021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ایک مجلس کی تین طلاقوں کاحکم
77223طلاق کے احکامتین طلاق اور اس کے احکام

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

میری شادی محترمہ نوال اقبال بنت ایس ایم شاہین سے یکم دسمبر2020کو ہوئی جس سےمیرا ایک بیٹا سید مصعب بن واصف 21دسمبر 202کو پیدا ہوا ۔

مسئلہ یہ ہےکہ شادی کے شروع ہی سے ہم میاں بیوی میں معاملات کشیدہ رہے ہیں اورہم دونوں کو متعددبار معاملات کو بہتر بنانے کےلیے بیٹھنا پڑا ،پہلی دفعہ مارچ 2021کو شادی  کےصرف چارماہ بعد ہی یہ نوبت آگئی تھی معاملات کی خرابی کی وجہ محترمہ نوال کا ہیجانی کیفیت والاغصہ اوران کے والد ایم ایم شاہین کی بدزبانی اورگالم گلوچ بنی ،اس درمیان میری اہلیہ نے مجھ پرہاتھ بھی اٹھایااوردست وگریبان بھی ہوئی ،میری شادی کے اٹھارہ ماہ کے دوران دونوں اطرف کے بزرگ 6،7باربیٹھ چکےہیں اورہردفعہ اگلی دفعہ بدتمیزی اورہاتھاپائی نہ کرنے کی یقین دہانی کے بعد میں نے سب باتوں کو بھلاکر کھلے دل سے ان کو معاف کیا، 17مئی کے دن پھر وہی پرانی کہانی دہرائی گئی ،میری اہلیہ نوال اقبال نے لڑائی جھگڑا کرکے اپنا سامان جو جہیز میں لائی تھی لپیٹنا شروع کیا ،میرے والد اوروالدہ نے کئی دفعہ سمجھایا اس کے باوجود ان کےساتھ بھی ماضی کی طرح بدتمیزی اورتلخ کلامی کےساتھ پیش آئی، اور18مئی کو اپنے والد کو بلاکر ان کےساتھ روانہ ہوگئی،گھر کے گیٹ پر ان کے والد نے جوتماشہ کیا وہ بھی بڑا عجیب تھا جبکہ اس محلے میں میری رہائش گزشتہ تیس سالوں سے ہے انہوں نے میری ماں بہن کو گالیاں دی اوربعد ازاں 18مئی کو ہی مجھے پولیس موبائل بھیج کرگھر سے تھانے بلوایا جہاں نوال اقبال اورایس ایم شاہین پہلے سے موجودتھے،تھانے میں ایس ایچ او صاحب کے سامنے مجھ پر لگائے گئے تمام الزامات ایک کے بعد ایک جھوٹے ثابت ہوئے، ایس ایچ او کے کمرے میں بیٹھے ہوئے پولیس کے افراد نے ایس ایم شاہین صاحب کا رویہ اورلہجہ دیکھتے ہوئے لاک اپ کرنے کی دھمکی دی اورکہا کہ تمہارے رویہ اورلہجے کی وجہ سے تمہاری بیٹی نوال کا گھر نہیں بس رہاہے،لہذا بہت سوچ بچارکرنے اورماضی کے واقعات کو دیکھتے ہوئے اورنوال کے نا تبدیل ہونے والے رویہ کو دیکھتے ہوئے اوراپنے والدین سے مشورہ کے بعدبالآخر مورخہ 21مئی کو کورٹ کے ذریعے تین طلاقوں والاطلاق نامہ  میں نے نوال کو بھجوادیا جو 23مئی 2022کو نوال  نے وصول کرلیا،طلاق نامہ میں درج ذیل الفاظ واضح طورپرمیں نے  لکھےتھے:

"یہ کہ میں سیدواصف احمد ولد سید مسعود احمد ،مسماة نوال اقبال بنت ایم ایم شاہین کو طلاق دیتاہوں

یہ کہ میں سیدواصف احمد ولد سید مسعود احمد ،مسماة نوال اقبال بنت ایم ایم شاہین کو طلاق دیتاہوں

یہ کہ میں سیدواصف احمد ولد سید مسعود احمد ،مسماة نوال اقبال بنت ایم ایم شاہین کو طلاق دیتاہوں"

     اب مسئلہ یہ ہےکہ میں واصف احمد تومسلک کے اعتبارسے حنفی ہوں اورمیرانکاح بھی حنفی امام نےہی پڑھایا تھا جبکہ میرے سسرال والے مسلک اہلِ حدیث سے تعلق رکھتے ہیں،بقول ان کے مسلک اہلِ حدیث میں ایک نشست میں دی گئی تین طلاق ایک ہوتی ہے لہذا ایک طلاق ہوئی ہے۔برائے کرم اس مسئلہ میں میری رہنمائی فرمائیں ۔

o

 مذکورہ صورت میں آپ کی بیوی  پر تین طلاقیں واقع ہوگئی ہیں اورحرمتِ مغلظہ ثابت ہوگئی ہے اب موجودہ حالت میں حلالہ کے بغیر آپ دونوں میں  نہ رجوع ہوسکتا ہے اورنہ  ہی نکاح ۔

حوالہ جات

فی سنن ابن ماجة (ج 2 / ص 152)باب من طلق ثلاثا في مجلس واحد 2024
حدثنا محمد بن رمح . أنبأنا الليث بن سعد ، عن إسحاق بن أبى فروة ،عن أبى الزناد ، عن عامر الشعبى  قال : قلت لفاطمة بنت قيس :حدثينى عن طلاقك . قالت : طلقني زوجي ثلاثا ، وهو خارج إلى اليمن .فأجاز ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم .سنن البيهقي الكبرى - (ج 7 / ص 339)
أخبرنا أبو سعد أحمد بن محمد الماليني أنا أبو أحمد عبد الله بن عدي الحافظ نا محمد بن عبد الوهاب بن هشام نا علي بن سلمة اللبقي ثنا أبو أسامة عن الأعمش قال كان بالكوفة شيخ يقول سمعت علي بن أبي طالب رضي الله عنه يقول إذا طلق الرجل امرأته ثلاثا في مجلس واحد فإنه يرد إلى واحدة والناس عنقا وآحادا إذ ذاك يأتونه ويسمعون منه قال فأتيته فقرعت عليه الباب فخرج إلي شيخ فقلت له كيف سمعت علي بن أبي طالب رضي الله عنه يقول فيمن طلق امرأته ثلاثا في مجلس واحد قال سمعت علي بن أبي طالب رضي الله عنه يقول إذا طلق رجل امرأته ثلاثا في مجلس واحد فإنه يرد إلى واحدة قال فقلت له أين سمعت هذا من علي رضي الله عنه قال أخرج إليك كتابا فأخرج فإذا فيه بسم الله الرحمن الرحيم هذا ما سمعت علي بن أبي طالب رضي الله عنه يقول إذا طلق الرجل امرأته ثلاثا في مجلس واحد فقد بانت منه ولا تحل له حتى تنكح زوجا غيره قال قلت ويحك هذا غير الذي تقول قال الصحيح هو هذا ولكن هؤلاء أرادوني على ذلك.
رد المحتار - (ج 10 / ص 448)
وقد ثبت النقل عن أكثرهم صريحا بإيقاع الثلاث ولم يظهر لهم مخالف - { فماذا بعد الحق إلا الضلال}  وعن هذا قلنا لو حكم حاكم بأنها واحدة لم ينفذ حكمه لأنه لا يسوغ الاجتهاد فيه فهو خلاف لا اختلاف.
الفتاوى الهندية - (ج 10 / ص 196)
وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير ويشترط أن يكون الإيلاج موجبا للغسل وهو التقاء الختانين هكذا في العيني شرح الكنز .أما الإنزال فليس بشرط للإحلال.
لو قال لزوجتہ أنت طالق طالق طالق طلقت ثلاثاً۔ (الأشباہ والنظائر ۲۱۹ قدیم)کرر لفظ الطلاق وقع الکل۔ (شامي ۴؍۵۲۱ زکریا)
أحكام القرآن للجصاص ج: 5  ص: 415
قوله تعالى: {فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجاً غَيْرَهُ} منتظم لمعان: منها تحريمها على المطلق ثلاثا حتى تنكح زوجا غيره، مفيد في شرط ارتفاع التحريم الواقع بالطلاق الثلاث العقد والوطء جميعا; لأن النكاح هو الوطء في الحقيقة، وذكر الزوج يفيد العقد، وهذا من الإيجاز واقتصار على الكناية المفهمة المغنية عن التصريح. وقد وردت عن النبي صلى الله عليه وسلم أخبار مستفيضة في أنها لا تحل للأول حتى يطأها الثاني، منها حديث الزهري عن عروة عن عائشة: أن رفاعة القرظي طلق امرأته ثلاثا، فتزوجت عبد الرحمن بن الزبير، فجاءت إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقالت: يا نبي الله إنها كانت تحت رفاعة فطلقها آخر ثلاث تطليقات فتزوجت بعده عبد الرحمن بن الزبير وإنه يا رسول الله ما معه إلا مثل هدبة الثوب فتبسم رسول الله صلى الله عليه وسلم وقال: "لعلك تريدين أن ترجعي إلى رفاعة؟ لا حتى تذوقي عسيلته ويذوق عسيلتك".
 ایک مجلس میں دی گئی تین طلاقیں ایک نہیں، بلکہ تین  ہوتی ہیں، یہی مذہب قرآن ،احادیث سے ثابت اورصحابہ کرام ،ائمہ اربعہ، صحاح ستہ کے مصنفین اورامام ابن ماجہ کا ہے لہذا آپ کےسسر ال والوں کی بات کہ ایک مجلس میں دی گئی تین طلاقیں ایک ہوتی ہیں  درست نہیں ۔
تین کو ایک قراردینے کے حوالے سے جو فتوی اہلِ حدیث حضرات جاری کرتے ہیں اوراس میں جو دلائل لکھتے ہیں اس کا مفصل جواب درجِ ذیل ہے۔
قرآن کریم سے استدلال کا جواب اور’’مرۃ‘‘ کی اقسام کا بیان
 موصوف کا قرآن کریم کی آیت’’ الطلاق مرتان ‘‘میں  مرتان کے لفظ سے اس طرح استدلال کرنا کہ مرتان سے مراد دو وقفہ وقفہ سے دی گئی طلاقیں  ہیں  کیونکہ لغت میں  مرتان اسی کو کہا جاتا ہے کہ جب مرۃ بعد مرۃ ہو تو ان کی یہ بات مرۃ کی اقسام اور طلاق کونسی قسم میں سے ہے اس کو نہ سمجھنے کی وجہ سے ہے۔ چنانچہ مرتین، مرات کا استعمال دو طرح سے ہوتا ہے ،کبھی اس سے فعل مراد ہوتا ہے، کبھی عین مراد ہوتا ہے، لیکن اکثر استعمال فعل میں  ہوتا ہے۔ بہرحال اعیان کی مثال جیسے حدیث پاک میں  آتا ہے:"عن أنس ؓ أن أهل مكة سألوا رسول الله -صلى الله عليه وسلم- أن يريهم آية فأراهم انشقاق القمر مرتين" (مسلم۳۷۳/۲) أی شقتین وخلقتین۔یعنی آپ صلی الله علیہ وسلم کے زمانہ میں  چاند کے دو ٹکڑے ہوگئے تو مرۃ سے یہاں  عین مراد ہے کہ دو ٹکڑے ،فعل مراد نہیں  یعنی فعل انشقاق کے دو مرتبہ شقِ قمر ہوا۔ اسی طرح قرآن کی آیت”نُّؤْتِهَا أَجْرَهَا مَرَّتَيْنِ“یہاں  بھی مرۃ سے عین مراد ہے یعنی اجرین [دوگنا اجر] فعل مراد نہیں ، یعنی فعل ایتاء مراد نہیں  ،کہ ایتاء دو مرتبہ ہوگا، بلکہ ایک مرتبہ میں  دوگنا اجر دیں  گے لہٰذا مرۃ کی اس قسم میں  مرتین و مرات کا اجتماع زمانِ واحد میں  متکلم واحد سے ممکن ہے ،لیکن مرۃ فعلی میں  مرۃ اور مرات کا اجتماع زمان ِ واحد میں  نہیں  ہو سکتا، کیونکہ فعل مثلی شیٔ ہے اور دو مثل کاایک ہی فاعل سے ایک ہی وقت میں  ان کا صدورمحال ہے، جیسے قرآن کریم میں  لعان کے بارے میں  حکم ہے "أربع شھادات بالله" یعنی چار مرتبہ الله کو گواہ بنانا اب یہاں  "أربع شہادات" میں  شہادت ایک فعل ہے، لہٰذا’’اربع‘‘ یعنی چار شہادات کا الگ الگ زمانہ میں  پایا جانا ضروری ہے۔ ایک ہی زمانہ میں ان کا تصور ناممکن ہے (کہ ایک آدمی چار مرتبہ گواہی ایک ہی ساتھ صادر کردے) لہٰذا اگر لعان کرنے والایہ کہتا ہے کہ اشھد بالله اربع شہادات بأنی صادق[ میں  چار مرتبہ الله کو گواہ بناتا ہوں  کہ میں  سچا ہوں ] تو یہ ایک ہی گواہی شمار ہوگی۔ الغرض اتنی بات تو موصوف کے یہاں  بھی مسلم ہے کہ مرۃ کی دو قسمیں  ہیں ۔ ایک مرۃ عینی جس میں  مرتین مرات کا تصور ایک فاعل سے ایک ہی وقت میں  ہوسکتا ہے اور دوسری قسم مرۃ فعلی جس میں  مرتین اور مرات کا تصور ایک فاعل سے ایک ہی وقت میں  ممکن نہیں ۔ چنانچہ اغاثۃ اللھفان میں  ابن قیم    رحمہ اللہ فرماتے ہیں :"فأجابهم الآخرون : بأن المرتين والمرات يراد بها الأفعال تارة والأعيان تارة وأكثر ما تستعمل في الأفعال وأما الأعيان فكقوله في الحديث : انشق القمر على عهد رسول الله  مرتين أي شقتين وفلقتين ولما خفي هذا على من لم يحط به علما زعم أن الانشقاق وقع مرة بعد مرة في زمانين وهذا مما يعلم أهل الحديث ومن له خبرة بأحوال الرسول ﷺ وسيرته أنه غلط وأنه لم يقع الانشقاق إلا مرة واحدة ولكن هذا وأمثاله فهموا من قوله مرتين المرة الزمانية۔  اذا عرف هذا فقوله نؤتها أجرها مرتين  [الأحزاب :۳۱ ] وقوله يؤتون أجرهم مرتين [ القصص :۵۴ ] أي ضعفين فيؤتون أجرهم مضاعفا وهذا يمكن اجتماع المرتين منه في زمان واحد۔ وأما المرتان من الفعل فمحال اجتماعهما في زمن واحد فإنهما مثلان واجتماع المثلين محال وهو نظير اجتماع حرفين في آن واحد من متكلم واحد وهذا مستحيل قطعا فيستحيل أن يكون مرتا الطلاق في إيقاع واحد ولهذا جعل مالك وجمهور العلماء من رمى الجمار بسبع حصيات جملة أنه غير مؤدي للواجب عليه وإنما يحتسب له رمي حصاة واحدة فهي رمية لا سبع رميات واتفقوا كلهم على أنه لو قال في اللعان : أشهد بالله أربع شهادات أني صادق كانت شهادة واحدة وفي الحديث الصحيح : من قال في يوم سبحان الله وبحمده مائة مرة حطت عنه خطاياه ولو كانت مثل زبد البحر فلو قال : سبحان الله وبحمده مائة مرة هذا اللفظ لم يستحق الثواب المذكور وكانت تسبيحة واحدة  وكذلك قوله تسبحون الله دبر كل صلاة ثلاثا وثلاثين وتحمدون ثلاثا وثلاثين وتكبرون أربعا وثلاثين لو قال : سبحان الله ثلاثا وثلاثين لم يكن مسبحاهذا العدد حتى يأتي به واحدة بعد واحدة  ونظائر ذلك في الكتاب والسنة اكثر من أن تذكر" (إغاثة اللهفان من مصائد الشيطان ۳۳۳/۱ ما شرع الله الطلاق الا وفیہ الرجعۃ دارالکتب العلمیۃ)" مرتین اور مرات سے کبھی فعل مراد ہوتاہے اور کبھی عین مراد ہوتا ہے لیکن اس کا اکثر استعمال افعال میں  ہوتا ہے۔ بہرحال عین کی مثال جیسے حدیث میں آتا ہے انشق القمر الخ یعنی آپ صلی الله علیہ وسلم کے زمانہ میں  چاند کے دو ٹکڑے ہوئے اور جب یہ بات مخفی ہوتی ہے اس شخص پر جس کو اس کا پورا علم نہیں  تو وہ یہ کہنے لگتا ہے کہ شق قمر ایک مرتبہ کے بعد دوسری مرتبہ یعنی دو مرتبہ الگ الگ زمانوں  میں  ہوا حالانکہ حدیث کا علم رکھنے والے اور آپ ﷺ کے احوال و سیرت سے تعلق رکھنے والے یہ جانتے ہیں  کہ یہ بات غلط ہے اور شق قمر صرف ایک مرتبہ ہی ہوا ہےلیکن یہ اور اس کی طرح [کم علم] لوگوں  نے یہاں  مرتین کو مرۃ زمانی یعنی فعلی سمجھ لیا۔۔۔۔ اور مرۃ کی یہ قسم یعنی مرۃ عینی وہ قسم ہے جس میں  مرتین کاایک زمانہ میں  اجتماع ممکن ہے۔ رہا مرۃ فعلی تو اس میں  مرتین کا زمانہ واحد میں  اجتماع محال ہے اس لئے کہ مرتین من الفعل مثلین ہیں  اور دو مثلی چیزوں  کا اجتماع محال ہے اور اس کی نظیر دو حرفوں  کا آنِ واحد میں  ایک ہی متکلم سے اجتماع ہے اور یہ بالکل محال ہے لہٰذا ایک ہی ایقاع میں  دو طلاقوں  کا وقوع محال ہوگا۔۔۔۔۔الخ۔‘‘
اس سے اتنی بات تو ثابت ہوگئی کہ موصوف کے نزدیک بھی یہ بات مسلم ہے کہ مرۃ کا استعمال دو طرح سے ہے۔ ایک مرۃ عینی ،جہاں مرۃ سے عین مراد لیا جائے، اس میں  مرتین اور مرات کا تصور آن واحد میں  ممکن ہے، دوسرا مرۃ زمانی یعنی جہاں  مرۃ سےفعل مراد لیا جائے ،وہاں  مرتین اور مرات کا آنِ واحد میں  اجتماع محال ہے۔آیت میں  ’’مرۃ عینی‘‘ مراد ہے نہ کہ ’’مرۃ فعلی‘‘اب بات یہ ہے کہ[ الطلاق مرتان] میں  مرتان’’ مرۃ‘‘ کی کونسی قسم ہے؟موصوف اس سے مراد مرۃ فعلی لیتے ہیں ۔ یعنی  یہاں  مرتان سے دو مرتبہ ایقاعِ طلاق مراد ہےاور یہ بات معلوم ہو چکی کہ مرۃ سے مراد جب فعل ہو تو وہاں  مرتین کا ایک ساتھ اجتماع زمانِ واحد میں  محال ہے، لہٰذا الطلاق مرتان میں  مرتان کا ثبوت اس وقت ہوگا جب دو وقفہ وقفہ سے طلاق دی جائیں ،گویا اکٹھی تین طلاقوں  کا ثبوت قرآن میں  کہیں  نہیں ۔اس کا جواب یہ ہے کہ الطلاق مرتان میں  مرۃ سے مرۃ فعلی تو شوہر کا فعلِ ایقاع ہے اور اس فعلِ ایقاع کا یہاں  ذکر نہیں ، لہٰذا یہاں مرۃ فعلی نہیں ، بلکہ مرۃ کی وہ قسم مرادہے جس سے عین مراد ہوتا ہے ۔یہ بات مسلمہ قاعدہ سے معلوم ہوچکی کہ جہاں  مرۃ سے عین مراد ہو وہاں  مرتین اور مرات کا تصور آن واحد میں  ممکن ہے، لہٰذا لا آويك ولا أدعك تحلين، قالت: وكيف؟ قال: أطلقك فإذا دنا مضى عدتك راجعتك. فشكت المرأة ذلك إلى عائشةرضی الله عنھا، فذكرت ذلك للنبي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فأنزل الله تعالى هذه الآية بيانا لعدد الطلاق الذي للمرء فيه أن يرتجع دون تجديد مهر وولى، ونسخ ما كانوا عليه. قال معناه عروة بن الزبير وقتادة وابن زيد وغيرهم"  آیت کےشانِ نزول سے معلوم ہوا کہ آیت کی منشاء صرف یہ بتانا ہے کہ کتنی طلاقوں  تک مرد کو رجوع کا اختیار ہے ۔آیت کا ہر گزیہ مقصود نہیں  کہ ایسی طلاق واقع ہی نہ ہوگی جس میں  رجوع نہ ہو سکے ۔
حدیث رکانہؓ کا جواب نیز روایت میں  اضطراب کا بیان     
 باقی رہا حدیث رکانہ سے استدلال تو اس کا جواب یہ ہے کہ طلاق رکانہ کے بارے میں  جو روایات مروی ہیں  ان میں  اضطراب پایا جاتاہے۔ چنانچہ مسند احمد کی روایت جس کو موصوف نے اپنے فتوی میں  ذکر کیا ہے، اس کے الفاظ یہ ہیں  :"عن عكرمة ، مولى ابن عباس ، عن ابن عباس رضی الله عنھما ، قال : طلق ركانة بن عبد يزيد أخو بني المطلب امرأته ثلاثا في مجلس واحد ، فحزن عليها حزنا شديدا ، قال : فسأله رسول الله صلى الله عليه وسلم : كيف طلقتها ؟ قال : طلقتها ثلاثا ، قال : فقال : في مجلس واحد ؟ قال : نعم قال : فإنما تلك واحدة فارجعها إن شئت قال : فرجعها فكان ابن عباس رضی الله عنھما: يرى أنما الطلاق عند كل طهر۔"(۴۳۸/۱حدیث رقم ۲۳۸۳مسند عبدالله بن عباس ، مکتبہ داراحیاء التراث ) یعنی حضرت عبدالله بن عباس نے فرمایا کہ رکانہ بن عبدیزید  جو مطلب خاندان کے تھے انہوں  نے اپنی بیوی کو ایک مجلس میں  تین طلاقیں  دیں ۔اس روایت میں  یہ صراحت ہے کہ حضرت رکانہ  نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں  دی تھیں ، جبکہ سنن ابی داود میں  انہیں  حضرت رکانہ  سے یہ مروی ہے کہ انہوں  نے لفظ البتہ سے طلاق دی تھی چنانچہ ابو داؤد کی روایت ملاحظہ ہو:  "عن عبد الله بن على بن يزيد بن ركانة عن أبيه عن جده أنه طلق امرأته البتة فأتى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فقال : ما أردت ؟قال واحدة. قال: آلله. قال آلله. قال: هو على ما أردت۔"                                     قال أبو داود وهذا أصح من حديث ابن جريج أن ركانة طلق امرأته ثلاثا لأنهم أهل بيته وهم أعلم به وحديث ابن جريج رواه عن بعض بنى أبى رافع عن عكرمة عن ابن عباس رضی الله عنھما۔"’’یزید بن رکانہ  سے مروی ہے کہ انہوں  نے اپنی بیوی کو لفظ البتہ کیساتھ طلاق دی پھر وہ آپﷺ کے پاس آئے آپﷺ نے فرمایا: تمہاری کیا نیت تھی؟ انہوں  نے عرض کیا: ایک طلاق کی نیت تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا الله کی قسم (ایک ہی کی نیت تھی )؟ انہوں  نے عرض کیا: کہ الله کی قسم (ایک ہی کی نیت تھی )۔ آپﷺ نے فرمایا: اتنی طلاق واقع ہوئی جتنی تمہاری نیت تھی ۔ابوداؤد   فرماتے ہیں کہ یہ حدیث ابن جریج کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے جس میں  ہے کہ رکانہ  نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں  دی تھیں  کیونکہ یہاں  راوی گھر والوں  میں  سے ہے اور وہ اس بارے میں  زیادہ جانتے ہیں (کیونکہ طلاق گھر کا معاملہ ہے)جبکہ ابن جریج کی حدیث بعض بنی ابی رافع ،عکرمہ عن ابن عباس سے منقول ہے (جو کہ رکانہ کے گھر والوں  میں  سے نہیں )۔‘‘
نوٹ : لفظ البتہ سے  طلاق بائن واقع ہوتی ہے لہٰذا اس کے بارے میں  فقہاء فرماتے ہیں  کہ اگر ایک کی نیت کرے تو ایک واقع ہوگی اور اگر تین کی نیت کرے تو تین واقع ہوتی ہیں  لہٰذا لفظ البتہ سے بذات خود تین مراد نہیں  ہوتیں ، بلکہ یہ مطلق لفظ ہے اور نیت پر محمول ہوتاہے لہٰذا دونوں  روایتوں  میں  اس طرح اضطراب پایا گیا کہ ایک میں  صراحتا تین طلاقوں  کا لفظ ہے اور اس روایت میں  البتہ کا لفظ ہے جس سے ایک بھی مراد ہو سکتی ہے ،جبکہ ایک کی نیت ہو اور روایت میں  آپﷺ کا اس بات پر قسم کھانے کا حکم ارشاد فرمانے سے بالکل مؤکد معلوم ہوتاہے کہ ان کی ایک کی نیت تھی لہٰذا اس روایت میں  لفظ البتہ سے ایک طلاق مراد ہوئی اوراضطراب ثابت ہوگیا۔ حدیث ِ رکانہؓ میں  صاحبِ قصہ کے اعتبار سے اضطراب کا بیان اسی طرح صاحب قصہ کے بارے میں  بھی روایات مضطرب ہیں  چنانچہ مسند احمد کی روایت جس کو موصوف نے ذکر کیا ہے، ابن اسحاق سے مروی ہے اس سے معلوم ہوتاہے کہ صاحب قصہ خود حضرت رکانہ تھے، چنانچہ الفاظ یہ ہیں:"عن ابن عباس رضی الله عنھما  قال:طلق ركانة بن عبد يزيد أخو بني المطلب امرأته ثلاثا في مجلس واحد۔ "یعنی ابن عباس  فرماتے ہیں  رکانہ بن عبد یزید نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں  دیں ۔  ابوداؤد کی روایت سے معلوم ہوتاہے کہ صاحب قصہ رکانہ نہیں  بلکہ رکانہ کے والد یزید تھے چنانچہ روایت کے الفاظ ہیں  :"حدثنا احمد بن صالح حدثنا عبد الرزاق …عن عکرمۃ … عن ابن عباس رضی الله عنھما قال طلق عبد یزید ابو رکانۃ واخوتہ …الخ "’’حضرت ابن عباس  فرماتے ہیں  کہ عبد یزید جو کہ رکانہ کے والد ہیں  انہوں  نے اپنے بیوی کو طلاق دی ۔ ‘‘لہٰذا یہ حدیث صاحب قصہ کے اعتبار سے بھی مضطرب ہوئی اور خود علامہ ابن قیم    کو اس بات کا اعتراف ہے ،چنانچہ زاد المعاد میں  فرماتے ہیں  : "وقد شهد إمام أهل الحديث محمد بن إسماعيل البخاري بأن فيه اضطرابا هكذا قال الترمذي في " الجامع " وذكر عنه في موضع آخر أنه مضطرب . فتارة يقول طلقها ثلاثا وتارة يقول واحدة وتارة يقول البتة . وقال الإمام أحمد وطرقه كلها ضعيفة وضعفه أيضا البخاري حكاه المنذري عنه۔ (زادالمعاد۴۶۵/۵)’’امام اہل الحدیث محمد بن اسماعیل البخاری یعنی امام بخاری اس بات کی گواہی دیتے ہیں  کہ اس حدیث میں  اضطراب پایا جاتاہے ۔یہی امام ترمذی   ’’جامع الترمذی‘‘ میں فرماتے ہیں  ۔اسی طرح دوسرے موقع پر بھی ان سے منقول ومذکور ہے کہ یہ حدیث مضطرب  ہے کیونکہ کسی روایت میں  راوی فرماتے ہیں  کہ ’’ طلقھا ثلاثا‘‘کہ انہوں  نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں  دیں  اور کسی روایت میں  راوی فرماتےہیں  ’’واحدۃ ‘‘ یعنی انہوں  نے اپنی بیوی کو ایک طلاق دی اور کسی روایت کے راوی فرماتے ہیں  ’’البتۃ ‘‘ کہ انہوں  نے اپنی بیوی کو طلاق ’’البتۃ‘‘ دی (جس سے ایک بھی مراد ہو سکتی ہے اور تین بھی ،جوبھی نیت ہو) اور امام احمد  فرماتے ہیں  کہ اس حدیث کے تمام طرق ضعیف ہیں  اور امام بخاری   نے بھی اسے ضعیف قرار دیا ہے جیسا کہ منذری ان سے اس کو نقل کرتے ہیں ۔‘‘حدیثِ رکانہ امام بخاری اور امام احمد وغیرھما  رحمھم اللہ کے نزدیک مضطرب ہےاس عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ امام بخاری  جن کا قول موصوف کے نزدیک حرف آخر ہوتا ہے وہ خود اس حدیث کے مضطرب ہونے کے قائل ہیں ۔ امام بخاری   کا اضطراب کا حکم لگانا صرف ترمذی کے طریق کو دیکھتے ہوئے نہیں  بلکہ تمام طرق کو دیکھتے ہوئے انہوں  نے یہ حکم لگایا ہے کیونکہ صرف طریق ترمذی میں  اضطراب نہیں  بلکہ تمام طرق کو دیکھتے ہوئے اس میں  اضطراب ہے۔ امام احمد   نے بھی تمام طرق کو ضعیف قرار دیا ہے لہٰذا جس طرح امام بخاری  اور امام احمد   کے نزدیک نافع اور علی بن یزید کا طریق ضعیف ہے۔ اسی طرح ابن اسحاق  اور ابن جریج   کا طریق بھی ضعیف ہوگا ۔
 خلاصہ یہ ہوا کہ حدیثِ رکانہ مضطرب ہے اور مضطرب حدیث سے اتنے اہم مسئلہ میں  اجماع صحابہ کے خلاف استدلال ٹھیک نہیں  لہٰذا موصوف کا اس حدیث سے تین طلاقوں  کو ثابت کرنا درست نہ ہوگا ۔
حضرت ابن عباس کی بیان کردہ روایت اور ان کے فتوی میں  تعارض کا بیان
        اسی طرح یہ حدیث اس وجہ سے بھی قابل استدلا ل نہیں  کہ اس حدیث کے راوی حضرت عبدالله بن عباس خود اپنی روایت کے خلاف ایک مجلس یا ایک کلمہ کی تین طلاقوں  میں  تین کے وقوع کا فتوی دیا کرتے تھے۔ جیسا کہ ابوداؤد کی روایت ہے :"عن مجاهد قال كنت عند ابن عباس رضی الله عنھما فجاء رجل فقال إنه طلق امرأته ثلاثا. قال فسكت حتى ظننت أنه رادها إليه ثم قال: ينطلق أحدكم فيركب الحموقة ثم يقول يا ابن عباس يا ابن عباس وإن الله قال (ومن يتق الله يجعل له مخرجا) وإنك لم تتق الله فلم أجد لک مخرجا عصيت ربك وبانت منك امرأتك ۔"’’ حضرت مجاہد   فرماتے ہیں  کہ میں  حضرت ابن عباس  کے پاس تھا ان کے پاس ایک آدمی آکر کہنے لگا کہ اس نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں  دیں  ہیں ۔ حضرت ابن عباس  نے فرمایا کہ تم میں  سے ایک آدمی حماقت پر سوار ہو کر چل پڑتاہے (بے وقوفی سے اپنی بیوی کو تین طلاقیں  دے دیتا ہے )پھر آکر کہتاہے اے ابن عباس !اے ابن عباس! حالانکہ الله تعالیٰ نے فرمادیاہے کہ جو الله تعالیٰ سے ڈرے گا، الله تعالیٰ اس کے لئے نکلنے کی راہ پیدافرمائیں گے اور تو چونکہ (طلاق کے معاملہ میں  )الله تعالیٰ سے نہیں  ڈرا اس لئے میں  تیرے لئے نکلنے کی کوئی راہ نہیں  پاتا تو اپنے رب کا نافرمان ٹھہرا اور تیری بیوی بھی تجھ سے جدا ہوگئی ۔ ‘‘نوٹ : فتح الباری میں  اس حدیث کو صحیح قرار دیا گیاہے چنانچہ مذکور ہے : " وأخرج أبو داود بسند صحيح من طريق مجاهد قال كنت عند ابن عباس رضی الله عنھما فجاءه رجل فقال إنه طلق امرأته ثلاثا فسكت ۔۔۔  وأخرج أبو داود له متابعات عن ابن عباس بنحوه"(فتح الباری ۲۹۷/۹، داراحیاء التراث )اور امام ابوداؤد   نے مجاہد کے طریق سے صحیح سند کے ساتھ تخریج کی ہے ۔ اسی طرح زادالمعاد میں  بحوالہ ابوداؤد روایت ہے :" وذكر أبو داود في " سننه " عن محمد بن إياس أن ابن عباس وأبا هريرة وعبد الله بن عمرو بن العاص رضی الله عنھم سئلوا عن البكر يطلقها زوجها ثلاثا فكلهم قال لا تحل له حتى تنكح زوجا غيره قالوا : فهؤلاء أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم كما تسمعون قد أوقعوا الثلاث جملة ولو لم يكن فيهم إلا عمر المحدث الملهم وحده لكفى فإنه لا يظن به تغيير ما شرعه النبي صلى الله عليه وسلم من الطلاق الرجعي فيجعله محرما وذلك يتضمن تحريم فرج المرأة على من لم تحرم عليه وإباحته لمن لا تحل له ولو فعل ذلك عمر لما أقره عليه الصحابة فضلا عن أن يوافقوه۔۔۔ قالوا : ونحن في هذه المسألة تبع لأصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم فهم أعلم بسنته وشرعه۔"(زادالمعاد ۲۵۸/۵)امام ابوداؤد   نے اپنی سنن میں  محمد بن ایاس سے روایت کرتے ہوئے ذکر کیا ہے کہ حضرت ابن عبا س اور حضرت ابوھریرۃ  اور حضرت عبدالله بن عمرو بن العاص سے جب باکرہ (یعنی غیر مدخول بہا) جس کو اس کے شوہر نے اکٹھی تین طلاقیں  دے دی ہوں  ایسی عورت کے بارے میں  پوچھا جاتا تو وہ سب فرماتے کہ یہ عورت اب اس شخص کے لئے حلال نہیں  ہو سکتی،جب تک کہ کسی اورمرد سے نکاح نہ کر لے ۔
ان روایات سے معلوم ہوتاہے کہ حضرت عبدالله بن عباس کا فتوی خود اپنی روایت کے خلاف تھا اور جب راوی کا فتوی اپنی روایت کے خلاف ہو تواسکی روایت قابل استدلال نہیں  ہوتی۔
راوی کی روایت اور فتوی میں  تعارض کے وقت ابن قیم  کی رائے پر استدراک
        جہاں  تک تعلق ہے ابن قیم   کی اس بات کا کہ زیادہ مشہور یہ ہے کہ راوی کی روایت ہی کو لیا جائے نہ کہ اس کے قول ، رائے اورفتوی کوکیونکہ روایت معصوم ہے اور راوی معصوم نہیں تو یہ بات محل نظر ہے ،ابن قیمؒ اغاثۃ اللھفان میں  تحریر فرماتے ہیں  :"وهذا المسلك إنما يجيء على إحدى الروايتين : أن الصحابي إذا عمل بخلاف الحديث لم يحتج به واتبع عمل الصحابي والمشهور عنه : أن العبرة بما رواه الصحابي لا بقوله إذا خالف الحديث۔"(اغاثۃ اللھفان من مصائد الشیطان ۳۲۵/۱، دار الکتب العلمیہ)ترجمہ : یہ مسلک کہ جب صحابی اپنی روایت کی ہوئی حدیث کے خلاف عمل کرے تو اس کی وہ روایت قابل استدلال نہ ہوگی اور صحابی کے عمل کی اتباع کی جائیگی یہ دوروایتوں  میں  سے ایک روایت کے مطابق ہے اور مشہور روایت یہ ہے کہ اعتبار صحابی کی روایت کا ہی ہوگا نہ کہ اس کے قول کا جب اس کا قول حدیث کے خلاف ہے۔
علامہ ابن قیم   کی اس بات کا جواب یہ ہے کہ راوی کی روایت کو عمل کے مقابلے میں  ترجیح دینا اس وقت بہتر ہے جبکہ روایت ثبوتاً ودلالۃً من کل الوجوہ ثابت ہو یعنی اس میں  کسی قسم کا کلام نہ ہو ۔ جیسا کہ الانقاذ من الشبہات فی انفاذ المکروہ من الطلقات[المطبوع مع اعلاء السنن] میں  مذکور ہے : "وما یقال : ان العبرۃ بروایۃ الراوی لا برأیہ  فھذا بعد ثبوت الروایۃ ودلالتہ علی خلاف رأیہ وما نحن فیہ لیس کذلک لأن فیھا کلاما ثبوتا ودلالۃ کما عرفت۔"(۱۶۶/۱۱، ادارۃ القران والعلوم الاسلامیۃ )’’ یہ جو کہا جاتاہے کہ اعتبار راوی کی روایت کا ہوگا نہ کہ اس کی رائے کا تو یہ اس روایت اور اس کی اس رائے کے خلاف دلالت کے بالکل ثابت ہونے کے بعد ہے اورہماری زیر بحث حدیث اس طرح کی نہیں  کیونکہ اس میں  ثبوتاً ودلالۃ ًدونوں  طرح سے کلام ہے ۔ ‘‘پس معلوم ہوا کہ زیر بحث روایت میں  ثبوتاً وددلالۃً دونوں  طرح کلام ہے لہٰذا یہاں  راوی کی روایت کو اس کے قول وعمل پر ترجیح دینا مناسب نہ ہوگا ،بلکہ راوی کے فتوی اور عمل کو ترجیح دی جائیگی ۔
        الغرض یہ روایت سنداً ومتناً اضطراب کی وجہ سے بھی قابل استدلال نہیں ۔ اسی طرح خود راوی کی رائے اور فتوی کے اس کی اپنی روایت کے مخالف ہونے کی وجہ سے بھی یہ روایت قابل استدلال نہیںلہٰذا اس حدیث سے ایک مجلس کی تین طلاقوں  کو ایک شمار کرنے کا استدلال کسی طرح ٹھیک نہ ہوگا ۔
 تین طلاقیں  حضرت عمر  کا تعزیری فیصلہ تھا یا عہد رسالت کا حکم ؟     
          غیر مقلدین حضرات اپنے مدعا کوثابت کرنے کے لئے ایک اور روایت بھی پیش کرتے ہیں جو کہ ان کےمذکورہ بالافتوی میں  بھی ذکر کی گئی ہے۔ وہ حضرت ابن عباس  کی وہ روایت ہے جس میں  وہ فرماتے ہیں  کہ عہد رسالت میں  اور حضرت ابو بکر صدیق  کے دور خلافت میں  اورحضرت عمر کی خلافت کے ابتدائی دو سال تک تین طلاقیں  ایک ہی شمار کی جاتی تھیں ، پھر حضرت عمر نے فرمایا کہ لوگ اس معاملے میں جلد بازی سے کام لینے لگے ہیں  ،جس میں  ان کے لئے سوچ وبچار کاموقع تھاپس اگر ہم ان پر ان تینوں  کو نافذ کردیں  (تو اچھا ہوگا) لہٰذا حضرت عمر نے ان پر تینوں  طلاقیں  نافذ کردیں  ۔چنانچہ غیرمقلدین کہتے ہیں  کہ تین کو تین قرار دینا حضرت عمر  نے بطور تعزیر کیا تھا۔ اصل حکم کے اعتبار سے ایک مجلس کی تین طلاقیں  ایک ہی تھیں ۔
حضرت ابن عباس کی حدیث کا تفصیلی اور مدلل جواب       
          ان کی اس بات کاسب سے بہتر اور بے غبار جواب یہ ہے کہ ان حضرات کی پیش کردہ روایت کا اولا تو وہ مطلب ہی
نہیں  جو یہ حضرات مراد لیتے ہیں  کہ ابتداء میں  تین طلاقیں  ایک شمار کی جاتی تھیں  بلکہ اس حدیث کا تعلق ایک خاص صورت سے ہے، وہ یہ کہ اگر کوئی شخص تین الفاظ سے تین طلاقیں  دےکر یہ کہے کہ میری نیت دوسرے اور تیسرے لفظ سے محض تاکید کی تھی تجدیدطلاق کی نہ تھی تو ابتداءمیں  غلبہ صدق اور سلامت صدور کی بناء پر اس کا قول تسلیم کر لیا جاتا تھا اور ایک ہی طلاق کا حکم لگایا جاتاتھا ۔  حضرت عمر  کے زمانے میں  اس طرح [طلاق ثلاث ]کے واقعات بکثرت پیش آنے لگے اور صدق ودیانت میں  کمی ہو کر لوگوں  میں  جھوٹ دھوکہ اورفریب کا رواج ہونے لگا ۔اب کسی کی دیانت پر بھروسہ کرکے اس کے ’’دعوی تاکید‘‘ کی تصدیق مشکل ہوگئی تو حضرت عمر  نے ظاہر تکرار کو دیکھ کر اس کے مطابق تینوں  طلاقوں  کو نافذ فرمایا اور نیت تاکید کے دعوی کو قبول نہ فرمانے کا حکم صادر فرمایا، یہی حدیث بالا کاوہ مطلب ہے جسے امام قرطبی   جیسے مفسر اعظم نے بھی پسند فرمایا ہے،فتح الباری میں  ہے: "الجواب الخامس دعوى أنه ورد في صورة خاصة فقال ابن سريج وغيره يشبه أن يكون ورد في تكرير اللفظ كأن يقول أنت طالق أنت طالق أنت طالق وكانوا أولا على سلامة صدورهم يقبل منهم إنهم أرادوا التأكيد فلما كثر الناس في زمن عمر وكثر فيهم الخداع ونحوه مما يمنع قبول من ادعى التأكيد حمل عمر اللفظ على ظاهر التكرار فأمضاه عليهم وهذا الجواب ارتضاه القرطبي وقواه بقول عمران الناس استعجلوا في أمر كانت لهم فيه اناة وكذا قال النووي ان هذا أصح الأجوبة" (فتح الباری ، ۲۹۸/۹)’’حدیث ابن عباس کا پانچواں  جواب یہ ھیکہ یہ حدیث ایک خاص صورت سے تعلق رکھتی ہے،چنانچہ ابن سریج   وغیرہ فرماتے ہیں  : ممکن ہے کہ اس حدیث کا تعلق تکرار الفاظ والی صورت سے ہو ،مثلاً کوئی اس طرح طلاق کے الفاظ مکر ر کہے أنت طالق أنت طالق أنت طالق (اور پھر تکرار سے تاکید مراد لے ) تو ابتداءِ اسلام میں  چونکہ لوگوں  کے دل (جھوٹ ، دھوکہ وغیرہ سے ) صاف وسلامت ہو ا کرتے تھے، اس لئے ان سے ارادہ تاکید کا قول تسلیم کر لیا جاتا لیکن پھر عہد عمر میں  جب مسلمانوں  کی کثرت ہو گئی اور ان میں  دھوکہ، فریب اور جھوٹ جیسی چیزیں  بڑھ گئیں ، جو تاکید کا دعوی قبول کرنے سے مانع تھیں تو حضرت عمر نے لفظ کو ظاہر تکرار پر ہی محمول کر لیا اور ظاہرِ تکرار ہی کو ان پر نافذ کر دیا ۔اس جواب کو اماقرطبی   نے پسند فرمایا ہےاور اسے حضرت عمر  کے قول [لوگوں  نے ایسے معاملے میں  جلدی کی جس میں  ان کیلئے مہلت تھی] سے اس کی تائید کی ہے ۔اسی طرح امام نووی  فرماتے ہیں  کہ یہ(حدیثِ ابن عباس کا) صحیح ترین جواب ہے‘‘
        معلوم ہوا کہ اصل تو یہی تھا کہ تین لفظوں  سے دی جانے والی تین طلاقیں  تین ہی شمار ہوں ، لیکن ابتداءِ زمانہ میں  کوئی  دوسرے اورتیسرے لفظ سے محض تاکید کا دعوی کرتا، اگرچہ خلاف اصل ہوتا، لیکن غلبہ صدق کی بناء پر اس کی بات تسلیم کر لی جاتی۔ یہ مطلب نہیں  کہ مطلقاً تین کو ایک ہی شمار کیا جاتاہو۔ اگر ایسی ہی بات ہوتی تو حدیث رکانہ جس کے بعض طریق میں  مروی ہے کہ انہوں  نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں  دیں  پھر آپ ﷺ سے عرض کیا "والله ماأردت الا واحدۃ" یعنی میری نیت ایک ہی کی تھی تو آپ ﷺ نے قسم دے کر پوچھا "والله ماأردت الا واحدۃ ؟" کیا الله کی قسم تیری ایک ہی کی نیت تھی ؟ انہوں  نے عرض کیا "والله ماأردت الا واحدۃ"الله کی قسم میری ایک ہی کی نیت تھی۔ پھر آپﷺ نے حلفیہ طور پر پوچھا  "والله ماأردت الا واحدۃ ؟"تو اگر عہد رسالت میں  تین طلاقیں  مطلقاً ایک ہوتیں  جیسا کہ غیر مقلدین کہتے ہیں  تو پھر قسمیں  دے کر پوچھنے کا کیا مطلب  ؟؟ ابتداءً ہی کہہ دیتے کہ ایک طلاق ہوئی، لیکن چونکہ اصل میں  تین طلاقیں  تین ہی ہوتی تھیں  ،لیکن اس وقت اگر کوئی تاکید کا اور صرف ایک طلاق کی نیت کا دعوی کرتا تو قضاءً غلبہ صدق کی بناء پر اس کا دعوی مقبول ہوتاتھا، جیسا کہ پہلے معلوم ہو چکا، اسی وجہ سے ان صحابی کے اس دعوی کو قبول کرکے آپ ﷺ نے ایک طلا ق شمار فرمائی ۔"ولو سلم أن الأمر علی عکس ما قلنا وأن رکانۃ  کان طلق امرأتہ ثلاثا فرواہ بعضھم بلفظ البتۃ فلم یجعلہ رسول الله ﷺ طلاقا واحدا إلا بعد أن حلفہ بأنہ لم ینوبذلک إلا تطلیقۃ واحدۃ لما أخرجہ أبو داؤد…فأخبر بذلک النبی ﷺ وقال والله ماأردت الا واحدۃ فقال رسول الله ﷺ والله ماأردت الا واحدۃ ؟ فقال رکانۃ والله ماأردت الا واحدۃ فردھا الیہ رسول الله ﷺ فانظر کیف حلفہ رسول الله ﷺ مرتین علی أنہ لم ینو الا واحدۃ وقدمنا أن دعوی نیۃ التأکید کانت مسموعۃ فی القضاء علی عھدالنبی ﷺلخلوالزمان عن الکذب والخدیعۃ ولو کانت الطلاق الثلات تعد واحدۃ علی الاطلاق کما یزعمہ ابن تیمیۃ ومن وافقھم لم یکن رسول اللهﷺ لیحلفہ علی إرادۃ الواحدۃ لأنہ لا حاجۃ الی النیۃ حینئذ ولا فائدۃ فی التحلیف فإن ابن تیمیۃ ومن وافقہ لا یشترطون النیۃ فی ذلک وإنما یجعلون الثلاث واحدۃ ولو نواھا المطلق ثلاثافغایۃ مایدل علیہ حدیث رکانۃ أن النبی ﷺ صدقہ قضاء فی نیۃ التاکید و ھومسلم عندناولیس فیہ مایدل علی أن الثلاث واحدۃولونطقھاالرجل بنیۃ التأسیس۔"(تکملۃ فتح الملھم ۱۷۰/۱) ’’اگر تسلیم کر لیا جائے کہ معاملہ اس کے برعکس ہے جو ہم نے کہا اور حقیقت میں  حضرت رکانہ نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں  دی تھیں  اور پھر بعض راویوں  نے اسے لفظ البتہ سے ذکر کر دیا (یعنی اگر بالفرض ہم مذکورہ بات تسلیم بھی کر لیں  ) تو بھی آپﷺ نے وہاں  تین طلاقوں  کو ابتداءً ہی ایک طلاق قرارنہیں  دیا بلکہ پہلے اس بات پر قسم کھلوائی کہ انہوں  نے اس سے ایک ہی طلاق کی نیت کی تھی اس کے بعد ایک طلاق قرار دیا جیسا کہ ابوداؤد وغیرہ میں  اس کو ذکر کیاگیاہے کہ آپ ﷺ کو اس کی خبردی گئی اور حضرت رکانہ  نے عرض کیا کہ الله کی قسم میرا ایک ہی طلاق کا ارادہ تھا تو آپ ﷺ نے (قسم دے کر پوچھا ) الله کی قسم ایک ہی کا ارادہ تھا۔پس یہاں  دیکھنے کی بات یہ ہے کہ کیسے آپ ﷺنے ان سے دومرتبہ اس بات پر قسم لی کہ ان کی نیت ایک طلاق کی تھی ؟؟ یہ بات ہم پہلے بیان کر چکےہیں  کہ آپ ﷺ کے زمانے میں  تاکید کی نیت کا دعوی قضاءً مقبول ہوتا تھا، اس لئے کہ وہ زمانہ جھوٹ اور دھوکہ سے خالی تھا اور اگرعہد رسالت میں  تین طلاقیں  علی الاطلاق ایک شمار ہوتی تھیں  جیسا کہ ابن تیمیہ   اور ان کے متبعین کا گمان ہےتو آپﷺ ایک طلاق کی نیت پر قسمیں  نہ دیتے اس لئے کہ اس وقت نیت کی کوئی ضرورت نہ ہوتی اور پھر اس پر قسم کھلانے کا کوئی فائد ہ نہ ہوتا جبکہ ابن تیمیہ   اور ان کے متبعین اس میں  نیت کی کوئی شرط نہیں  لگاتے اور وہ تین کو (مطلقا) ایک قرار دیتے ہیں  اگر چہ طلاق دینے والے نے تین کی بھی نیت کی ہو۔لہٰذاحدیث رکانہ زیادہ سے زیادہ اس بات پر دال ہو گی کہ آپ ﷺ نے قضاءً ان کی تاکید کی نیت کی تصدیق کر لی تھی اور یہ بات تو ہمارے نزدیک بھی مسلم ہے (کہ اس وقت قضاء دعوی تاکید تسلیم کر لیا جاتا تھا ) لیکن اس حدیث میں  اس بات پر کوئی دلالت نہیں  کہ تین طلاقیں  مطلقا ایک شمار ہوتی تھیں  اگرچہ اس کو تاسیس واستیناف کی نیت سے بولا ہو ۔ ‘‘
 مذکورہ بالا بیان سے اتنی بات تو واضح ہوگئی کہ تین الفاظ سے تین طلاقیں  دی جائیں  تو اصل یہی ہے کہ تین واقع ہوں  لیکن ابتداء میں ایک علت عارضہ کی بناء پر دعوی تاکید قبول کرلیا جاتا تھا ، حضرت عمر کے زمانے میں  جب علت یعنی غلبہ صدق ختم ہوگئی تو اب حکم اصل کی طرف لوٹ آیا، لہٰذا معلوم ہوا کہ حضرت عمر  نے تین کو تین نہیں  بنایا ،بلکہ وہ اصل میں  ہی تین تھیں ، علت عارضہ کے ختم ہونے اور تغیر زمانہ کی بنیاد پر انہوں  نےصرف حکم کو اپنی اصل کی طرف پھیر ا ہے کہ اب قضاء تاکید کی نیت مقبول نہ ہوگی، پس ائمہ کا اب بھی یہی فیصلہ ہے کہ اگرکوئی اس زمانے میں  تین لفظوں  سے تین طلاقیں  دے کر کہے کہ میری مراد تاکید تھی تو دیانۃً تو اس کی بات تسلیم کی جائیگی لیکن قضاءً اصل کے مطابق اس پر تین طلاقیں ہی نافذ کی جائیں  گی۔ لما فی الدر المختار:فروع كرر لفظ الطلاق وقع الكل وإن نوى التأكيد دين وفی الرد تحتہ: قوله ( كرر لفظ الطلاق ) بأن قال للمدخولة أنت طالق أنت طالق أو قد طلقتك قد طلقتك۔۔۔  قوله ( وإن نوى التأكيد دين ) أي ووقع الكل قضاء وكذا إذا طلق أشباه أي بأن لم ينو استئنافا ولا تأكيدا لأن الأصل عدم التأكيد ۔(الشامیۃ ۲۹۳/۳)
حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہ کا دوسرا جواب
مذکورہ حدیث کا ایک جواب یہ بھی دیاگیا ہے کہ اس کامطلب یہ ہےکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکرضی اللہ عنہ کے ادوار ،اورحضرت عمرضی اللہ عنہ کے ابتدائی دور میں لوگوں میں حلم  بہت تھا جس کی وجہ سے وہ  تین کے بجائے ایک طلاق دینے پر اکتفاکرتے  تھے ،مگریہ رواج اب تبدیل ہوگیا ہے اوراب لوگ حلم کی کمی کی وجہ سےجہاں ایک دینی چائیےوہاں تین طلاقیں  دیتے ہیں ۔  حدیث کا یہ مطلب امام ابوزرعہ رحمہ اللہ علیہ نے ذیل کے کلام میں بیان فرمایاہے،وہ فرماتےہیں :
معنى قوله كأن الثلاث واحدة أن الناس في زمن النبي صلى الله عليه وسلم كانوا يطلقون واحدة فلما كان زمن عمر كانوا يطلقون ثلاثا ومحصله أن المعنى أن الطلاق الموقع في عهد عمر ثلاثا كان يوقع قبل ذلك واحدة لأنهم كانوا لا يستعملون الثلاث أصلا أو كانوا يستعملونها نادرا وأما في عصر عمر فكثر استعمالهم لها ومعنى قوله فأمضاه عليهم وأجازه وغير ذلك أنه صنع فيه من الحكم بإيقاع الطلاق ما كان يصنع قبله ورجح هذا التأويل بن العربي ونسبه إلى أبي زرعة الرازي وكذا أورده البيهقي بإسناده الصحيح إلى أبي زرعة أنه قال معنى هذا الحديث عندي أن ما تطلقون أنتم ثلاثا كانوا يطلقون واحدة قال النووي وعلى هذا فيكون الخبر وقع عن اختلاف عادة الناس خاصة لا عن تغير الحكم في الواحدة فالله أعلم
یہ تو تھا حدیث بالا کا جواب انکاری اور جواب تسلیمی یہ ہے کہ اگر بالفرض تسلیم کر لیا جائے کہ حدیث بالا کا وہی مطلب ہے جو یہ حضرات پیش کرتے ہیں  (یعنی عہد رسالت میں  تین طلاقیں  ایک شمار ہوتی تھیں  ) تو بھی یہ روایت قابل استدلال نہیں  کیونکہ خود اس حدیث کے راوی حضرت ابن عباس  کا فتوی اس کے خلاف یعنی تین طلاقوں  کے وقوع کا تھا پس اگر عہد رسالت اور عہد صدیقی میں  تین طلاقیں  ایک شمار کی جاتی تھیں  اور حضرت ابن عباس  اس کو روایت بھی کرتے ہیں  تو خود تین کو ایک قرار کیوں  نہ دیتے تھے اور تین کے وقوع کا فتوی کیوں  دیتے تھے ؟ لہٰذا جب خود راوی اپنی روایت کے خلاف فتوی دے تو یہ روایت کہا ں قابل استدلال ہو سکتی ہے !!!یہی وجہ ہے کہ جب امام احمد   سے پوچھا گیا کہ آپ حدیث ابن عباس  کو کس وجہ سے رد کرتے ہیں ؟ تو انہوں  نے یہی وجہ بیان فرمائی کہ ان کے اپنی روایت کے خلاف فتوی دینے کی وجہ سے ۔"وقد قال أحمد لما سئل عنہ بأنک بما ترد ھذا الحدیث؟ فقال : بروایۃ الناس عن ابن عباس  رضی الله عنھما  خلافہ وھل ھذا إلا تضعیف لھذہ الروایۃ وقدح فیہ"(اعلاء السنن ۱۲۷/۱۱)’’ امام احمد   سے جب پوچھا گیا کہ آپ کس وجہ سے اس حدیث کو رد کرتے ہیں  تو فرمایا کہ لوگوں  کے ابن عباس سے اس کے خلاف روایت کرنے کی وجہ سے اور یہی بات اس حدیث کے ضعف اور قدح کا ذریعہ ہے ۔ ‘‘
        خلاصہ یہ کہ حدیث ابن عباس  کو دلیل بنا کر ایک مجلس کی تین طلاقوں  کے تین ہونے کے حکم کو حضرت عمر  کا تعزیری آرڈیننس قرار دینا بالکل غلط اور تحکمِ محض یعنی دعوی بلا دلیل ہے ۔
مذکورہ حدیث سے اس لحاظ سے بھی استدلال ٹھیک نہیں کہ اس پر غیرمقلد علماء نے بھی درج ذیل اعتراضات اٹھائے ہیں ۔
١۔ اس حدیث میں مجلسِ واحد کا ذکرنہیں (فتاوی ثنائیة۲/۲١٦)
۲۔محدثین نے اس میں کلام کیاہے ۔(ایضا)
۳۔اس میں یہ تفصیل نہیں کہ ان مقدمات کا فیصلہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم اورحضراتِ شیخین رضی اللہ عنھما کے سامنے ہوتاتھا۔(ایضا)
۴۔یہ حدیث مسلم شریف کی متعہ والی حدیث کی طرح ہے کہ جس میں آیاہے کہ ہم حضوصلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں متعہ کرتے تھے، ابوبکررضی اللہ عنہ کے زمانے میں متعہ کرتے تھے، عمررضی اللہ عنہ نے ہمیں روک دیا(ایضا)
۵۔ابن عباس رضی اللہ عنہ کی اس روایت پر محدثین نے اورکئی وجہ سے کلام کیاہے ۔(ایضا)
٦۔اصل بات یہ ہے کہ صحابہ ،تابعین وتبع تابعین سے لیکر سات سو سال تک کے سلف صالحین صحابہ وتابعین اورمحدثین سے تین طلاق کاایک مجلس میں واحد شمار ہونا ثابت نہیں ۔(ایضا)
۷۔محدٕٕثین نے مسلم کی حدیث مذکورکو شاذبتایا ہے ۔(ایضا)
۸۔ اس حدیث میں اضطراب ہے ۔(ایضا)
۹۔ مذکورحدیث مرفوع نہیں ۔(ایضا)
١۰۔یہ حدیث کتاب ،سنت ِصحیحہ ،اجماع صحابہ وغیرہ اور ائمہ محدثین کے خلاف ہے لہذ احجت نہیں۔(ایضا)
حضرت عمر کے رجوع کا جواب           
         غیر مقلدین حضرات کا عوام کو یہ تاثر دینا کہ حضرت عمر آخر زمانہ میں  اپنے تین طلاقوں  کے فیصلہ پر نادم ہو گئے تھے اوراپنے فیصلہ سے رجوع کر لیا تھا، پس جب وہ تعزیری فیصلہ بھی ختم تو اب تو بہر حال تین طلاقیں  ایک ہی شمار ہونی چاہئیں  اور اس رجوع کو ثابت کرنے کے لئے اغاثۃ اللھفان کے حوالہ سے یہ مندرجہ ذیل روایت پیش کرتے ہیں  :" قال الحافظ أبو بكر الاسماعيلي في مسند عمر : أخبرنا أبو يعلى : حدثنا صالح بن مالك : حدثنا خالد بن يزيد بن أبي مالك عن أبيه قال : قال عمر بن الخطاب رضي الله عنه : ما ندمت على شيء ندامتي على ثلاث : أن لا أكون حرمت الطلاق وعلى أن لا أكون أنكحت الموالي وعلى أن لا أكون قتلت النوائح۔"(اغاثۃ اللھفان۳۷۱/۱،ندم عمر آخر حیاتہ ان یکون رد امر الطلاق )’’ خالد بن یزید ابن ابی مالک اپنے والد سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں  کہ حضرت عمر نے فرمایا مجھے کسی چیز پر اتنی ندامت نہیں جتنی تین چیزوں  پر ہے۔ ایک یہ کہ کاش میں  طلاق کو حرام نہ کرتا ۔۔۔الخ‘‘
ان کے اس دعوے اور پیش کردہ روایت کا جواب یہ ہے کہ اولا تو یہ رجوع ثابت ہی نہیں  اس لئے کہ جو روایت رجوع کے بارے میں  یہ حضرات پیش کرتے ہیں  وہ بالکل منکر اور ضعیف روایت ہے۔ اس روایت کے راویوں  میں  ایک راوی خالد بن یزید بن ابی مالک انتہائی ضعیف ، غیر ثقہ اور کذاب راوی ہے، چنانچہ ناقدین روات نے اس راوی پر مختلف انداز سے جرح کی ہے جو ذیل میں  نقل کی جاتی ہے ۔امام احمد بن حنبل    نے اسے ضعیف قرار دیا ہے چنانچہ ’’الکامل فی ضعفاء الرجال ‘‘ میں  ہے :"حدثناأحمدبن یحییٰ قال سمعت أحمدبن حنبل یقول:خالدبن یزید بن أبی مالک لیس بشیء"(۴۲۳/۳، خالد بن یزید ، دارالکتب العلمیہ )’’امام احمد بن حنبل    فرماتے ہیں  خالد بن یزید کوئی قابل اعتبار شخصیت نہیں  ہے ‘‘اور امام نسائی    کے نزدیک بھی یہ غیر ثقہ ہے :"وقال النسائی فیما أخبرنی محمد بن العباس أنہ قال: خالد بن یزید بن أبی مالک لیس بثقۃ"(أیضا )’’امام نسائی   فرماتے ہیں  :خالد بن یزید بن ابی مالک ثقہ نہیں  ہے ‘‘اور اسی الکامل میں  صاحب کتاب خود فرماتے ہیں  :"ولم أر من أحادیث خالد ھذا إلا کل ما یتحمل فی الروایۃ یرویہ ضعیفا عنہ فیکون البلاء من الضعیف لا منہ۔"(۴۲۷/۳، دار الکتب العلمیہ )’’ میں  اس خالد کی احادیث کو نہیں  دیکھتا مگر ہر وہ حدیث جس کی روایت میں  احتمال ہو یا کوئی ضعیف راوی اسے اس سے روایت کرتا ہے ،پس اصل مسئلہ ان ضعیف راویوں  کا ہے نہ کے اس کا‘‘کتاب الجرح والتعدیل میں  مذکور ہے کہ خالد بن یزید منکر حدیثیں  ہی نقل کرتاہے چنانچہ مذکور ہے :"حدثناعبدالرحمن قال سئل أبی عن خالدبن یزیدبن أبی مالک فقال:یروی أحادیث  مناکیر"(۳۵۹/۳، خالد ، دارالفکر)’’حضرت عبدالرحمن فرماتے ہیں  میرے والد سے خالد بن یزید بن ابی مالک کے بارے میں  پوچھا گیا تو میرے والد نے فرمایا وہ منکر حدیثیں  ہی نقل کرتاہے ۔ ‘‘اسی طرح امام الجرح والتعدیل یحییٰ بن معین  خالد بن یزید کی طرف کذب کی نسبت کرتے ہیں ، چنانچہ فرماتے ہیں :"لم یرض أن یکذب علی أبیہ حتی کذب علی أصحاب رسول الله ﷺ " (تہذیب التہذیب۷۷/۲، راوی رقم ۱۹۸۳، ق خالد ، داراحیاء التراث )’’خالد ابن یزید نے اپنے والد پر جھوٹ بولنے پر بس نہیں  کی بلکہ آپ ﷺکے صحابہ تک پر جھوٹ بولا ہے ۔ ‘‘اور ابن حبان تو خالد بن یزید راوی کی اس روایت سے استدلال کو پسند ہی نہیں  کرتے جس حدیث کو اپنے والد سے روایت کرنےمیں  وہ منفرد ہو،چنانچہ تہذیب التہذیب میں  مذکورہے : "وقال ابن حبان : وھو من فقھاء الشام کان صدوقا فی الروایۃ ولکنہ کان یخطی کثیرۃ وفی حدیثہ مناکیر لا یعجبنی الاحتجاج بہ إذاانفرد عن أبیہ۔ "(۷۷/۲، راوی رقم ۱۹۸۳،ق خالد ، داراحیاء التراث )’’ ابن حبان    فرماتے ہیں :وہ فقہاء شام میں  سے ہیں  اور روایت کرنے میں  سچے ہیں  لیکن اکثر غلطی کرجاتے ہیں  اور ان کی احادیث میں  منکر حدیثیں  ہیں  مجھے ان کی

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

  دارالافتاء جامعۃ الرشید

      23/11/1443ھ

n

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔