليه وسلم} البهتان عدل بالشرك بالله.
وفی ''مرقاۃ المفاتیح '':
'' عن ابن عباس مرفوعاً: «لكن البينة على المدعي واليمين على من أنكر»۔ قال النووي: هذا الحديثقاعدة شريفة كلية من قواعد أحكام الشرع، ففيه: أنه لا يقبل قول الإنسان فيما يدعيه بمجرد دعواه، بل يحتاج إلى بينة، أو تصديق المدعى عليه''(7/250، باب الاقضیہ والشہادات، ط :امدادیہ).

 سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

  7/3/1442ھ               

n

مجیب

سید حکیم شاہ صاحب

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔