021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
زکوة میں قیمتِ فروخت کا اعتبارہے
77163زکوة کابیانسونا،چاندی اور زیورات میں زکوة کے احکام

سوال

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

  30گرام سونے کی قیمت اگر موجودہ قیمت کے لحاظ سے 115000ہو اورمیں ایک سال مکمل ہونے پراسی115000 کے حساب سے  اڑھائی فیصد زکوة دیدوں تو کیا دوسرے سال پھر مجھے پورے 30 گرام  کی قیمت اس وقت کے حساب سے لگانی پڑے گی؟ اورجو مالیت اس وقت کے لحاظ سے بنتی ہے اس پر زکوة دینا ہوگی ؟ فرض کریں کہ اگر قیمت بڑھ گئی ہو اور120000ہوگئی ہو تو کیا اب مجھے 115000پر زکوة دینا ہوگی یا 30گرام کی از سرِ نو جو قیمت اس وقت بنتی ہےیعنی 120000 اس کے حساب سے زکوة دینا ہوگی ؟

o

 زکوة میں قیمتِ خرید کا اعتبار  نہیں ، بلکہ  قیمتِ فروخت کا اعتبار ہے،  یعنی زکاۃ نکالتے  وقت بازار میں  اس سونے کی جوبھی  قیمتِ فروخت ہوگی اسی کے اعتبارسے اڑھائی فیصدکے حساب سے زکوۃ  ادا کی جائے گی ۔پھراس سے اگلے سال جو قیمت ہوگی اس کے حساب ادا کی جائے گی  الخ۔

حوالہ جات

وفی الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار/ 286)
(وجاز دفع القيمة في زكاة وعشر وخراج وفطرة ونذر وكفارة غير الإعتاق) وتعتبر القيمة يوم الوجوب، وقالا يوم الأداء. وفي السوائم يوم الأداء إجماعا، وهو الأصح، ويقوم في البلد الذي المال فيه .
 حاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 286)
 (قوله وهو الأصح) أي كون المعتبر في السوائم يوم الأداء إجماعا هو الأصح فإنه ذكر في البدائع أنه قيل إن المعتبر عنده فيها يوم الوجوب، وقيل يوم الأداء. اهـ.
وفي المحيط: يعتبر يوم الأداء بالإجماع وهو الأصح اهـ فهو تصحيح للقول الثاني الموافق لقولهما، وعليه فاعتبار يوم الأداء يكون متفقا عليه عنده وعندها.

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

 دارالافتاء جامعۃ الرشید

  1/11/1443ھ

n

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔