021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
صابن سے کپڑے کو دھونا
76206پاکی کے مسائلنجاستوں اور ان سے پاکی کا بیان

سوال

اگر ناپاک کپڑے کو صابن سے دھوکرایک دفعہ نچوڑ لیا جائےتو کپڑا پاک ہوجائے گا یا تین دفعہ دھوکر نچوڑنا ضروری ہوگا؟

o

ناپاک کپڑے پر لگنے والی نجاسات دو طرح کی ہیں:

1: وہ نجاست اور ناپاکی اپنی ایک ظاہری وجود رکھتی ہو اور نظر بھی آرہی ہو، اس صورت میں کپڑے پر لگی ہوئی نجاست اگر ایک دفعہ دھونے سے بالکل ختم ہورہی ہو پھر تین دفعہ دھونے کی ضرورت نہیں ہے، اور اگر ایک دفعہ دھونے سے یہ نجاست ختم نہ ہورہی ہو تو اس صورت میں ناپاک کپڑے کو باربار  دھویا جائے یہاں تک کہ اس کپڑے سے  وہ نجاست بالکل ختم ہوجائے۔

2: اس نجاست کی کوئی ظاہری وجود نہ ہو اور دیکھنے میں نظر بھی نہ آرہی ہو،اس صورت میں ناپاک کپڑے کو تین دفعہ دھونا لازم ہے، اور ہر دفعہ دھونے کے بعد نچوڑنا بھی ضروری ہے۔

واضح رہے کہ پہلی صورت میں پہلی دفعہ صابن لگانے سے نجاست کے اثرات کے بالکل ختم ہونے پر کپڑا پاک ہوجاتا ہے اور اگر صابن لگانے کے بعد پھر بھی نجاست کا اثر کپڑے پر باقی رہتا ہے تو اس صورت میں محض صابن لگانے سے وہ کپڑا پاک نہیں ہوگا، بلکہ کپڑے کو نجاست کے ختم ہونے تک بار بار دھونا لازم ہوگا۔

دوسری صورت میں کپڑے کو بہر صورت تین دفعہ دھونا لازمی ہے خواہ پہلی دفعہ صابن سے دھویا ہو یا نہ دھویا ہو۔

حوالہ جات

 الفتاوى الهندية (1/ 41)
 وإزالتها إن كانت مرئية بإزالة عينها وأثرها إن كانت شيئا يزول أثره ولا يعتبر فيه العدد. كذا في المحيط فلو زالت عينها بمرة اكتفى بها ولو لم تزل بثلاثة تغسل إلى أن تزول، كذا في السراجية.وإن كانت شيئا لا يزول أثره إلا بمشقة بأن يحتاج في إزالته إلى شيء آخر سوى الماء كالصابون لا يكلف بإزالته. هكذا في التبيين وكذا لا يكلف بالماء المغلي بالنار. هكذا في السراج الوهاج.
الفتاوى الهندية (1/ 42)
وإن كانت غير مرئية يغسلها ثلاث مرات. كذا في المحيط ويشترط العصر في كل مرة فيما ينعصر ويبالغ في المرة الثالثة حتى لو عصر بعده لا يسيل منه الماء ويعتبر في كل شخص قوته وفي غير رواية الأصول يكتفي بالعصر مرة وهو أرفق. كذا في الكافي وفي النوازل وعليه الفتوى. كذا في التتارخانية والأول أحوط. هكذا في المحيط.

محمدنصیر

 دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

    تاریخ:27،جمادی الثانیہ، 1443ھ

n

مجیب

محمد نصیر ولد عبد الرؤوف

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے