021-36880325,0321-2560445

بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ

ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ایک بیوی،چار بیٹیاں،پانچ بہنیں،تقسیم میراث
80687میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

2: کس وارث کا کتنا حصہ بنے گا؟ وارثین کی تفصیل درج ذیل ہے:

 عبد الجبار کے وارث: 4 بیٹیاں،بیٹاکوئی نہیں، 1 بیوی، 5 بہنیں(6 بہنیں تھیں جن میں سے 1 کا میت سے پہلے ہی انتقال ہوچکا۔ اب 5 حیات ہیں)بھائی کوئی نہیں،والدین کا انتقال ہو چکا ہے ▪️والد (میت) کےایک ہی چچا تھے جن کا انتقال ہوچکا ہے۔ ان کے دو بیٹے ہیں اور 3 بیٹیاں ہیں ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مرحوم نے  فوت ہوتے وقت  ترکہ میں جو کچھ چھوڑا  تھا وہ سب ورثہ میں شرعی طور پر تقسیم ہوگا،جس کی صورت یہ ہے کہ تمام مال واسباب کی قیمت لگائی جائے،اور اس سے کفن دفن کے معتدل اخراجات نکالے جائیں،پھر اگر میت پر قرضہ ہو تو وہ ادا کیا جائے،اگر انہوں نے وارث کے علاوہ کسی کے لیے وصیت کی ہوتو ایک تہائی سے وہ ادا کی جائے،اس کے بعد بقیہ مال  ورثہ میں تقسیم کیاجائے، میراث کی تقسیم اس طرح ہوگی:

1۔ بیوی کو 12.5 فیصد حصہ  ملے گا۔

2۔ہر بیٹی کو16.67 فیصد حصہ ملے گا۔تمام بیٹیوں کا مجموعی حصہ66.67فیصد ہوگا۔

3۔  ہر بہن کو4.17فیصد حصہ ملے گا۔ تمام بہنوں کا مجموعی حصہ20.83فیصد ہوگا۔

حوالہ جات
...

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

28/ذی الحجہ1444ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے