021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
اجرت کا مطالبہ/گڈز ٹرانسپورٹ کمپنی کے منشی کاٹرک والوں سےلوڈنگ کی اضافی اجرت کامطالبہ
70377جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

ہماری ایک گڈز ٹرانسپورٹ کمپنی ہے جس میں پرچون کا سامان  دوسرے شہر بھجوایا جاتا ہے ، جس کا مال ہوتا ہے اس سے کرایہ وصول کرتے ہیں مال کے پہنچانے پر اور کمپنی میں مال بذریعہ ٹرک  بھیجا جاتا ہے۔کمپنی والے اپنے ساتھ منشی رکھتے ہیں  اس شرط پر کہ مثلاً   آپ کا مقرر تنخواہ  پندرہ ہزار  ہے اور ہر ٹرک لوڈ نگ پر ایک ہزار روپے منشیانہ دیا جائے گا جو کمپنی کے منشی آپس میں تقسیم کریں گے  ۔ جتنی بھی گڈز ٹرانسپور ٹ کمپنیاں ہیں اکثریت کے یہاں عرف یہ ہے کہ  وہ منشیانہ ایک ہزار، ٹرک والوں سے لیا جاتا ہے  اور ٹرک والوں کے ساتھ عقد کرتے وقت منشیانہ بھی طے نہیں ہوتا کیوں کہ ہزار روپے ایک  ٹرک پر منشیانہ مقرر ہے۔بعض ٹرک والوں کو اس کا علم نہیں ہوتا پھر بھی ان سے منشیانہ لیا جاتا ہے ۔جب بعض اوقات ٹرک والا منشیانہ نہیں دیتا تو وہ منشی منشیانہ کمپنی سے وصول کرتا ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا منشیوں کے لیے ٹرک والے سے ہزار روپے لینا جائز ہے کہ نہیں ؟اور اگر اس کی  جائز  صور تیں بن سکتی  ہوں تو وہ بھی بتادی جائیں۔

o

مذکورہ صورت میں منشی  کے لیے ٹرک والوں سے ایک ہزار روپے کا مطالبہ جائز نہیں ہے۔  سوال میں ذکر کردہ صورت کے مطابق چونکہ   منشی،کمپنی کا ملازم ہے ،اس کی  طے شدہ اجرت پندرہ ہزار روپے اور ہر ٹرک لوڈ کرنے پر اضافی ایک ہزار روپے ہے،لہٰذا منشی کے لیے اضافی ایک ہزار روپے کا مطالبہ ٹرک والوں سے  کرنا جائز نہیں ہے بلکہ کمپنی سے یہ مطالبہ کرسکتا ہے۔البتہ ٹرک والے اپنی خوشی سے ایک ہزار روپے منشی کو دینا چاہیں تو دے سکتے ہیں۔منشی کمپنی کا نمائندہ ہے، کمپنی نے اس کو کہا ہو کہ تم ہمارے لیے ٹرک والوں سےایک ہزار وصول کرکے بطور اجرت رکھو گے تو ملازم کے ساتھ اس معاہدے مین تو کوئی مسئلہ نہ ہوگا۔البتہ کمپنی کا ٹرک والوں کو پہلے سے بتانا ضروری ہوگا،بتائے بغیر وصول کرنا جائز نہ ہوگا، چونکہ صورت مسئولہ میں پہلے سے نہیں بتایا جاتا ہے اس لیے یہ معاملہ ناجائز ہے۔

حوالہ جات

الاختيار لتعليل المختار (3/ 20)
لأن الأجير يستحق الأجرة بتسليم نفسه
الجوهرة النيرة على مختصر القدوري (1/ 265)
والأجير الخاص هو الذي يستحق الأجرة بتسليم نفسه في المدة، وإن لم يعمل
مجلة الأحكام العدلية (ص: 82)
(المادة 425) : الأجير يستحق الأجرة إذا كان في مدة الإجارة حاضرا للعمل ولا يشرط عمله بالفعل ولكن ليس له أن يمتنع      عن العمل وإذا امتنع لا يستحق الأجرة.
تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (5/ 134)
وقال القدوري المشترك من لا يستحق الأجر حتى يعمل والخاص الذي يستحق الأجرة بتسليم نفسه في المدة، وإن لم يعمل
تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (5/ 137)
(والخاص يستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة، وإن لم يعمل كمن استؤجر شهرا للخدمة أو لرعي الغنم) أي الأجير الخاص يستحق الأجرة بتسليم نفسه للعمل عمل أو لم يعمل سمي أجيرا خاصا وأجير وحد؛ لأنه يختص به الواحد وهو المستأجر وليس له أن يعمل لغيره

واللہ سبحانہ و تعالی أعلم

محمد حمزہ سلیمان

دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی

١٠/ربیع الاول    ۱۴۴۲ھ

n

مجیب

محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔