021-36880325,0321-2560445

5

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ٹھیکہ  دلوانے پر اجرت  لینا
78892اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے جدید مسائل

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں:

کہ حکومتی مختلف کام جن کا تعلق عوام الناس سے ہے جیسے سڑکیں بنوانا، یا کوئی اور ایسا ٹھیکہ جو کوئی شخص لینا چاہتا ہومگر وہ خود نہ لے سکتا ہو بلکہ اس کے حصول کے لئے کسی کواپنا وکیل مقرر کرلے کہ آپ اپنے ذاتی  تعلق کی بنیاد پر کوشش کرکے یہ ٹھیکہ مجھے لے  کردیں اور کل رقم کا اتنا حصہ میں آپکو ادا کروں گا  ( جسکو وکیل مقرر کیا جارہا ہے وہ متعلقہ محکمہ کاکوئی فرد نہیں بلکہ ایک سول شخص ہے جسکا ذاتی تعلق متعلقہ محکمہ میں ہے) ۔

کیا یہ معاہدہ جائز ہے اور وکیل کا  یہ  رقم لینا درست ہے؟

o

  صورت مسؤلہ میں    حکومتی  ٹھیکہ  لینے کا امیدوار  شخص  جس  شخص   کو   سرکاری  ملازموں  سے  ٹھیکہ دلوانے کا کہتا ہے  ۔وہ شخص   اپنی  ذاتی  وجاہت کو استعمال کرتے ہوئے  سرکاری افسران  تک اس کا پیغام پہنچاتا ہے اور اسے ٹھیکہ  دلواتا ہے ۔اس  کی  شرعی حیثیت   سفارش کی ہےجبکہ  شریعت کی نظر میں  سفارش کی کوئی مالیت  نہیں ہے ۔  اس  لئے    اس پر کسی  قسم کی اجرت  لینا جائز  نہیں ہے ۔

حوالہ جات

امداد الفتاوی (7/298)
 لانہ لم ینقل  تقومہ، وتقوم المنافع بغیر القیاس  فما لم  ینقل لا یجوز القول  بتقومہ  وایضا فلا تعب فی الشفاعۃ  ولا یعطون الاجر علیھا من  حیث انہ عمل  فیہ مشقۃ  بل من حیث انھا مؤثرہ  بالوجاھۃ  والوجاھۃ وصف غیر متقوم  فجعلوا اخذ الاجر علیھا رشوۃ وسحتا.
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (4/ 192)
ومنها أن تكون المنفعة مقصودة يعتاد استيفاؤها بعقد الإجارة ويجري بها التعامل بين الناس؛ لأنه عقد شرع بخلاف القياس لحاجة الناس ولا حاجة فيما لا تعامل فيه للناس فلا يجوز استئجار الأشجار لتجفيف الثياب عليها والاستظلال بها؛ لأن هذه منفعة غير مقصودة من الشجر.

محمدنصیر

دارالافتاء،جامعۃ الرشیدکراچی

١٩/جمادی الآخره/ ١٤٤٤ھ

n

مجیب

محمد نصیر ولد عبد الرؤوف

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے