021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کون سی اشیاء ترکہ شمار ہوں گی؟
70793میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

میرے والد کے ورثاء میں تین بیٹیاں اور سات بیٹے ہیں۔ والدہ اور ایک بہن کا انتقال والد کی زندگی میں ہی ہوچکا تھا۔ ہمارے والد نے اپنی زندگی میں ہی زیادہ تر جائیداد کو تقسیم کردیا تھا اور مالکانہ حقوق بھی دے دیے تھے۔

والد صاحب نے اپنے کاروبار میں اپنی مدد کے لیے اپنے دو بیٹوں کو شامل کررکھا تھا۔ بیماری اور فالج کے حملے کی وجہ سے وہ لکھنے سے معذور ہوگئے تھے اور اپنے بینک اکاؤنٹ بھی دوسرے بیٹوں کی مدد سے استعمال کرتے تھے۔والد کے انتقال کے وقت جو مال واسباب موجود تھا اس کی تفصیل یہ ہے:

  1. والد کے کاروبار میں موجود پیسہ۔
  2. والد کے کاروبار میں موجود جائیداد اور گاڑی۔
  3. والد کے اپنے ایک بیٹے(ہمارے بھائی) کے ساتھ مشترکہ اکاؤنٹ میں پیسہ۔

ہماری والدہ کا کچھ زیور جو کہ والد کے پاس موجود تھا وہ انہوں نے اپنی زندگی میں اپنی ایک بہو کو تحفۃً دے دیا۔ جب ان کی بہو نے ان سے سوال کیا کہ آپ مجھے کیوں دے رہے ہیں،دوسرے لوگ مجھ پر اعتراض کریں گے۔انہوں نے کہا کہ مجھے جس جس کو جو دینا تھا وہ میں دے چکا اور اب یہ زیور میں اپنی مرضی سے تم کو دے رہا ہوں،کسی کو بھی اس پر اعتراض کا حق نہیں ہے۔ اس تفصیل کے بعد اب درج ذیل سوالات کے جواب مطلوب ہیں:

  1. وہ تمام جائیداد جو والد نے اپنی زندگی میں تقسیم کردی ہے اور مالکانہ حقوق بھی دے دیے ہیں، کیا وہ جائیداد بھی ان کا ترکہ تصور ہوگی؟
  2. والد صاحب کے انتقال کے وقت کی جو اشیاء اوپر ذکر کی گئی ہیں، کیا وہ ترکہ شمار ہوگا؟
  3. والد صاحب نے والدہ کا جو زیور اپنی زندگی میں دیا ہے، کیا وہ ترکہ شمار ہوگا؟
  4. ہماری ایک بڑی بہن کا انتقال والد صاحب کی زندگی میں ہوچکا تھا۔کیا اس ترکہ میں اس بہن کا کوئی حصہ بنتا ہے؟

تنقیح:سائل کے مطابق زیور کی اصل ملکیت والد صاحب کی تھی، انہوں نے والدہ کو صرف استعمال کے لیے دیا تھا۔والدہ کے انتقال کے بعد انہوں نے اپنی زندگی میں تقسیم کردیا تھا۔

o

جو شخص اپنی زندگی میں اپنی کوئی مملوکہ چیز کسی دوسرے کو ہبہ کردے اور اس پر قبضہ بھی کرادے تو وہ اس کی ملکیت سے نکل جاتی ہے،لہذا وفات کے بعد ایسی تمام اشیاء اس کے ترکہ میں شمار نہیں ہوتیں۔ اس کے علاوہ وہ تمام اشیاء ترکہ شمار ہوں گی جو انتقال کے وقت  اس نے اپنی ملکیت میں چھوڑی  ہوں۔ البتہ اگر کسی غیر وارث کے لیے کوئی وصیت کی ہے تو وہ ترکہ کے ایک تہائی سے پوری کی جائے گی، وارث کےلیے وصیت جائز نہیں۔اس کے بعدآپ کے سوالات کے ترتیب وار جواب یہ ہیں:

  1. یہ تمام جائیداد والد صاحب کا ترکہ نہیں ہے، بلکہ یہ ان لوگوں کی ملکیت ہے جن کو یہ جائیداد دی گئی ہے۔
  2. یہ تمام اشیاء والد صاحب کا ترکہ ہے،لہذا انہیں ورثاء میں تقسیم کیا جائےگا۔
  3. مذکورہ زیور ترکہ شمار نہیں ہوگا۔
  4. جو شخص مورث کی زندگی میں فوت ہوجائے اس کو میراث میں حصہ نہیں دیا جاتا،لہذا آپ کی مذکورہ بہن کا میراث میں حصہ نہیں بنتا۔

حوالہ جات

حاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 758)
وشروطه: ثلاثة: موت مورث حقيقة، أو حكما كمفقود، أو تقديرا كجنين فيه غرة ووجود وارثه عند موته حيا حقيقة أو تقديرا كالحمل والعلم بجهة إرثه.

      سیف اللہ

             دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

‏                                                                                       ھ05/05/1442    

n

مجیب

سیف اللہ بن زینت خان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔