021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
یتیم بچی پر کیے گئے اخراجات میراث کا سبب نہیں ہیں
77255میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں شریعت کی رو سے کیا فرماتے ہیں کہ ملوک خان بن دوست محمد کی دو شادیاں تھیں، پہلی شادی سے پانچ بیٹے میر عبداللہ، نعمت اللہ، حفیظ اللہ( جس کی کوئی اولاد نہیں ہے باپ سے پہلے وفات پا چکے تھے ) نادرخان ، بازخان  اور چار بیٹیاں  تھیں   جبکہ  دوسری بیوی  سے تین بیٹے شاہذ اللہ،  حبیب اللہ ،خان ولی (اور صفی اللہ جو والد کی وفات کے بعد پیدا ہوا )اور پانچ بیٹیاں تھیں۔ ملوک خان بن دوست محمد نے اپنی حیات میں سب  زمین کے 9 حصے کیے  ،پہلا حصہ میر عبداللہ کا،دوسرا حصہ نعمت اللہ کا ،تیسرا حصہ نادر خان کا، چوتھا حصہ بازخان کا،پانچواں حصہ حفیظ اللہ کاجبکہ دوسری بیوی سےشاہذ اللہ کاچھٹا حصہ ( کوئی اولاد نہیں ہے کیونکہ باپ سے پہلے فوت ہوچکے تھے ) حبیب اللہ کا ساتواں حصہ  ،خان ولی کا آٹھواں حصہ   اور نواں حصہ ملوک خان  بن دوست محمد نے اپنا کیا،ملوک خان بن دوست محمد وفات پا گئے  اور ملوک خان بن دوست محمدکی وفات کے بعدمیرعبداللہ بن ملوک بھی وفات پا گئے ان کی وفات کے بعد   باز خان ولد ملوک خان فوت ہو گئے، ان کی ایک بیٹی رہی،  اس کی پرورش میر عبداللہ کےبچوں نے کی ،بالغ ہونے کے بعد اس بچی کی شادی بھی انہوں نے کروائی،اسی طرح شادی کروا کر دوسرے خاندان میں دی، تقریبا 30 سال بعد اس بچی کو طلاق ہوگئی طلاق کے بعد  تقریبا ۲۵ سال  سےمیر عبد اللہ کے بچوں کے ساتھ رہ رہی ہے ۔

سوال: جن ورثاء نے باز خان کی بیٹی کی پرورش کی ،ان ورثاء کو باز خان کی  وراثت میں  سے کتنا حصہ ملے گا؟

o

باز خان کی جائداد میں سے جن ورثاء کو حصہ ملے گا ان  کی شرعی تقسیم جواب نمبر چار میں ملاحظہ فرمائیں، رہی بات بازخان کی یتیم بچی پر کیے گئےاخراجات کی تو اس سلسلے میں شرعی حکم یہ ہے کہ یتیم بچے کی کفالت(مالی اخراجات وغیرہ) کی ذمہ داری سب سے پہلے یتیم کے دادا پر واجب ہوتی ہے،اگر وہ نہ ہو تو بڑے بھائی کے ذمہ  واجب ہوتی ہے،وہ نہ ہوں تو چچا کے ذمے اور اگر وہ بھی نہ ہوں تو چچا زاد بھائی کے ذمے واجب ہوتی  ہے ، چنانچہ جو کچھ مذکورہ یتیم بچی  پر چچا زاد بھائیوں نے یا دیگر کسی رشتہ دار وغیرہ نے خرچ کیا ہے، وہ  چچازاد بھائی ہونے کی حیثیت سے یا رشتہ دار ہونے کی حیثیت سے خرچ کیا ہے،لہٰذا مذکورہ یتیم بچی پر خرچ کرتے ہوئے اگر قرض کی صراحت نہیں کی گئی تھی تو اس بچی کو ملنے والی وراثت میں سےاس یتیم بچی کی پرورش کرنے والے کسی بھی رشتہ دار کو کسی قسم کے  مطالبے کا حق حاصل نہیں ہوگا،البتہ جو کچھ یتیم  بچی پر خرچ کیا گیا ہے اس  کا ثواب  ان شاء اللہ ضرور ملے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :"میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا خواہ وہ اس کا رشتہ دار ہو یا غیر ہو ،جنت میں اس طرح ہوں گے، جیسے یہ دو انگلیاں "۔امام

مالک رحمہ اللہ نے اس کی وضاحت  کے لیے شہادت کی انگلی اور درمیان والی انگلی کو ملاکراشارہ فرمایا"۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 563)
ثم العصبات بترتيب الإرث، فيقدم الأب ثم الجد ثم الأخ الشقيق، ثم لأب ثم بنوه كذلك، ثم العم ثم بنوه.
الموسوعة الفقهية - الدرر السنية (3/ 146، بترقيم الشاملة آليا)
الولاية على الطفل نوعان:
نوع يقدم فيه الأب على الأم، وهي ولاية المال والنكاح.ونوع تقدم فيه الأم على الأب، وهي ولاية الحضانة والرضاع.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 594)
(والنفقة لا تصير دينا إلا بالقضاء أو الرضا) أي اصطلاحهما على قدر معين أصنافا أو دراهم، فقبل ذلك لا يلزم شيء، وبعده ترجع بما أنفقت ولو من مال نفسها بلا أمر قاض.
صحيح مسلم للنيسابوري (8/ 221)
7660۔حَدَّثَنِى زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدِّيلِىِّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْغَيْثِ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « كَافِلُ الْيَتِيمِ لَهُ أَوْ لِغَيْرِهِ أَنَا وَهُوَ كَهَاتَيْنِ فِى الْجَنَّةِ ». وَأَشَارَ مَالِكٌ بِالسَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى.

محمد حمزہ سلیمان

دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی

۲۶/ذو القعدۃ ۱۴۴۳ھ

n

مجیب

محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔